Chitral Times

Dec 5, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

آرکاری روڈ کا ٹھیکہ 62فیصد بیلو پرجاری، علاقے میں تشویش کی لہر، کام سوفیصد مکمل کرانے کا مطالبہ

Posted on
شیئر کریں:

گرم چشمہ (چترال ٹائمزرپورٹ ) گزشتہ روز لٹکوہ کے پسماندہ ویلی ارکاری میں علاقے کے عمائدین کا ایک اجلاس منعقد ہوا جس میں اس تشویش کا اظہار کیا گیا کہ ارکاری روڈ کی مرمت کے لئے حکومت وقت نے ڈیرھ کروڑ روپے کے فنڈز مختص کیے تھے تاہم ایک ٹھکیدار نے ریٹ باسٹھ (62) فیصد کم کرکے یہ ٹھیکہ لیا ہے جو سمجھ سے بالاتر ہے۔ انھوں‌نے کہاہے کہ ہم یہ بات سرکار خصوصا سی اینڈ ڈبلیو کی نوٹس میں لانا چاہتے ہیں کہ علاقے کے نمایندوں کا ایک نگران کمیٹی تشکیل دیا گیا ہے جو اس منصوبے کی نگرانی کرے گی اور مطلوبہ کام پورے کیے بغیر ٹھیکدار کو جانے نہیں دیا جائے گا۔

انہوں نے بھرپور مطالبہ کئے کہ پروجیکٹ بیلو کرنے کی وجہ سے جو رقم اس میں بچ جاتے ہیں وہ علاقہ ارکاری کا حق ہے اسے دوبار ٹینڈر کرکے علاقے کے خستہ حال پلوں کی مرمت کے لئے مختص کئے جائیں اور اس سلسلے میں ہم ایکسین سی اینڈ ڈبلیو کی نوٹس میں یہ بات لانا چاہتے ہیں کہ وہ باقی مندہ رقم کہیں اور خرچ نہیں کریں ۔

اہالیاں ارکاری اس بات پر متفق ہوئے کہ بعض انجینئرز کی مان مانیوں کے وجہ سے علاقہ لٹکوہ منصوبوں کا قبرستان بن گیا ہے مگر اب ایسا ہونے نہیں دیا جائے گا۔ اس لئے آج متفقہ طور پر ایک نگران کمیٹی تشکیل دیا گیا ہے جس میں نمایندگان ارکاری کے علاؤہ علاقہ لٹکوہ کے فرزندان شیر جہان ساحل اور انجینئر شیر جوان بھی شامل ہونگے جو پیمائش کے مطابق کام کی نگرانی کریں گے.انھوں نے محکمہ سی اینڈ ڈبلیو چترال کی ذمہ داروں‌سے مطالبہ کیا ہے کہ ہماری تشکیل کردہ کمیٹی سے رائے لیے بغیر ٹھیکہ دار کو فائنل چیک جاری نہ کریں، بصورت دیگر عدالت سے رجوع کیا جائے گا۔ کمیٹی کے دیگر ارکان میں کمیٹی چئیرمن ناظم عبدالمجید، شرف الدین، محمد رافی، گل بہار، عبدالکریم، نظام الدین ، پہلوان شاہ، مکرم شاہ، دولہ خان، ولی جان اور عبدوالرحمان شامل ہیں۔

اہالیاں ارکاری نے امید کا اظہار کیے ہیں کہ پی ٹی آئی کی ضلعی قیادت ان کے ساتھ بھر پور تعاون کرے گی۔ اور ضرورت پڑنے پر دیگر ضلعی اداروں سے بھی رجوع کیا جائے گا۔ مگر پروجیکٹ کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔


شیئر کریں: