Chitral Times

Mar 26, 2023

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

ًًًًمچھلی کی شکارپر پابندی عائد، چترال کے مختلف دریاوں‌میں مچھلی کی شکارکیلئے زہریلی گیس کا استعمال

Posted on
شیئر کریں:

پشاور(چترال ٹائمزرپورٹ)فشریز آرڈیننس 1961 کی شک 8 شیڈول 1 کے تحت یکم جون 2019 سے 31 اگست 2019 تک بریڈنگ سیزن کے باعث مچھلیاں پکڑنے پر پابندی ہے مذکورہ مدت کے دوران مچھلیاں پکڑنے اور فروخت کرنے پر بھی پابندی ہے تاہم بعض افراد مچھلیاں پکڑنے کے لیے غیر قانونی ذرائع جن ہیں الیکٹرک کرنٹ، زہر،دھماکے اور جال وغیرہ کا استعمال شامل ہے جس سے مچھلیوں کی نسل کے خاتمے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے نظامت جنرل فشریز پشاور نے صوبے کے تمام ڈپٹی کمشنر ز خیبر پختونخوا اور تمام ڈسٹرکٹ پولیس افسران سے درخواست کی ہے کہ مغربی پاکستان فشریز آرڈیننس 1961 کی شک 18 اور 1973 میں اس کی ترمیم کے تحت تمام اضلاع میں پولیس سٹیشن کے انچارج صاحبان کو محکمہ فشریز کے نمائندوں کو تمام ضروری امداد کی فراہمی کے لیے ہدایات جاری کی جائے۔

fishing chitral2
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ چترال کے مختلف علاقوں میں چترال کے چند گروح مچھلیوں کی نسل ختم کرنے پر تلی ہوئی ہے۔ عید شاہدین کے مطابق یہ طبقہ لوئر چترال سے اپر چترال کے مختلف علاقوں میں مچھلی کی نسل کشی پر تلی ہوئی ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ لوگ مچھلی پکڑنے کیلئے زوردھماکے، جال اورالیکٹرک کرنٹ کے ساتھ ایک نیا طریقہ سیلنڈرگیس کا استعمال کررہے ہیں جن سے ہزاروں مچھلی ایک ہی دفعہ ہلاک ہوجاتے ہیں۔

عین شاہدین کے مطابق یہ لوگ گیس سیلنڈر کو کھول کر دریا میں چھوڑ دیتے ہیں۔اورگیس کی اخراج سے کئی میلوں تک مچھلی ہلاک ہونے کے اطلاعات ہیں۔ چند مہینے پہلے بھی چترال کے مختلف علاقوں سے دریا مستوج، تورکہو، موڑکہو میں مچھلیوں کی کثیر تعداد میں ہلاکت کی خبریں گردش کررہی تھی جوکہ گیس سیلنڈر کے استعمال کی وجہ سے بتائی گئی تاہم ستم ظریفی یہ ہے کہ محکمہ فشریز چترال ایک برائے نام دفتر ہے جنکی کارکردگی نہ ہونے کے برابر ہے۔ ان کی طرف سے مچھلیوں کی شکارکیلئے کوئی قواعد وضوابط جاری نہیں ہوتے اور ان کی طرف سے کہیں پر واچر رکھا گیا ہے۔ جس کی وجہ سے مچھلی کی نسل چترال سے ختم ہوتے جارہی ہے۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ چترال کے دریائے گرم چشمہ اور دریائے لاسپورمستوج میں ٹراوٹ مچھلی کی ایک اعلیٰ نسل پائی جاتی ہے۔ مگر مچھلیوں کی شکار کے شوقین مختلف غیر قانونی ذرائع کا استعمال کرکے ان کی نسل کشی جاری ہے۔ ان ذرائع میں جال، دھماکہ خیز مواد اور زہریلی گیس کا استعمال قابل ذکر ہے۔ جبکہ مچھلی کی شکار کیلئے راٹ کا استعمال چترال میں نہ ہونے کے برابر ہے۔ لہذامتعلقہ محکمہ کو چاہیے کہ وہ چترال کے مختلف دریاوں میں ان مچھلیوں کی افزائش نسل کیلئے خصوصی اقدامات کرے اور ان کی حفاظت کیلئے مختلف مقامات پر واچر تعینات کیا جائے۔ تاکہ شوق کے نام پر ان کی نسل کشی کو روکا جاسکے۔


شیئر کریں: