Chitral Times

Dec 1, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

وزیراعلیٰ‌کی سکولوں سے باہر بچوں کو زیادہ سے زیادہ سکول میں داخل کرانے کی ہدایت

Posted on
شیئر کریں:

پشاور(چترال ٹائمزرپورٹ ) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے محکمہ تعلیم کو صوبے میں سکولوں سے باہر بچوں کو زیادہ سے زیادہ سکول میں داخل کرانے کے لئے اقدامات مزید تیز کرنے کی ہدایت کی ہے اور واضح کیا ہے کہ ابتدائی و ثانوی تعلیمی نظام میں مثبت اصلاحات لائی جائیں گی۔ انہوں نے صوبے میں تعلیم کے فروغ کیلئے پرائیویٹ سیکٹرکے تعاون کی تائید کی ہے ۔ انہوں نے موجودہ قانون کے مطابق شفاف طریقے سے اقراءفروغ تعلیم ووچر سکیم کے بورڈ میں نئے ممبر کی تعیناتی کی ہدایت کی ہے۔ وزیراعلیٰ نے مختلف بورڈز میں پوزیشن ہولڈرز کی حوصلہ افزائی کیلئے طلباءکو انعامات دینے کی تجویز سے بھی اتفاق کیا ہے۔ وہ وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ پشاور میں اقراءفروغ تعلیم ووچر سکیم کے حوالے سے اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔ مشیر تعلیم ضیاءاللہ بنگش،وزیراعظم کے معاون خصوصی افتخار درانی ، وزیراعلیٰ کے مشیر اجمل وزیر، سیکرٹری ابتدائی و ثانوی تعلیم،منیجنگ ڈائیریکٹر ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن فاو ¿نڈیشن اور دیگرمتعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس کو محکمہ ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن کی کارکردگی کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ وزیراعلیٰ کو بتایا گیا کہ میٹرک امتحانات میں سرکاری سکولوں کے نتائج میں کافی بہتری آئی ہے جبکہ محکمہ سکولوں سے باہر بچوں کو سکولوں کے اندر لانے پر خصوصی کام کر رہاہے۔ وزیراعلیٰ نے سکولوں میں اساتذہ کی سو فیصد حاضری یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ معیاری تعلیم کا فروغ صوبائی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہےں۔ وزیراعلیٰ نے اقرا فروغ تعلیم ووچر سکیم کے تحت پرائیویٹ سیکٹر سے بھر پور استفادہ لینے کی ہدایت کی ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ بچوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کیا جاسکے۔ وزیراعلیٰ نے اقرا فروغ تعلیم ووچر سکیم کے بورڈ کو مزید بہتر بنانے کیلئے طریقہ کار وضع کرنے کی بھی ہدایت کی ہے اور واضح کیا ہے کہ میرٹ اور شفافیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائیگا۔ وزیراعلیٰ کا مزید کہناتھاکہ صوبائی حکومت تمام سرکاری محکموں پر کام کر رہی ہے جبکہ بہت جلد تمام محکموں کو شیڈول جاری کیا جائیگا جس کے ذریعے ہر محکمہ ہفتہ وار کارکردگی رپورٹ حکومت کو پیش کرے گا۔ وزیراعلیٰ نے محکمہ تعلیم میں پوسٹنگ ٹرانسفر پالیسی کی تائید کی ہے اور واضح کیا ہے کہ کارکردگی اور میرٹ کو مدنظر رکھ کر ٹرانسفر پوسٹنگ کی جائیگی۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ تعلیم میں اصلاحات لارہے ہیں جس سے محکمہ کی کارکردگی مزید بہتر ہو جائیگی ۔ انہوں نے سکولوں میں زیادہ سے زیادہ بچے داخل کرنے اور ان کو معیاری تعلیم دلانے کیلئے سیکنڈ شفٹ شروع کرنے کی تجویز سے بھی اتفاق کیاہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ قوموں کی ترقی کا راز تعلیم میں مضمرہے۔ صوبائی حکومت تعلیم کے شعبے میں جدت اور بہتری لانے کیلئے تمام ممکن اقدامات اٹھا رہی ہے تاکہ صوبے میں تعلیم کو فروغ مل سکے۔
<><><><><>

عوام کی ستر سالہ محرومیوں کا خاتمہ ہو چکاہے………وزیراعلیٰ‌
پشاور(چترال ٹائمزرپورٹ ) عوام کی ستر سالہ محرومیوں کا خاتمہ ہو چکاہے۔ یہاں سے جاری ایک بیان میں محمود خان نے واضح کیا ہے کہ دس ماہ کے قلیل عرصے میں تحریک انصاف کی صوبائی حکومت نے اپنے وسائل سے قبائلی اضلاع میں اہم ترین منصوبے کا آغاز کیا ہے۔ جس سے قبائلی اضلاع کے عوام کو موجودہ حکومت کی ترجیحات کا واضح اندازہ ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 28000خاصہ دار اور لیویز اہلکاروں کے صوبائی پولیس میں انضمام سے صوبائی حکومت نے در اصل قبائلی اضلاع کے 28000خاندانوں کو ذریعہ معاش فراہم کیا ہے۔ جبکہ قبائلی اضلاع تک صحت سہولت پروگرام کی توسیع سے ان اضلاع میں بسنے والے عوام کو مفت صحت سہولیات فراہم کی جاچکی ہےں۔ انہوں نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت کو ان اضلاع کی محرومیوں کا بخوبی اندازہ ہے اور اسی وجہ سے ان اضلاع کی ترقی صوبائی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے مزید کہا ہے کہ قبائلی اضلاع کے نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم کرنے کیلئے بلاسود قرضے فراہم کئے جارہے ہیں جس کی بدولت نوجوان نسل اپنے مستقبل کو خود سنوارسکے گی۔ وزیراعلیٰ نے واضح کیا ہے کہ دہشت گردی اور تاریکی کا دور ختم ہو چکاہے او راب ہمارے سامنے ترقی کے بے پناہ مواقع میسر ہےں۔ وزیراعلیٰ نے کہا ہے کہ آنے والے دس سال قبائلی اضلاع کی ترقی اور خوشحالی کا دور ہو گا جس میں ترقیاتی منصوبوں پر سو ارب روپے خرچ کئے جائیں گے۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ تمام ترقیاتی منصوبوں کی نشاندہی قبائلی عوام کی مشاورت سے کی گئی ہے اور ترقی کے اس سفر میں عوامی ترجیحات کو ہر صورت فوقیت دی جائیگی۔ محمود خان نے کہا کہ قبائلی عوام کے لئے یہ امرنہایت خوش آئندہے کہ تاریخ میں پہلی مرتبہ قبائلی عوام کو صوبائی اسمبلی میں نمائندگی دینے کےلئے انتخابات کا انعقاد کیا جارہا ہے۔ اس طرح قبائلی عوام اپنے نمائندوں کے ذریعے اپنی ترقی اور فلاح کے فیصلوں میں براہ راست شریک ہو سکےںگے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی اسمبلی میں قبائلی عوام کی نمائندگی سے ایک طرف ان کے احساس محرومی کا خاتمہ ہو گا اور دوسری طرف قبائلی اضلاع کی ترقیاتی منصوبہ بندی کا عمل بھی مزید مو¿ثر اور نتیجہ خیز ہو گا کیونکہ قبائلی اضلاع کے مقامی نمائندے وہاں کے مسائل ، ضروریات اور مشکلات کے حل کے لیے خود آواز بلند کر سکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اب قبائل کی پس ماندگی ماضی کا حصہ بن جائے گی ، نئے اضلاع کی تیز تر ترقی و خوشحالی اس وقت مرکزی اور صوبائی حکومت کی ترجیحات میں سرفہرست ہے ، جس پر ابھی تک سمجھوتہ کیا ہے اورنہ آئندہ سمجھوتہ کریں گے۔
<><><><><><><><><>
وزیراعلیٰ‌کی لوئر اورکزئی میں چھت گرنے سے 8 بچوں کے جان بحق ہونے پر انتہائی دکھ کا اظہار
پشاور(چترال ٹائمزرپورٹ )وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے لوئر اورکزئی میں چھت گرنے سے 8 بچوں کے جان بحق ہونے پر انتہائی دکھ کا اظہار کیا ہے اپنے تعزیتی پیغام میں وزیراعلیٰ نے سوگوار خاندانوں سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا ہے ۔ دریں اثناءوزیراعلیٰ نے لوئر دیر میں دو کمسن بچیاں خوڑمیں ڈوب کر جان بحق ہونے پر بھی انتہائی دکھ کا اظہار کیا ہے اپنے تعزیتی پیغام میں وزیراعلیٰ نے اس سانحہ میں جان بحق ہونے والے بچیوں کے غمزدہ لواحقین سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا ہے اور ان کے لئے صبرواستقامت کی دعا کی ہے۔
<><><><><><>


شیئر کریں: