Chitral Times

Jul 19, 2019

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • گولین؛ متاثرہ علاقوں میں امدادی کاروائیوں کی کوششیں جاری، ہیوی مشینری پہنچ گئے،مذیدسیلاب کے خدشات

    July 10, 2019 at 12:06 am

    چترال (نمائندہ چترال ٹائمز) چترال کے سیاحتی مقام گولین میں‌گلیشئرپھٹنے اورسیلاب کے زد میں اکر گولین مین روڈ اورپانچ ٹرک ایبل پلوں کی تباہی کی وجہ سے علاقے میں‌ امدادی اشیاء اورامدادی ٹیمیں‌پہنچانے میں‌انتہائی دشواری کا سامنا ہے . تاہم ریسکیو 1122اورالخدمت فاونڈیشن کی رضاکاروں‌کی کوششوں‌سے مختلف مقامات پر دریا کے اوپر سیڑھی رکھ کر امدادی اشیاء اورپھسے ہوئے لوگوں‌کو ریسکیو کیا جارہاہے جن میں‌علاقے کے عوام کے ساتھ سیاح‌بھی شامل ہیں. ریسکیو1122 پریس ریلیز کے مطابق متاثرہ علاقے میں‌طبی امداد دی جارہی ہے اورمتعدد افراد کو ریسکیوکیا گیا ہے. اور ساتھ ہیوی مشینری بھی موقع پر موجود ہیں‌مگر سڑک تباہ ہونے کی وجہ سے علاقے میں پہنچنا انتہائی مشکل ہوگیا ہے ،جبکہ سیلاب کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری ہے.

    دریں اثنا ضلع ناظم حاجی مغفرت شاہ کی طرف سے جاری ایک پریس ریلیز کے مطابق ممبر پاور چترال پہنچ گئے ہیں‌جو 108میگاواٹ بجلی کی نقصانات کا جائزہ لیں‌گے . اورانکی جلد بحالی کیلئے اقدامات بھی اُٹھائیں‌گے . ذرائع کے مطابق متعلقہ کمپنی کے ہیوی مشینری اورڈمپرمتاثرہ حصے تک پہنچ گئے ہیں اورکل سے بحالی کا کام شروع کیا جائیگا.

    اُدھر واٹر اینڈ سینٹی ایشن ذرائع کے مطابق گولین واٹر سپلائی کی بحالی پر کام شروع کردیا گیا ہے . تاہم بہت سے مقامات پر پائپ لائن دریا برد ہونے کی وجہ سے پانی کی بحالی میں‌ ٹائم درکارہوگا.

    دریں اثنا الخدمت فاونڈیشن کی طرف سے جاری ایک پریس ریلیز میں‌کہاگیا ہے کہ
    چترال کی وادی گولین کے جام اشپار نامی گلیشیئر پھٹنے کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر تباہی اور ہزاروں افراد کے متاثرہ علاقوں میں محصور ہونے سے پیدا شدہ صورتحال کے تناظر میں الخدمت فاؤنڈیشن خیبر پختونخوا کے صدر خالد وقاص نے الخدمت چترال کے ضلعی صدر نوید احمد بیگ سے رابطہ کرکے سیلاب کے نقصانات اور الخدمت کی امدادی سرگرمیوں کے حوالے سے آگاہی حاصل کی اور الخدمت کے شعبہ ڈیزاسٹر مینجمنٹ کا ہنگامی اجلاس طلب کرکے سیلاب متاثرین کے لئے امدادی سرگرمیاں تیز تر کرنے اور فوری طور پر متاثرہ علاقے میں لاکھوں روپے مالیت کے اشیائے خوردونوش،ٹینٹ،ترپالیں اور دیگر ضروری امدادی اشیاء پہنچانے کی ہدایت کردی،الخدمت چترال کے صدر متاثرہ علاقے میں الخدمت کی امدادی سرگرمیوں کی براہ راست نگرانی کر رہے ہیں جنہوں نے کغوزی کے مقام پر بیس کیمپ قائم کردیا ہے جبکہ درجنوں تربیت یافتہ رضا کار اور الخدمت ایمبولینس سروس امدادی سرگرمیوں میں شامل ہیں۔ازغور نامی گاؤں کے قریب گلیشیئر پھٹنے کے نتیجے میں لینڈ سلائیڈنگ سے دریا میں طغیانی اور شدید سیلاب سے رابطہ سڑک بہہ چکا ہے جس کی وجہ سے پل سے زمینی رابطہ منقع ہے۔کھڑی فصلیں اور باغات،بجلی کا نظام،مال مویشی سیلابی پانی کے نذر ہونے سے بڑے پیمانے پر علاقے میں تباہی کی بنا پر وادی گولین میں لگ بھگ 3ہزار سے 5ہزار افراد محصور ہو گئے ہیں۔ابتدائی رپورٹس کے مطابق 3گھر متاثر ہوئے تھے لیکن الخدمت کے رضاکاروں نے دشوار گزار پہاری راستوں کے زریعے پیدل متاثرہ علاقوں میں پہنچنے کے بعد سروے کے زریعے جو اعداد وشمار اکٹھے کئے ہیں اس کے مطابق 25گھر مکمل اور تقریبا73مکان جذوی طور پر متاثرہوئے ہیں۔الخدمت کے رضاکاروں نے امدادی کاروائی کے دوران سیاحت کے لئے آئے ہوئے نسٹ یونیورسٹی کے 10طلبہ کو بحفاظت محفوظ مقام تک منتقل کیاجبکہ علاقے میں محصور سیاحوں اور مقامی مریضوں خاص طور پرحاملہ خواتین کومحفوظ مقامات پر منتقل کرنے کیلئے الخدمت کے رضاکاراورالخدمت ایمبولینس سروس،1122اوردیگرحکومتی امدادی اداروں کے ساتھ ریسکیو کے لئے کوشاں ہیں۔ الخدمت کے رضاکار متاثرہ گولین وادری کا زمینی رابطہ منقطع ہونے کے بعددشوار گزار پہاڑی راستوں کے زریعے پیدل فوڈ پیکجز،ٹینٹ اور ترپالیں پہنچارہے ہیں جبکہ الخدمت کے رضاکاروں نے قریبی علاقوں کے مکینوں کے ساتھ مل کر اپنی مدد آپ کے تحت محصورین کے لئے پیدل پہاڑی راستہ بنانے پر بھی کام تیز تر کر دیا ہے ۔ #

    اسی طرح‌پاک فوج اوراین ڈی ایم کی طرف سے بھی ادویات اور اشیاء‌خوردنوش متاثرہ علاقوں‌میں پہنچانے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں .جبکہ بعض افراد کو بذریعہ ہیلی ریسکیو بھی کیا گیا ہے .

    دریں اثنا علاقے کے سماجی کارکن سفیر اللہ کے مطابق گلیشیر کا صرف معمولی حصہ پھٹا ہے جبکہ بہت بڑے حصے میں‌بھی دراڑیں پڑ گئی ہیں . جن سے ایک بہت بڑے سیلاب کا خدشہ ظاہرکیا جارہاہے . انھوں نے مطالبہ کیا ہے کہ علاقے کے مکینوں‌کو محفوظ مقامات پر منتقل کیاجائے . انھوں نے امدادی کاروائیاں‌تیز کرنے اور سرکاری اداروں‌کے ساتھ غیر سرکاری اداروں سے فوری امداد کی اپیل کی ہے .

    یہاں‌یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ گولین گول بجلی گھر سیلاب میں جذوی متاثر ہونے کی وجہ سے بند ہے اور چترال کے مختلف علاقوں‌کو نیشنل گرڈ سے بجلی فراہم کی جارہی ہے . تاہم اپرچترال کیلئے بجلی بند کردی گئی ، پیڈو ذرائع کے مطابق اپر چترال کیلئے 7MVAٹرانسفرمیر کی تنصیب تک بجلی بند رہیگی ، جس کیلئے کرین جوٹی لشٹ پہنچادی گئی ہے اورٹیکنکل سٹاف بھی پہنچ گئے ہیں. جس کی بحالی تک اپر چترال اورکوہ ایریا میں بجلی بند رہیگی .

  • error: Content is protected !!