Chitral Times

Dec 3, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

پختونخوا میں 40 فیصد بچے نامکمل نشونما کے مسئلے کا شکار ہیں، قومی غذائی سروے

Posted on
شیئر کریں:

پشاور(چترال ٹائمزرپورٹ) قومی غذائی سروے 2018 کے نتائج کا صوبائی سطح پر غیر رسمی طور پر اعلان خیبر پختون خواہ حکومت کی جانب سے ایک تقریب کے دوران کیا۔ سروے کا انعقاد وزارت صحت نے کیا جبکہ معلومات جمع کرنے کا کام آغا خان یونیورسٹی نے حکومت برطانیہ کی مالی معاونت اور یونیسیف کی تکنیکی مدد سے مکمل کیا گیا۔ سروے کے نتائج کے مطابق صوبے میں ہر دس میں سے چار، پانچ سال یا اس سے کم عمر کے بچے نامکمل نشونما کے مسئلے کا شکار ہے جب کہ ہر دس میں سے دو بچے جسمانی کمزوری کا شکار ہیں۔ اس کے علاوہ سروے کے نتائج یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ پانچ سال سے کم عمر کے بچوں میں سے بیس فیصد بچے وزن کی کمی کا شکار ہیں جبکہ 10فیصد بچے وزن کی زیادتی کا شکار ہیں۔ تقریب کے مہمان خصوصی سیکرٹری ہیلتھ خیبر پختونخوا ڈاکٹر سید فاروق جمیل تھے جبکہ دیگر شرکامیں ڈی جی ہیلتھ خیبر پختون خواہ ڈاکٹر محمد ارشد، سیکرٹری شعبہ منصوبہ بندی و ترقی خیبر پختونخواہ عاطف رحمان، ڈاکٹر تاج الدین نمائندہ یونیسیف کے علاوہ دیگر سرکاری اور سماجی اہم شخصیات نے شرکت کی۔ اس موقع پر تقریب کے مہمان خصوصی سیکرٹری ہیلتھ خیبر پختون خوا ڈاکٹر سید فاروق جمیل نے کہا کہ خاطر خواہ خوراک تک رسائی بنیادی انسانی حقوق میں شامل ہے اور یہی انسانی صحت و تندرستی اور قومی ترقی کی بنیادی شرط بھی ہے اور حکومت اس بات سے بخوبی واقف ہے کہ غذائی قلت جیسے اہم مسائل کا حل اہم ترین کاموں میں سے ایک ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ غذائی قلت جیسے مسئلے کے حل کے لیے سب کو مل جل کر کام کرنا ہوگا اور مسلے کے پائیدار حل کے لیے حکومت تمام موثر اقدامات اٹھائے جن کی مدد سے غذائی مسائل کے شکار لوگوں کو ان کے غذائی حقوق فراہم کیے جا سکیں گے۔ اس موقع پر یونیسیف کے نمائندہ ڈاکٹر تاج الدین نے کہا کہ غذائی کمی کے خطرناک نتائج سے نمٹنے کے لئے نہ صرف ہمیں وسیع پیمانے پر اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے بلکہ مختلف شعبہ جات جیسے زراعت، خوراک، تعلیم، سماجی تحفظ، آبی وسائل، صحت اور دیگر میں بھی بہتری کی اشد ضرورت ہے۔اس موقع پر اسپیشل سیکرٹری شعبہ منصوبہ بندی و ترقی خیبر پختونخواہ نے کہا کہ غذائی صورتحال میں بہتری لانے سے معاشی اور سماجی فوائد میں اضافہ ہوگا کیونکہ یہ مسئلہ حل ہونے سے بیماریوں اور اموات کی شرح میں کمی لائی جاسکتی ہے اور اس سے لوگوں کے معیار زندگی میں بہتری آئے گی۔


شیئر کریں: