Chitral Times

Aug 23, 2019

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • بعض لوگ شندور کا بیانیہ منافقت کے چادر میں لپیٹ کر پیش کرتے ہیں..شمس الحق نوازش

    July 13, 2019 at 9:01 pm

    گلگت(چترال ٹائمزرپورٹ) عین جشن شندور کے آمد کے ساتھ اور جشن شندور کے اختتام کے بعد اخبارات میں کچھ نادیدہ قوتیں عوامی حلقوں کے نام سے جعلی منسوب بیانات شائع کرواتے رہتے ہیں۔یہ لوگ شندور کا بیانیہ منافقت کے چادر میں لپیٹ کر پیش کرتے ہیں۔ شندور کے حوالے سے ان کے موقف کا پس منظر اور پیش منظر ایک دوسرے سے یکسر مختلف ہے۔ شندور ایشو کے بارے میں جب اسلام آباد میں بیٹھک ہوتا ہے تو اس وقت ان کا موقف سامنے آجاتا ہے کہ شندور گلگت بلتستان کا حصہ ہے، جب گلگت میں شندور کے ایشو کے حوالے سے بحث چھڑ جاتی ہے تو اس وقت یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ شندور صرف اور صرف غذر کا حصہ ہے، جب یہ غذر میں داخل ہوتے ہیں تو اپنی بستی میں جا کر سینہ تان کر کہتے ہیں کہ شندور صرف ایک ہی “قوم ولیئے”کا ہے اور باقی اپر غذر کے بیس(20)سے زائد قوموں اور قبیلوں کو یہ بالکل بے دخل قرار دیتے ہیں۔ یہ شندور کو اپنا حق جتاتے ہوئے صوبائی حکومت کو بھی نا اہلی کا طعنہ دیتے ہیں اور یہی لوگ مقامی انتظامیہ کو بھی بزدل، سست اور نالائقی کے القابات سے نوازتے ہیں۔
    اگر کبھی صوبائی حکومت یا ضلعی انتظامیہ اپر غذر کے تمام قوموں اور قبیلوں کے دو،دو نمائندوں کو اکٹھا کر کے اُن سے اُن کی رائے پوچھے تو تب پتہ چلے گا کہ کب سے یہی لوگ ترکول کو دودھ کا نام دے کر ساری دنیا کے آنکھوں میں دھول جھونک رہے ہیں۔

    واضح رہے شندور سمیت کھوکُش نامی نالہ جس کا رقبہ تقریباََ پھنڈر تحصیل کے رقبے سے بھی بڑا ہے۔ان لوگوں کا دعویٰ ہے کہ یہ صرف اور صرف اُن کے علاوہ کسی اور کا نہیں۔
    اب سوال یہ ہے کہ ہزاروں مربع میل پر مشتمل علاقے کو صرف ایک قبیلے کو کس بادشاہ یا کس راجہ نے کس کارنامے کی بدولت عطا فرمایا ہے اور اُن کے پاس اس کی کیا ثبوت موجود ہیں۔اگر یہ تمام تر ثبوتوں کو منظر عام پر لائیں تو اُس وقت دُنیا دیکھے گی کہ سانپ کے پاؤں کیسے ہوتے ہیں اور چیونٹی کی ناک کا سائز کتنا ہوتا ہے۔یہی اصل اور حقیقی عوامی حلقوں کا مطالبہ ہے جس کو کسی نے آج تک میڈیا کے اِس برق رفتار دور میں بھی منظر عام پر نہیں لایا ہے۔اس حقیقت کو دُنیا کی نظروں سے اوجھل رکھنے کی وجہ جب عوامی حلقوں سے پوچھا گیا تو اپر غذر کے بیس (20)سے زائد قوموں اور قبیلوں نے کہہ دیا کہ گلگت بلتستان کی وسیع تر قومی مفاد میں روشنی کے طرز کی اس حقیقت کو ہم نے مردے کی طرح دفنا کے رکھا ہوا ہے۔لیکن آج کے بعد پردے اُٹھتے جائیں گے اور پس پردہ ہلاکوخان اور چنگیز خان کی مظالم بے نقاب ہوتے جائیں گے۔ان خیالات کا اظہار غذر کی معروف شخصیت شمس الحق نوازغذری نے ایک اخباری بیان میں‌کی ہے .

  • error: Content is protected !!