Chitral Times

Aug 23, 2019

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • موبائل فون اور تہذیب کا خاتمہ…………. از قلم۔۔دلشاد پری بونی

    July 17, 2019 at 8:23 pm

    میں اکثر ان لمحوں میں کھو جاتی ہوں جب ہمارے گھروں میں لاژیک،کڑی یا کچھڑی پکتی تھی،مگر ماں باپ کے ساتھ دوزانو بیٹھ کر ہلکے پھلکے گپ شپ لگا کر کھانا کھانے کا مزا ہی کچھ اور تھا،یہی وجہ تھی کہ وہ کچھڑی بھی بریانی سے کم مزا نہی دیتی تھی۔یہ وہ وقت تھا جب کسی موبائل فون کسی ٹی وی کا آٓتہ پتہ نہی تھا۔ماں باپ کی نصیحت اقوال زرین کا درجہ رکھتے تھے۔یہ وہ وقت ہوا کرتا تھا جب معمولی سی تکلیف میں بھی لوگ ایک دوسرے کا ساتھ دیتے تھے،ایک دوسرے کو اپنے دل کا حال سنا کے دل کا بوجھ ہلکا کیا جاتا تھا۔اور غم پرسی اور دکھ درد کے ساتھی ایک دوسرے پہ جان نچھاور کرتے تھے۔اس وقت لوگوں کی زندگیاں کتنی سچی اور آسان تھی۔ٓایک موجودہ دور ہے۔یہاں تو انسان کی زندگی مشینی بن چکی۔نہایت افسوس کے ساتھ کہنا پڑرہا کہ لوگ کسی کے جنازے میں بھی موبائل فون کے ساتھ کھیلتے نظر آتے ہیں۔ٓاکثر سوشل میڈیا میں دیکھنے کو ملتی ہیں کہ جب کسی کی نانی یا نانا یا خاندان کا کوئی بزرگ فوت ہو جاتا ہے تو اس کا ماتم کرنے یا دعا تعزیت کرنے کی بجائے ٹھپ سے اسکی فوٹو یا ویڈیو بنا کے اپلوڈ کی جاتی ہے۔

    انگریز نے موبائل فون ایجاد تو کیامگر اس کا کبھی بے دریغ استمعال خود نہی کیا۔کیونکہ وہ اچھی طرح سمجھتا تھا کہ مسلمانوں کو ورغلانے اور دین سے دور کرنے کا واحد ذریعہ یہی ہے کہ ان کو ایسے مصنوعی پرزہ جات میں مصروف رکھا جائے یہی وجہ ہے کہ عبادت گاہوں میں لوگ سلام پھیرتے ہی موبائل ہاتھ میں اٹھاتے نظر آتے ہیں۔حالانکہ یہ وہ مقدس جگہ ہے جہاں بندے کا رشتہ صرف اور صرف اللہ پاک کے ساتھ ہوتا ہے۔دنیاوی کسی بھی چیز سے کوئی غرض نہی رکھنی چاہئیے۔ہم تو معاملات اور عبادات میں فرق بھی بھول چکے ہیں۔

    حدیث شریف میں ٓاتا ہے کہ,,مسلمان وہ جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے لوگ محفوظ ہو،،،۔مگر ہم لوگ تو ایکدوسرے کو نیچا دیکھانے کے لئے اس حد تک گر گئے ہیں کہ سوشل میڈیا میں دوسروں کی عزت اچھال کے بہت فخر سے اس کو اپنی حق آزادی رائے کہتے ہیں اور اس کام میں ذیادہ تر تعلیم یافتہ لوگ ملوث ہیں،بہتان،غیبت اور ہتک آمیزی کی کتنی بڑی سزا ملے گی کھبی سوچا ہے؟

    بوڑھے ماں باپ اولاد کو آوازیں دے دے کر تھکتے ہیں اور اپنے اولاد کے ایک رحم وکرم کے منتظر ہوتے ہیں مگر اولاد کی ساری توجہ موبائل پہ ہوتی ہے۔کھبی سوچا ہے کہ ماں باپ کے ساتھ گزارنے والا ایک ایک لمحہ قیمتی ہوتا ہے۔جب بھی کسی اہم ایشو پر بات ہو رہی ہوتی ہے تو اچانک کسی کا موبائل بچتا ہے تو وہ بات ہی ذہن سے نکلتی ہے اور اس محفل کا مقصد ہی بے معنی ہو جاتا ہے۔وہ خلوص اور محبت موبائل کی ایجاد نے نگل لئے۔ماں باپ اپنی دکھ درد اولاد کو سنانے کو ترس گئے ہیں۔اب تو کسی سے بات کرتے ہوئے بھی شرم محسوس ہوتی ہے کیونکہ آپ کے بات کی اتنی اہمیت نہی ہوتی جتنی اس کے ہاتھ میں پڑے موبائل کے مسیج کی ہوتی ہے۔

    اکثرفیس بک میں‌ دیکھاجاتا ہے کہ جب کوئی بڑے عہدے کا بندہ کسی غریب کی 50 روپے کی مدد کرتا ہے تو اپنے آپ کو لوگوں کی نظر میں اچھا ظاہر کرنے کے لئے فورآٓ اس غریب آدمی کے ساتھ پکچر بنا کے اپلوڈ کرتا ہے ۔ نیکی کر دریا میں‌ڈال والی بات تو بالکل ختم ہو گئی ۔نیکی بنا مطلب کے کسی کی مدد کرنے کا نام ہے نہ کہ دیکھاوے کا ۔ اگر کسی کی خلوص دل سے مدد کرنی ہے تو صرف اللہ پاک کی رضا کے لئے کی جائے ۔

    جب بھی کسی بھی ادارے کے دفتر میں ضروری کام سے جانا پڑتا ہے تو سامنے بیٹھے شخض کو آپ کی موجودگی اور سلام کرنے کا پتہ بھی نہی چلتا کیونکہ اسکی ساری توجہ اسکے موبائل پہ ہوتی ہے اور وہ موبائل کےمسئج پڑھ کے عجیب عجیب حرکت کرتا ہے کھبی اپنی آئی برو شمال میں کھینچتا ہے کھبی آئی برو جنوب میں کھینچتا ہے اور پاگلوں کی طرح ہنستا ہے ۔ جب اپنے موبائل سے ذرا سر اٹھائے تب اپکی موجودگی کا احساس ہوتا ہے ۔ اسطرح ہر حساس جہگوں اور دفترات میں لوگ موبائل سے کھیلتے نظر آتے ہیں۔ اسلئے ڈیوٹی اوقات میں موبائل فون کے استمعال پہ پابندی لگنی چاہئے ۔ ۔ ۔

  • error: Content is protected !!