Chitral Times

Nov 28, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

وزیراعلیٰ‌کی چترال میں‌گلاف اوردیگراضلاع میں‌سیلابی پانی پرچوبیس گھنٹے نظررکھنے کی ہدایت

شیئر کریں:

پشاور(چترال ٹائمزرپورٹ ) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے صوبہ میں جاری بارشوں سے پید اصورتحال کے تناظر میں چترال میں گلاف اور دیگر اضلاع بشمول کوہستان ، سوات، اپردیر اور بونیر میں دریاو وں اور نالوں میں سیلابی پانی پر چوبیس گھنٹے نظررکھنے کی ہدایت کی ہے ۔ انہوں نے تمام کنٹرول رومز چوبیس گھنٹے فعال رکھنے اورانہیں ہر صورتحال سے آگاہ رکھنے کی بھی ہدایت کی۔ یہاں سے جاری خصوصی ہدایات میں وزیراعلیٰ نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ ، ایریگیشن اور سی اینڈ ڈبلیوکی ٹیمیں تمام علاقوں کابذات خود دورہ کریں۔ دور افتادہ علاقوں اور پہاڑوں میں مکینوں پر خصوصی توجہ دیں۔انہوں نے ہدایت کی کہ محکمہ ریلیف اور پولیس لوگوں تک کسی بھی خطرے کی پیشگی اور بروقت اطلاع کو یقینی بنائیں۔ مون سون کے دوران متعلقہ ادارے چھٹیاں منسوخ کریں اور سٹاف کی موجودگی یقینی بنائیں۔ وزیراعلیٰ نے واضح کیاکہ بحالی کے کام میں کوئی غفلت برداشت نہیں کی جائیگی۔ ریسکیو 1122 اور محکمہ صحت ہائی الرٹ رہےں ۔محمود خان نے اس موقع پر میڈیا کی ذمہ دارانہ رپورٹنگ کا شکریہ بھی ادا کیا ۔
<><><><><>

ضم شدہ اضلاع میں انتخابات کے سلسلے میں وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ پشاورمیں ایمرجنسی کنٹرول روم قائم
پشاور(چترال ٹائمزرپورٹ ) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان کی خصوصی ہدایت پر ضم شدہ اضلاع میں ہونے والے انتخابات 2019 ءکے دوران کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ پشاور میں ایمرجنسی کنٹرول روم قائم کر دیا گیا ہے۔کنٹرول روم 19 جولائی شام پانچ بجے سے لے کر 21 جولائی شام پانچ بجے تک چوبیس گھنٹے بلا تعطل فرائض انجام دے گا۔کنٹرول روم میں دن اور رات کی شفٹوں کیلئے علیحدہ علیحدہ سٹاف تعینات کیا گیا ہے جس کا باضابطہ اعلامیہ جاری ہو چکا ہے۔وزیراعلیٰ نے کنٹرول روم کو انتخابات کے دوران خدمات اور سہولیات کی فراہمی کے ذمہ دار تمام محکموں کے ساتھ مستقل رابطہ رکھنے کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ضم شدہ اضلاع میں پر امن انتخابات کا انعقاد حتمی ہدف ہونا چاہئے جس کیلئے صوبائی حکومت بھر پور تعاون کرے گی ۔ اس مقصد کیلئے تمام متعلقہ اداروں اور محکموںکو اعلیٰ سطح کی پیشہ ورانہ ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ محمود خان نے کنٹرول روم کو ہمہ وقت چوکس رہنے کی ہدایت کی ۔ انہوں نے کہا کہ کنٹرول روم متعلقہ اداروں کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے نمٹنے کیلئے فوری اقدامات اٹھائے جا سکیں۔

<><><><><>

وزیراعلیٰ کی پٹرول پمپس /سی این جی سٹیشن پر صفائی کے انتظاما ت کی مانیٹرنگ جاری رکھنے اور مزید بہتر بنانے کی ہدایت۔
تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز کیطرف سے صفائی ستھرائی مہم کے حوالے سے تین ماہ کی رپورٹ جاری ۔

پشاور(چترال ٹائمزرپورٹ ) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے کہا ہے کہ صوبہ بھر بشمول قبائلی اضلاع میں کلین اینڈ گرین پاکستان مہم کی بدولت خیبرپختونخوا کو پاکستان میں ایک ماڈل صوبہ بنایا جائیگا ۔ وزیراعلیٰ محمود خان کی خصوصی ہدایات کی روشنی میں صوبہ بھر میںقائم پٹرول پمپس اور سی این جی اسٹیشنز میں صفائی ستھرائی کے معائنے اورصفائی کے ناقص انتظامات پر متعلقہ پٹرول پمپس و سی این جی سٹیشز کے مالکان کے خلاف قانونی کاروائی کی سہ ماہی رپورٹ کیمطابق تین ماہ میں ضلعی انتظامیہ کی جانب سے 2,146 انسپکشنز کئے گئے جس کے نتیجے میں 1,746 پٹرول و سی این جی پمپس کی حالت بہتر ہوئی ہے جبکہ 400پٹرول و سی این جی پمپس کی صفائی کے انتظامات ناقص رہے۔ اپریل کے مہینے میں ناقص انتظامات پر 155پٹرول پمپس و سی این جی سٹیشنز کو شوکاز نوٹس جاری ہوئے ،جبکہ مئی کے مہینے میں 115اور جون کے مہینے میں 126پمپس کو شوکاز نوٹس جاری ہوئے۔ جون کے مہینے میں کل 65پمپس پر جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔65پٹرول پمپس و سی این جی سٹیشنز سے جرمانے کی مد میں کل 15لاکھ 84ہزار8سو روپے وصول کئے گئے ہیں۔ماہانہ رپورٹ کے مطابق قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں سے اپریل کے مہینے میں 5لاکھ 64ہزار5سو روپے، مئی میں 4لاکھ80ہزار اور جون میں 5لاکھ40ہزار 3سو روپے وصول کئے گئے۔ اپریل کے مہینے میں سب سے زیادہ انسپکشنز ضلع چارسدہ میں کرائے گئے رپورٹ کے مطابق چارسدہ میں کل 94 اور دوسرے نمبر پر قبائلی ضلع مہمند میں 80انسپکشنز ریکارڈ کئے گئے ہیں۔اسی طرح مئی کے مہینے میں ضلع بنوں میں 91اور دوسرے نمبر پر سوات میں 70انسپکشنز کئے گئے ہیں۔ماہ جون کی رپورٹ کے مطابق ضلع ملاکنڈ میں سب سے زیادہ52اور دوسرے نمبر پر ضلع سوات میں 45انسپکشنز کئے گئے ہیں۔ تین ماہ کی رپورٹ کے مطابق ماہ اپریل اور مئی کے مقابلے میں جون کے مہینے میں پٹرول پمپس و سی این جی سٹیشن میں صفائی ستھرائی کی حالت بہتر ہوئی ہے۔ وزیراعلیٰ نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ صفائی و ستھرائی کا معمول برقرار رکھنے کےلئے مانیٹرنگ کا عمل جاری رہنا چاہئیے بلکہ اسے مزید بہتر اور مو ¿ثر بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ مذکورہ مہم کا مقصدعوام کو سہولیات فراہم کرنا اور ناقص صفائی کے حوالے سے عوامی شکایات کا ازالہ کرنا ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ صوبے کے تمام اضلاع میں صفائی کا بہترین انتظام یقینی بنانے کے لئے اقدامات جاری رکھے جائیں۔
<><><><><>


شیئر کریں: