Chitral Times

Nov 29, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

موری پائین کے متاثرین سیلاب کی ابپاشی کے نظام کی بحالی کیلئےانتظامیہ کو 72 گھنٹوں‌ کی ڈیڈلائن

شیئر کریں:

چترال(نمائندہ چترال ٹائمز )موری پائین چترال کے گولین گول سیلاب کے متاثرین کی نمائندگی کرتے ہوئے کونسلررحمت وزیرخان،محمدنبی خان،قدردان شاہ،رحمت نادر،گل حیدر اوردیگرنے کہاہے کہ گولین گول سیلاب کے 21دن گزرنے کے بعدموری پائین آبپاشی کی پائپ لائن بحال نہ ہوسکی ۔ پائپ لائن سیلاب برد ہونے کی وجہ سے ابپاشی کاپانی ناپید ہے جس سے شدید مشکلات پیش آرہی ہیں ۔ چترال پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ اگر ابپاشی کا نظام بحال نہ ہوا تو ان کی رہی سہی معیشت برباد ہوکر رہ جائے گی کیونکہ سوفیصد گھرانوں کا دارومدار زراعت پر ہے اور فصلوں ، سبزیوں اور میوہ جات کے درختوں کے سوکھ جانے کی وجہ سے انہیں ناقابل تلافی نقصان لاحق ہوگا ۔
انھوں‌نےبتایا کہ ہزاروں پھلداردرخت سوکھنے کے ساتھ تقریباً چارہزار ایکڑ سے زیادہ رقبے پر کاشت مکئی سمیت دیگر فصلیں تباہ ہوگئیں ۔ اُنہوں نے علاقے کومزیدتباہی سے بچانے کے لئے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوامحمودخان اوردیگرمتعلقہ اداروں سے مطالبہ کرتے ہوئے فوری طورپرابپاشی کے نظام کوبحال کرنے کے لئے پائپ فراہم کرنے کی پرزور اپیل کی ۔ انہوں نے کہاکہ ہماری فصلیں تباہ ہونے کی وجہ سے جانوروں کا چارہ بھی نہیں جس کے باعث جانور بھی مر رہے ہیں ۔ پانی کامسئلہ دن بہ دن سنگین ہوتاجارہاہے جس سے علاقے میں غذائی قلت پیداہونے کاخطرہ بھی ہے ۔ جبکہ علاقے کے عوام نقل مکانی کرنے پرمجبور ہوگئے ہیں‌.

متاثرین موری پائین نے منتخب ایم این اے،ایم پی اے،ضلع ناظم اورتحصیل ناظم کی شدیدالفاظ میں مذمت کرتے ہو ئے اُن سے فوری مستعفی ہونے کامطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ منتخب نمائندے عوامی مسائل حل کرنے میں بُری طرح ناکام ہوچکے ہیں جو اس مشکل وقت میں عوامی مسائل حل نہیں کرسکتے تو ایسی نمائندگی کی ضرورت نہیں ہے ۔

انہوں نے کہاکہ محکمہ آبپاشی کو کسی بھی قدرتی ناگہانی صورت حال سے نمٹنے کے لئے ہمہ وقت تیاررہنا چاہیئے ۔ چترال کئی سالوں سے قدرتی آفات کے زد میں ہے ،جہاں جہاں پائپ لائن متاثرہوئے ہیں انہیں فوری طورپربحال کرکے عوام کی مشکلات میں کمی لائی جائے ۔ انہوں نے صوبائی حکومت اور ضلعی انتظامیہ کو 72گھنٹوں کی ڈیڈ لائن دیتے ہوئے کہا کہ اگر اُنہوں نے متاثرین کے مطالبے پرغورنہیں کیا توعوام مجبور اً خاندان سمیت سڑکوں پر نکل آئیں گے ۔


شیئر کریں: