Chitral Times

Dec 1, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

2030 تک4میں سے ایک پاکستانی بچہ پرائمری اسکول مکمل نہیں کرپائے گا، یونیسکو

Posted on
شیئر کریں:

لاہور(سی ایم لنکس) یونیسکو نے کہا سن 2030 تک4میں سے ایک پاکستانی بچہ پرائمری اسکول مکمل نہیں کرپائے گا‘ 12 سالہ تعلیم سب کیلئے ہدف کا نصف حصہ ہی حاصل ہو سکے گا۔تفصیلات کے مطابق اقوام متحدہ کی ایجوکیشن، سائنٹفک اور کلچرل آرگنائزیشن (یونیسکو) نے کہا ہے کہ 2030ء تک 4 میں سے ایک پاکستانی بچہ پرائمری اسکول مکمل نہیں کرپائے گا۔یونیسکو نے کہا ہے کہ ملک 12 سالہ تعلیم سب کے لیے ہدف کا نصف حصہ ہی حاصل کرسکے گا جبکہ موجودہ شرح میں اب بھی 50 فیصد نوجوان سیکنڈری سے آگے تعلیم حاصل نہیں کر پا رہے ہیں۔مستحکم ترقی کے اہداف (ایس ڈی جی)کی 2030 کی ڈیڈ لائن کے حوالے سے یونیسکو نے نیو یارک میں اقوام متحدہ کے اعلی سطح سیاسی فورم میں بتایا ہے کہ دنیا اپنی کارکردگی کو بغیر تیز کیے تعلیم کے حوالے سے کیے گئے اپنے وعدے پورے کرنے میں ناکام ہوگی، سال 2030 میں جہاں تمام بچوں کو اسکول میں ہونا تھا، وہاں 6 سے 17 سال کی عمر کا ہر 6 میں سے ایک بچہ اسکول میں موجود نہیں ہوگا۔کارکردگی کے حساب سے 40 فیصد بچے 2030 تک سیکنڈری تعلیم مکمل نہیں کرپائیں گے جبکہ نئے عالمی تعلیمی اہداف، ایس ڈی جی -4 نے تمام ممالک سے بچوں کے سکول جانے اور تعلیم حاصل کرنے کی یقین دہانی پر زور دیا ہے۔موجودہ شرح کے حساب سے تعلیم حاصل کرنے کی شرح لاطینی امریکہ اور درمیانی آمدنی والے ممالک میں بڑھ نہیں رہی جبکہ افریقی ممالک میں اس میں کمی آئی ہے۔عالمی سطح پر کارکردگی میں تیزی کے بغیر 20 فیصد نوجوان اور 30 فیصد بالغ افراد مقررہ مدت کے پورے ہونے تک بھی پڑھنے کے قابل نہیں ہوں گے۔مستحکم ترقی کے 2030 کے ایجنڈے کے مطابق کسی بھی بچے کو تعلیم سے محروم ہونے سے بچانا ہے تاہم غریب ممالک کے 20 فیصد غریب لوگوں میں سے صرف 4 فیصد بچے ہی اپر سیکنڈری تعلیم مکمل کرپاتے ہیں جبکہ امیر افراد میں اس کی شرح 36 فیصد ہے، تعلیمی ترقی میں تیزی کے لیے مالی امداد کا بھی فقدان ہے۔عالمی مبصر برائے تعلیم کی 2015 کی رپورٹ کے مطابق اس ہدف کو حاصل کرنے کے لیے سالانہ 39 ارب ڈالر کا خلا پیدا ہوتا ہے اور 2010 سے تعلیم کے لیے امداد میں بھی کوئی اضافہ سامنے نہیں آیا ہے، اس کے علاوہ آدھے سے بھی کم ممالک کارکردگی پر نظر رکھنے کے لیے معلومات ہی فراہم نہیں کر رہے ہیں۔تمام صورتحال پر یونیسکو کے ادارہ شماریات کے ڈائریکٹر سلویا مونٹویا کا کہنا تھا کہ ممالک کو اپنے وعدے پورے کرنے ہوں گے، اہداف رکھنے کا مقصد ہی کیا تھا اگر ہمیں معلومات ہی فراہم نہ کی جائیں؟، لہذا بہتر فنانس اور رابطوں کی ڈیڈلائن کے قریب پہنچنے سے قبل معلومات کے خلا کو پر کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

……………………………………………
وزیراعظم عمران خان نے اسلام آباد میں 18ہزار 500مکانات کی تعمیر کا سنگ بنیاد رکھ دیا
اسلام آباد(چترال ٹائمزرپورٹ) وزیراعظم عمران خان نے اسلام آباد میں نیاپاکستان ہاؤسنگ منصوبے کا سنگ بنیاد رکھ دیا، منصوبے کے تحت اسلام آباد میں 18ہزار 500مکانات کی تعمیر کیے جائیں گے۔تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے اسلام آباد میں نیا پاکستان ہاؤسنگ منصوبے کا سنگ بنیاد رکھ دیا، منصوبے کے تحت اسلام آباد میں 18ہزار 500مکانات تعمیر کیے جائیں گے۔انھوں نے کہا کہ تنخواہ دار متوسط طبقہ بینکوں سے قرض لے کر اپنے گھر کی تعمیر کے خواب کو عملی جامع پہنا سکے گا۔پاکستان جیسے ملک میں غریب افراد کو اس قابل بنائیں گے کہ وہ اپنے گھر خود تعمیر کر سکیں، بینک آسان شرائط پر بلا سود قرض فراہم کریں گے۔سکیم کا آغاز اسلام آباد کی دو کچی آبادیوں سے شروع کیا جائے گا۔قانونی پچیدگیوں کی وجہ سے پاکستان میں 0.25فیصد لوگ ہی گھر بنانے کے لیے قرض لیتے ہیں۔
……………………………………………………………………………………………….

وفاقی حکومت نے ہزاروں کنٹریکٹ ملازمین مستقل کرنیکا فیصلہ کر لیا
اسلام آباد(چترال ٹائمزرپورٹ )سرکاری کنٹریکٹ ملازمین کیلئے خوشخبری یہ ہے کہ وفاقی حکومت نے ہزاروں کنٹریکٹ ملازمین مستقل کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ذرائع کے مطابق وزارتوں اور ڈویڑنز کے کنٹریکٹ ملازمین کو مستقل کرنے کیلئے کمیٹی تشکیل دیدی گئی ہے۔ کمیٹی کنٹریکٹ ملازمین کی مستقلی بارے یکساں پالیسی تیار کرے گی۔اسٹیبلشمنٹ ڈویڑن نے کمیٹی کی تشکیل کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا ہے جس کے مطابق وزیراعظم کے مشیر ادارہ جاتی اصلاحات کو اس کا سربراہ مقرر کر دیا گیا ہے۔سیکرٹری سٹیبلشمنٹ ڈویڑن، سیکرٹری خزانہ، سیکرٹری قانون، سیکرٹری ریلویز، سیکرٹری پاور بھی کمیٹی ارکان میں شامل ہیں جبکہ جوائنٹ سیکرٹری ریگولیشن سٹیبلشمنٹ ڈویڑن کو کمیٹی کا سیکرٹری مقرر کر دیا گیا ہے۔


شیئر کریں: