Chitral Times

Jul 19, 2019

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • مسلہ کیا ھے؟…………… تحریر ام کلثوم

    July 11, 2019 at 10:59 pm

    انسانی زندگی میں ھوا، سانس، پانی اور خوراک کے بعد کوئی چیز ضروری ھے تو وہ رشتے ھیں۰ رشتے ھمیں اپنے ھونے کا احساس دلاتے ھیں، ھمیں گمنامی سے نکال کر خاندانی وارث بنا دیتے ھیں. رشتے بنتے تو بڑی آسانی سے ھوتے ھیں، مگر انہیں نبھانا آسان کام نہیں. کچھ رشتے برائے نام ھوتے ھیں اور کچھ دل سے جڑے ھوے ھوتے ھیں. ھماری شخصیت کے بننے کے عمل میں رشتوں کا اھم کردار ھوتا ھے. اگر کامیابی کی سیڑھیاں چلتے ھوے ھمیں ناکامی محسوس ھونے لگتی ھےتو یہی سچّے رشتے آپکی بیساکھی بن جاتے ھیں. مسلسل ناکامیوں سے واسطہ پڑنے پر کچھ جھوٹ پر مبنی رشتے آپکو شدت سے آپکی محرومیوں کا احساس دلاتے ھیں. اللہ تعالی نے کسی بھی انسان کو بے کار نہیں بنایا سب کے اندر چھپی ھوئی صلاحیتیں موجود ھوتی ھیں جنھیں عمل میں لاتے لاتے وقت لگتا ھے۔ بات اگر شخصیت بننے کی، کی جائے تو سب سے اھم آپکی جینیات،آپکی فیملی اور اس سے جڑے رشتے ھیں. آپکا نام لوگوں میں اگر دیانت دار، سچا یا کسی اور صفات سے جانا جاتا ھے تو وہ آپکی سیکھ ظاہر کرتی ھے. اکثر لڑائی جھگڑوں میں ھم یہ جملہ بہت سنتے ھیں کے اس بندے نے اپنی حرکات سے اپنے خاندان کا تعارف کرادیا. کچھ خصوصیات نسلوں میں گردش کرتی رھتی ھیں جو Heredity traits کہلاتی ھیں. انسان پہ سب سے ذیادہ اثر ماحول کا بھی ھوتا ھے. ماحول سے مراد آپکا گھریلو مزاج، آپکا دوستانہ ماحول اور معاشرے میں رہن سہن کے طریقے ھیں. ھماری زندگیوں میں ٹینشن، ڈپریشن کی وجہ صرف بڑھتی ھوئی مہنگائی نھیں، بلکہ ھمارے لا شعور میں چھپے ایسے راز ھیں جو ھمیں بھی یاد نہیں ھوتیں البتہ ھماری پریشان ذندگیوں میں الجھنوں کی وجہ ضرور ھیں.


    یوٹیوب پہ اکثر ھم ایسے وڈیوز دیکھتے ھیں جن میں مشرقی اور مغربی معاملات زندگی میں تفرقہ دکھایا جاتا ھے. چھوٹی چھوٹی باتوں کو اہمیت دینا اور اپنے ساتھ ساتھ دوسروں کو بھی پریشان کرنا ھمارے مزاج کا حصہ ھےخاندان میں اگر رشتوں میں مسائل ھوں تو بچوں کی پرورش بھی ڈسٹرب ہوتی ہے ۔بچوں کا بس نہی چلتا کے کسی بھی طریقے سے معاملات ٹھیک ہوں ۔ ایسے ماحول سے سکون نامی شے زندگی سے فرار ہوجاتی ہے ۔ یہ بات ھمارے کلچر میں ہے کہ جب میاں بیوی کا رشتہ کتے بلی کا تماشا بنتا ہے تو فوراً جرگہ بٹھا دیتے ہیں تاکہ بات مزید خراب نہ ھو ۔جرگے میں موجود افراد تقریبا سب دانا ھوتے ہیں ۔ اور ذندگی گزارنے میں کافی تجربہ رکھتے ہیں ۔ اسی لیے ان کی بات زیادہ اہمیت کی حامل ھوتی ہے ۔ گھریلو مسائل کے حل کے لیے فیملئ سائکالوجسٹ کا ھونا بہت ضروری ہے ۔فیملی تھیرپی خاندان کے ان افراد کے ساتھ کیا جاتا ہے جنھیں ایک دوسرے سے مسائل ھوں ۔ اسی حساب سے پھر ٹریٹمنت پلان بنایا جاتا ہے ۔مثلاً خاندان میں کوئی نشے کا عادی ھو تو اسے کمرے میں بند کرنے سے مسلہ حل نہیں ھوتا. فیملی تھرپسٹ آپکو مختلف ذرائع سے مسائل کا حل بتاتے ھیں. یہ ۱۲ سیشنزھوتے ھیں جنکا دورانیہ ۵۰ منٹ کا ھوتا ھے. مسلے کے حل ھونے تک سیشنز کا اہتمام بھی کیا جاتا ھے. فیملی تھرپسٹ آپکو ایک دوسرے کو سوچنے اور سمجھنے کی شعور بیدار کراتے ھیں، تاکہ ایک مکان گھر بن جائے اور اسکے مکین فیملی کہلائیں کیونکہ ذہنی سکون سے بڑھ کر کوئی شے نہیں. حکومت کو سوشل ویلفیرز اور اسپتالوں میں سائکالوجسٹ کی تقرری پر غور کرنی چاھئے تاکہ لوگوں کو ادویات اور انجکشن کے علاوہ ایک انسان سے بھی امید ھو کہ وہ انکا غم بانٹ سکتے ھیں.

  • error: Content is protected !!