Chitral Times

Dec 7, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

ٹرمپ جنگ کو ویڈیو گیم نہ سمجھیں۔۔!……..پیامبر………… قادر خان یوسف زئی

Posted on
شیئر کریں:

امریکی صدر ٹرمپ نے انتہائی متنازعہ بیان دیتے ہوئے کہا کہ ”وہ افغانستان کو ایک ہفتے میں تباہ کرکے صفحہ ہستی سے مٹا سکتے ہیں۔“صدرٹرمپ کے اس بیان پر انہیں سخت تنقید کا نشانہ بھی بنایا جارہا ہے۔ صدر ٹرمپ کو افغانستان کی ہزاروں برس کی تاریخ یاد کرائے جا رہی ہے کہ اسی ارمان کو چنگیز، انگریز اور سابق سوویت یونین اتحاد کے حکام قبر تک لے گئے،اس کے برعکس ان کی سلطنتیں روئے زمین سے مٹ چکی ہیں، مگر افغان ملت اب تک سربلند موجود اور زندہ ہیں۔ صدر ٹرمپ نہ جانے کیوں تاریخ کو بھلا بیٹھے کہ سرزمین افغانستان کو فتح کرنے کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوا۔ افغانستان کو تسخیر کرنے کے لئے کئی عالمی قوتوں نے کوششیں کیں، لیکن ان کے لئے افغانستان قبرستان بنا۔نیزامریکی صدر کو یہ سوچنا چاہیے تھا کہ اگر افغانستان کی جنگ اتنی آسان ہوتی تو امریکا افغانستان کے قبرستان سے باہر نکلنے کے لئے پاکستان سے بار بار مدد طلب نہیں کرتا۔ پاکستان نے اپنے محدود و بااثر وسائل کا استعمال کرکے امریکا کی واپسی کے لئے ایک سہولت کار کا کردار ادا کیا ہے۔ اس کی بھی بنیادی وجہ لاکھوں افغانوں کی میزبانی کا وہ قرض ہے جو پاکستان نے افغانستان کے کندھے پر رکھا ہے۔ افغانستان میں اگر پاکستان کی قربانیوں کا اعتراف نہ کرنے والے مجرمانہ روش اختیار کرتے ہیں تو افغان طالبان اور مثبت سوچ رکھنے والے افغان سیاسی رہنما،دانشور و عوام بھی اس بات کو اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ پاکستان نے افغان مہاجرین کو اپنے بھائیوں کی طرح رکھا، انہیں نقل وحرکت و کاروبار کے لئے ریاستی یا عوامی سطح پر کسی دشواری کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ صدر ٹرمپ کو ”پختون ولی“ کا مطالعہ ضرور کرنا چاہیے کہ افغانستان میں تعمیری و مثبت سوچ رکھنے والے سیاسی یا جہادی گروپ ہوں وہ پاکستان کی اسی وجہ سے قدر کرتے ہیں اور نامساعد حالات میں بھرپور ساتھ دینے پر احسان مند ہیں۔یہی وجہ ہے کہ تمام قیاس آرائیوں سے قطع نظر جب پاکستان قیام امن کے لئے افغان طالبان سے مذاکرات کا کہتا ہے تو وہ ’‘ پختون ولی“ کو مد نظر رکھتے ہوئے پاکستان کو انکار نہیں کرتے۔ وگر پاکستان اس وقت افغان طالبان کی نہ تو عسکری مدد کررہا ہے اور نہ ہی افغان طالبان کے ٹھکانے یا تربیتی کیمپ پاکستان میں ہیں۔ افغان طالبان کا واضح موقف رہا ہے کہ وہ پڑوسی ممالک کے ساتھ بردارنہ و اچھے سفارتی تعلقات رکھنے کا خواہاں ہے۔

اب اگر صدر ٹرمپ کے بیان کو سنجیدہ بھی لے لیا جائے تو کیا وہ واقعی ایسا کرسکتے ہیں، تو اس کا صرف مختصر جواب ہے کہ نہیں۔صدر ٹرمپ کے غیر سنجیدہ بیانات کو ویسے بھی عالمی منظر نامے میں سنجیدہ نہیں لیا جاتا پل میں تولہ پل میں ماشہ، جیسی فطرت رکھنے والے صدر ٹرمپ شمالی کوریا پر لفظوں کی ٹویٹر پر بڑی بڑی جنگیں لڑ چکے ہیں۔ لفظی جنگوں میں بھی صدر ٹرمپ کو سخت ندامت کا سامنا کرنا پڑا اور شمالی کوریا نے امریکی صدر کی ہر دہمکی پر اُس سے بڑھ کر جواب دیا۔ یہاں تک کہ شمالی کوریا کو زچ کرنے کی کوشش میں خود پسپا ہوگئے اور شمالی کوریا کے ساتھ مذاکرات کرنے پر مجبور ہوئے۔ حالیہ دنوں ایران کے خلاف بھی امریکی صدر کی شعلہ جولانی ٹویٹرز نے سوشل میڈیا کے ماحول کو کافی پرگندا کیا، لیکن ایران پر ہر طرف سے دباؤ بڑھانے کے باوجود امریکا بے بسی کی تصویر نظر آتا ہے۔ افغانستان میں 18برسوں سے کھربوں ڈالر جنگ کی آگ میں جھونکنے کے باوجود آج امریکا دنیا کو اپنی فتح کے جھوٹے ترانے سنانا چاہتا ہے لیکن اپنی قید میں رکھے جانے والے افغان طالبان کے رہنماؤں سے یہی امریکا دن رات نئے سیکورٹی معاہدے میں اپنی فتح لکھوانا چاہتا ہے لیکن ہزہمیت جب مقدر میں لکھی ہوئی ہے تو اس کو کس طرح بدلا جاسکتا ہے۔

پہلی اور دوسری جنگ عظیم کی تباہ کاریاں ہوں یا پھر امریکا کی ویتنام کی تاریخ لکھیں تو امریکا کی شکست شہ سرخی سے لکھی جائے گی۔ عراق، شام،،لیبیا میں امریکی سازشیں ہوں تو کبھی بھی امریکا کو فاتح قرار نہیں دیا جائے گا بلکہ سر نامہ میں امریکا کے سازشی کردار کا ہی ذکر ہوگا۔ امریکی سائنس دان آئن اسٹائن، جس نے امریکا کے ایٹمی پروگرام پر بہت کام کیا تھا، اس سے دوسری جنگ عظیم کے بعد کسی نے پوچھا کہ جناب! تیسری جنگ عظیم کیسی ہو گی؟ تو انہوں نے کہا تھا ”تیسری جنگ عظیم کا تو مجھے علم نہیں لیکن چوتھی جنگ عظیم تلواروں اور ڈنڈوں سے ہوگی“۔ امریکا شاید اپنے سائنس دان کے اشارے کو سمجھ جائے کہ موجودہ حالات میں صدر ٹرمپ امریکا کو جنگ کے اُس دہانے پر بار بار لے جاتے ہیں جہاں پوری دنیا کے کروڑوں انسانوں کی زندگیوں کو خطرہ اور کئی ممالک کے صفحہ ہستی سے مٹنے کے سو فیصدی امکانات موجود ہیں۔لہذا امریکی صدر ٹرمپ کو افغانستان کی 18برسا جنگ سے عبرت حاصل کرنی چاہیے کہ اس بے مصرف و فضول جنگ میں امریکا نے اپنی عوام کو کتنا نقصان دیا ہے۔
پاکستان خطے میں قیام امن کے لئے اپنا مثبت کردار ادا کرتا رہا ہے۔ یہاں یہ کہنا کہ پاکستان پہلے احترام نہیں کرتا تھا، احسان فراموشی کی سب سے بڑی مثال ہے۔ پاکستان نے1978سے جس آج تک امریکا کو واحد سپر پاور بنانے کے لئے جو اجتہادی غلطیاں کیں ہیں اس کا خمیازہ پاکستان آج تک بھگت رہا ہے۔ اس کے باوجود امریکی صدر کا افغان امن عمل پر بیان زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔ جس طرح پاکستان آج غیر جانبدار ملک کی حیثیت سے دنیا میں اپنے مقام بنا رہا ہے اگر 40برس پہلے پاکستان کی پالیسی یہی ہوتی اور پرائی جنگ کو اپنی جنگ نہ بناتا تو پڑوس میں جلنے والے گھروں سے اٹھنے والی چنگاری سے اپنا گھر کبھی نہیں جلتا اور امریکا اس وقت واحد سپر پاور (تھانیدار) نہ بنا ہوتا۔ سرخ ریچھ جس تیزی سے بڑھتا تو آج سوویت یونین کے بجائے یونائٹیڈ اسیٹیٹ آف امریکا کا شیرازہ بکھر چکا ہوتا۔امریکا کی آج کی طاقت و مصنوعی بالادستی صرف لفاظی ہیں، اب امریکا کے مقابل دو بڑے بلاک بنے ہوئے ہیں اور امریکا کو من مانی کرنے سے روکنے کی بھرپور قوت بھی رکھتے ہیں۔ امریکی صدر نے افغانستان کا نام لے کر دراصل ایران، شام، روس اور ترکی سمیت یورپی یونین کے کئی ممالک کو براہ راست دہمکی دی ہے کہ امریکا کسی بھی ملک کو صفحہ ہستی سے مٹا بھی سکتا ہے اور کروڑوں انسانوں کی جان بھی لے سکتا ہے۔ یہ دہمکی افغان طالبان یا افغانستان کے لئے نہیں بلکہ پوری عالمی برداری کو دیا گیا ہے کہ امریکا اپنے مفادات کے لئے کسی بھی حد تک جاسکتا ہے۔

کسی بھی جنگ کا آخری حل مذاکرات ہی ہوتے ہیں۔ کوئی جنگ صرف جنگ سے نہ جیتی جاتی اور نہ کسی کو ہرایا جاسکتا ہے۔ کیونکہ جب کسی بھی ملک پر جنگ مسلط کی جاتی ہے تو وہ کسی فورس کی نہیں بلکہ اس مملکت کی عوام کی جنگ بن جاتی ہے۔ اُس سرزمین کے عوام جارحیت پسندوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوتے ہیں اور پھر اُس کا یہی حشر ہوتا ہے جو اب افغانستان میں امریکا کے ساتھ ہورہا ہے۔ امن پسندوں کو امریکی صدر کے پُرتشدد و بھیانک دہمکی پر سوچنا چاہے۔ صدر ٹرمپ افغانستان سے دیئے گئے محفوظ راستے سے جتنے جلدی ہوسکے واپسی کا اعلان کرے۔ افغانستان کی سرزمین میں امریکا جتنا رکے گا، اتنا ہی جانی ومالی نقصان بڑھتا جائے گا اور اس کا سراسر نقصان امریکا کو ہی ہوگا۔ دوحہ مذاکرات کے سات دور مکمل ہوچکے ہیں، خصوصی معاون زلمے خلیل زاد اور امریکی حکام افغان طالبان کا موقف اچھی طرح جان چکے ہیں۔ اپوزیشن سیاسی رہنماؤں اور افغان طالبان کے درمیان بھی مستقبل کی حکومت کے لئے لائحہ عمل اسی وقت دیرپا ہوسکتا ہے جب امریکا اپنی افواج کا انخلا افغانستان سے کرلے۔ افغانستان کو صفحہ ہستی سے مٹانے کے خواب دیکھنا چھوڑ دیں، کیونکہ یہ جنگ ہے کوئی ویڈیو گیم نہیں۔۔


شیئر کریں: