Chitral Times

Aug 23, 2019

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • داد بیداد …….. وسائل ا ور مسائل ……….. ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

    July 9, 2019 at 12:25 pm

    وزیر اعلیٰ محمود خان نے قو می تعمیر کے محکموں کو ہدایت کی ہے کہ تر قیاتی کاموں کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہ کیا جائے اورکام تجربہ کار لو گوں کو حوالہ کیا جائے حقیقت میں وسائل کے بہتراستعمال اور ٹینڈر کے عمل میں رینگ کا خاتمہ کرنے کے لئے حکومت نے الیکٹرا نک ٹینڈر کا طریقہ متعارف کرا یا مگر اس کا فائدہ نہیں ہوا وسائل کے ضیاع میں اضا فہ ہوا، تر قیاتی منصوبوں میں مسا ئل پیدا ہوئے تر قیا تی کام 10کروڑ کا ہو یا 10لاکھ کا ، کھلے ٹینڈر میں جس کو کام ملتاتھا وہ آخر تک کام کا ذمہ لیتا تھا اُس کا تجربہ ہوتا تھا اس کے پاس مشینری ہوتی تھی کاریگر ہوتے تھے دفتر میں کمیشن وغیرہ کے اخراجات کم تھے منصو بے کی لا گت کا 60فیصد دفتری اخرا جات اور ٹھیکہ دار کے منا فع کی مد میں نکل جاتا تھا 40فیصد منصو بے پر لگ جاتا تھا ای ٹینڈ ر کے ذریعے کام کروا نے کے بعد فنڈ کا 80سے لیکر 84فیصد تک حصہ ٹھیکہ داروں کے منافع اور دفتری اخرا جات میں خرچ ہوتا ہے16یا 20فیصد منصو بے پر لگ جاتا ہے چنا نچہ کام کا معیار مزید گر گیا ہے وسائل کے سامنے مسائل کھڑے ہو گئے ہیں صو بائی سطح پر انسپکشن ٹیم مو جود ہے جس میں سینئر افیسروں کی ڈیو ٹی ہوتی ہے تجربہ کار حکام ہوتے ہیں اگر صو بائی انسپکشن ٹیم کے ذریعے ای ٹینڈر کے طریقہ کار اور اس کے نقصا نات کا جائزہ لیا جا ئے تو غبن ، بد عنوانی اور سر کاری وسائل کے ضیاع کو روکنے میں مدد ملے گی سر کاری تعمیرات کے تخمینے جب تیار ہوتے ہیں تو ان میں دفتری اخراجات کے لئے 40فیصد اور ٹھیکہ دار کے منا فع کے لئے 20فیصد کی گنجا ئش رکھی جا تی ہے الیکڑا نک ٹینڈر میں 2ٹھیکہ دار 10فیصد فی کس بھتہ لیکر کام تیسرے ٹھیکہ دار کے سپر د کرتے ہیں دفتری زبان میں اس کو سب لٹ(sub-let)کہتے ہیں 20فیصد منا فع لیکر وہ شخص کام کو مکمل کرتا ہے اس طرح 40فیصد فنڈ 2یا 3ٹھیکہ داروں میں تقسیم ہوتا ہے یہ کھلے ٹینڈر کے رینگ سے زیادہ نقصان دہ طریقہ ہے فنڈ کے ضیاع ، منصو بے میں بد عنوانی اور غبن کے علاوہ اس میں فنی اور تکنیکی مسائل بہت زیادہ ہیں عدا لتوں میں ایسے مقدمات کی بھر مار ہے جن میں حکم امتناعی کے ذریعے تر قیاتی کام کو بند کیا گیا ہے یا مزدوروں کی مزدوری روک دی گئی ہے وجہ ہے کہ کوئیٹہ ، کراچی یا ملتان کا ٹھیکہ دار ای ٹینڈر کے ذریعے خیبر پختونخوا میں کام لیتا ہے اپنا بھتہ وصول کر کے کام کسی اور کو دیدیتا ہے وہ بھی بھتہ لیکر کام کسی او ر کے حوالے کرتا ہے تیسرے آدمی کے پاس نہ رجسٹریشن ہے نہ وسائل ہیں نہ مطلوبہ قابلیت اور تجربہ ہے اسی طرح شانگلہ ، بو نیر ، ہری پور یا کوہاٹ کا ٹھیکہ دار چترال میں کام لے لیتا ہے پہلے دن ہی اس کی نیت کام کرنے کی نہیں ہوتی وہ اپنا بھتہ وصول کرکے منصو بہ کسی اور کے حوالے کرتا ہے اصل مسئلہ یہ ہے کہ کھلے ٹینڈر میں رجسٹرڈ ٹھیکہ دار حصہ لیتے تھے شانگلہ اور بونیر کا ٹھیکہ دار لکی مروت ، ایبٹ اباد اور چترال میں جس لڑکے سے بھتہ لیکر منصو بہ اس کے حوالے کرتا ہے وہ حکمران جما عت کا ور کر ہوتا ہے اُس کو کام کا کوئی تجربہ نہیں ہوتا وہ اس معا ملے میں انا ڑی ہوتا ہے وہ آگے بھتہ لیکر جس کو کام دے دیتا ہے وہ بھی انا ڑی ہوتا ہے اس طرح تر قیاتی منصو بے کا ستیا ناس ہوجا تا ہے سر کاری ادارے کا بیڑہ غرق ہو جا تا ہے اگر صو بائی انسپکشن ٹیم ای ٹینڈر کے ذریعے دی جا نے والے ٹھیکوں کی تحقیقات کر کے چند مقا مات پر تر قیاتی سکیموں کا معا ئنہ کرے اور پورے طریقہ کار کا جائزہ لے تو یہ بات کھل کر سامنے آئے گی کہ رینگ والا پرانا سسٹم ای ٹینڈر وا لے سسٹم سے بہتر تھا اُس وقت کام پر 40فیصد فنڈ لگتا تھا اب صرف 20فیصد فنڈ سکیم پر خرچ ہوتا ہے باقی انگریزی محا ورے کی رو سے نا لیوں میں بہہ جاتا ہے وزیر اعلیٰ محمود خان نے تر قیاتی منصو بوں میں کام کے معیار پر سمجھوتہ نہ کرنے کی ہدا یت کر کے بروقت قدم اٹھا یا ہے اب صو بائی معائنہ کمیشن کے ذریعے ای ٹینڈر کی خرابیوں کا جا ئزہ لیکر وسائل اور مسائل گو گڈ مڈ کرنے والوں کا محا سبہ کریں تو تر قیاتی منصو بوں کا معیار بہتر کرنے میں مدد ملے گی اس کی دو صورتیں ہیں سب لٹ (sub-let) کرنے پر پابندی لگائی جائے یا ای ٹینڈر میں حصہ لینے کے لئے مقامی کنٹریکٹر ہونے کی سخت شرط لگا ئی جائے دو نوں صورتوں میں فنڈ ضا ءع نہیں ہو گا اور کام کا معیار بھی بہتر ہوگا

  • error: Content is protected !!