Chitral Times

Aug 23, 2019

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • گولین کی تباہ شدہ سڑک اورپلوں کی فوری بحالی ہماری اولین اورمتفقہ مطالبہ ہے….متاثرین

    July 14, 2019 at 9:16 pm

    چترال (نمائندہ چترال ٹائمز) گزشتہ ہفتے چترال کے گولین وادی میں گلیشر کے پھٹ جانے کی وجہ سے آنے والا سیلاب (گلاف) سے تباہ شدہ سڑک اور پانچ مختلف مقامات پرگولین ندی کے اوپر پلوں کی بحالی کاکام سب سے ذیادہ غور طلب اورمتاثرہ عوام کا متفقہ مطالبہ ہے لیکن کام شروع ہونے کے کوئی قرائن دیکھائی نہیں دیکھ کر علاقے کے عوام پر شدید مایوسی طاری ہے جن کا کہنا ہے کہ سڑک کی بحالی سے تمام دوسرے مسائل بالواسطہ یا بلا واسطہ منسلک ہیں۔ گولین میں آغا خان ایجنسی فار ہیبیٹاٹ کی معاونت سے بوبکہ چترال پریس کلب کے زیر اہتمام منعقدہ “پریس فورم”میں اظہار خیال کرتے ہوئے متاثریں نے کہاکہ واپڈا کے ہائیڈروپاؤر پراجیکٹ کا ہیڈ ورکس اس علاقے میں قائم ہونے کی وجہ سے سڑک کی تعمیر بھی اس ادارے نے کی تھی لیکن واپڈا کے انجینئروں کی ناقص منصوبہ بندی، سروے اور ڈیزائن کی وجہ سے سیلاب نے وادی میں تباہی و بربادی برپا کردی۔ انہوں نے کہا کہ واپڈا کے بنائے ہوئے چاروں آر سی سی پل ناقص ڈیزائن کی وجہ سے کٹ آف ہوگئے اور بوبکہ کے مقام پر سڑک کی الائنمنٹ ندی کے اندر ہی رکھنے کی وجہ سے نقصان لاحق ہوا جس کی وجہ سے متاثرین کو نقصانات کا مکمل معاوضہ بھی اسی ادارے کی جانب سے ملنا چاہئے۔ متاثریں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیاکہ 108میگاواٹ کی پیدواری گنجائش کے بجلی گھر کی بندش سے ادارے کو روزانہ کے حساب سے کروڑوں روپے کا نقصان ہورہا ہے لیکن اس ادارے نے ابھی تک کوئی قدم نہیں اٹھانے کی زحمت بھی گوارا نہیں کی ہے اور نہ اس کام میں سنجیدہ اور مخلص ہے۔ متاثریں نے کہاکہ علاقے میں ابنوشی کے تمام منصوبے اور ابپاشی کی نہریں سیلاب برد ہونے کی وجہ سے پینے اور زراعت کاپانی ناپید ہے جس سے شدید مشکلات پیش آرہی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ اگر ابپاشی کا نظام بحال نہ ہو ا تو ان کی رہی سہی معیشت برباد ہوکر رہ جائے گی کیونکہ سوفیصد گھرانوں کا دارومدار زراعت پر ہے اور فصلوں، سبزیوں اور میوہ جات کے درختوں کے سوکھ جانے کی وجہ سے انہیں ناقابل تلافی نقصان لاحق ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ علاقے کا مقامی پن بجلی گھر کی سیلاب بردگی کے بعد علاقے میں اندھیروں کا راج ہے اور سولر لائٹس کی فوری ضرورت ہے۔ انہوں نے کہاکہ سڑک کی بندش کی وجہ سے گولین وادی کی صرف تین گاؤں ہی نہیں بلکہ سات کے سات گاؤں متاثر ہیں جہاں اشیائے خوردونوش کی قلت شروع ہوگئی ہے۔ پریس فورم میں متاثرین کی بڑی تعداد نے اپنے خیالات کا اظہار کیا جن میں علاقے سے سابق ممبر ضلع کونسل عبدالولی خان عابد ایڈوکیٹ اور علاقے کے عمائیدین ولی الرحمن، حجیب اللہ خان،عبدالعزیز، سرفراز شاہ، حمید اللہ، حضرت الدین، اعتبار شاہ، رحمت حسین اور دوسرے شامل تھے۔ انہوں نے متاثریں کو پہنچائے جانے والی سامان کی مقدار اور طبی امداد کی فراہمی پر قدرے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ اس میں الخدمت فاونڈیشن، چترال سکاوٹس، پاکستان ریڈ کریسنٹ سوسائٹی، ضلعی انتظامیہ، ریسکیو 1122، چترال پولیس اور دوسرے ادارے شکریئے کے مستحق ہیں۔ متاثرین نے وادی گولین کے لئے پیدل راستے کی بحالی کے لئے کیبل کار کی فراہمی پرآغا خان ایجنسی فار ہیبیٹاٹ کا بھی شکریہ ادا کرتے ہوئے اسی وجہ سے علاقے کے محصوریں کا باہر کی دنیاکے ساتھ رابطہ بحال ہوسکا ہے۔ متاثریں نے کہاکہ مستقل حل کے طور پر انہیں اس آفت زدہ علاقے سے دوسرے علاقوں میں منتقل کردئیے جائیں جہاں ان کی جان خطرے سے محفوظ ہوں جبکہ ان علاقوں کو آفت زدہ بنانے میں واپڈا ہی کا کردار ہے۔ انہوں نے گولین وادی کو آفت زدہ قرار دینے کا بھی مطالبہ کیا۔

  • error: Content is protected !!