Chitral Times

Aug 23, 2019

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • صدابصحرا………..روز سکالر شپ………….ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

    July 8, 2019 at 7:29 pm

    افراد کے ہاتھوں میں ہےاقوام کی تقدیر
    ہر فرد ہےملت کے مقدر کا ستارہ

    آپ کے وقت کی طنابیں میرے الفاظ کی کرنوں سے زیادہ آہم ہیں۔اور یہ ایسی مجلس ہے جہاں گفتارکے غازی نہیں بلکہ کردار کے غازی رونق افروز ہیں۔اور کردار کے اتنے سارے غازیوں کو یہاں یکجا کرنے والا بھی کردار کا غازی ہے Roseکے بانی و چیئرمین جناب ہدایت اللہ صاحب ایسی
    شخصیت ہیں جو روز پیدا نہیں ہوتے اورجب پیدا ہوتے ہیں تو روز ہاتھ میں لیکر آتے ہیں ۔ہدایت بھائی نے اپنی جیب کو دفتربنایا ہے اور پاوں کو پہیئےلگا کر ایسا ادارہ قائم کیا جو علم کی دولت بھی تقسیم کرتا ہے ۔بندگان خدا کی خد مت بھی کرتا ہے علامہ اقبال نے کہا ہے
    خدا کے بندے تو ہیں ہزاروں،بنوں میں پھرتے ہیں مارے مارے
    میں اس کا بندہ بنوں گا جس کو خدا کے بندوں سے پیا ر ہوگا

    چترال ایسی جگہ ہےجہاں پھولوں سے پیا ر اورعلم سے محبت ہر پیدا ہونے والے بچےکو فطرت اسلام کی طر ح ود یعت ہوتی ہے ۔چترال کا پہلا سی ۔ایس۔پی افیسر سردار علی سردار امان میری نسل کے لوگوں کے لئےایسا رول ماڈل ہے ۔جنہوں نے میٹرک کے بعد جزوقتی محنت اور کام کرکے اعلی تعلیم کے اخراجات پورے کیئے اور اعلی تعلیم کے بعد پاکستان میں مقابلے کا سب سے بڑا امتحان پاس کیاپوسٹل سروس میں آنے کے بعد انہوں نے چترال کے ہزاروں نو جوانوں کو یو نیورسٹی کی سطح پر اعلیٰ تعلیم کے موا قع دیئے ۔چترال کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ یہا ں کا باسی بھوکا مرے گا لیکن بھیک نہیں مانگے گا یہاں کے سکولوںاور کالجوں کے طلباءکی اکثریت گرمی اور سردی کی چھٹیوں میں گلگت ،پشاور ،اور اسلام آبادجاکر مزدوری کرکے اپنے تعلیمی اخراجات پوری کرتی ہے ۔ چترال میں ایسی مثالیں بھی ہیں کہ باپ کا سایہ سر سے اٹھنے کے بعد ماوں اور بہنوں نے
    بھیڑ بکریاں پال کر ،دستکاری کرکے بیٹوں اور بھائیوں کو یونیورسٹی تک پہنچایااور اعلی تعلیم سے آراستہ کیا ان میں سےکسی ایک نے بھی شیخ سعدی شیرازی کو نہیں پڑھا، تاہم ان کے قول پر عمل کیا ۔

    چوں شمع ازپیئے علم باید گداخت

    کہ بے علم نتواں خدا را شناخت

    علم کی تڑپ اور مراکز علم کی جستجو آج بھی چترال کے بیٹوں اور بیٹیوں کے دلوں میں جاگزیں ہے مگر یہ دور قیامت خیز بھی ہے ،پر آشوب بھی ۔آج کا نوجواں جس دروازے پر دستک دیتا ہے اس کو سب سے پہلے اسی ایک سوال سے واسطہ پڑتا ہے کہ زر،داری ؟پیسہ ہے تہاڈے کو ل ؟بیسویں صدی کے نمائیندہ شاعر زیارت خان زیرک نے چترال کی زبان کھوار میں اپنے دور سے یہی گلہ کیا ہے کہ
    تہ ملنگ کیا خوشان نو آسوم زمانو سوم
    لوہ پیسو تول کورونیاں دُردانو سوم

    آپ کے در کا یہ درویش اپنے زمانے سےخوش نہیں کیونکہ انسان کی قدروقیمت کو سِکوں میں تولا جاتا ہےاس دور میں اعلی تعلیم بہت ہے مگر غریب اور نادار کی رسائی سے بہت دور ہے ۔اس کا آسان علاج بڑےبڑے دفتر والوں کے پاس ہو یا نہ ہو ،ROSEکے چیرمین ہدایت اللہ صاحب کے پاس ہے ۔جس طرح مولانا قاسم نانوتوی نے ایک درخت کے سائے میں دو طالبعلوں کو پڑھانے سے دیوبند جیسے عظیم مدرسے کا آغاز کیا ،مولانا محمدالیاس نے بنگلہ والی چھوٹی مسجد سے تبلیغی جماعت کی بنیاد رکھی ۔اس طرح بے سروسامانی کے عالم میں ROSEنے آنکھ کھولی ،ہدایت اللہ بھائی نے کام کا اغاز کیا ۔

    میں آکیلے ہی چلاتھاجانب منزل
    لوگ آتے رہے اور کارواں بنتا گیا

    آج ROSEایک تناور اوربارآوردرخت بن چکا ہےتو اس کی آبیاری میں اسی کارواں کا ہاتھ ہے ۔اس کا کوئی فنڈنہیں ،کوئی بینک بیلنس نہیں ۔ہدایت اللہ بھائی نے کسی یونیورسٹی کے حکام سے ملاقت کی ۔ان کو دو یا تین مستحق طلباء وطالبات کے لئے سکالرشپ پر راضی کیا۔طالب علم کو یونیورسٹی میں داخلہ دلوایا۔کام کی ابتداءہوئی،یاکسی مخیر شخصیت یا فلاحی تنظیم کو چترال کےکسی ہونہار بچے یا بچی کے لئے سکالرشپ دینے پر امادہ کیا ۔طالب علم کو بتایا کہ تمہارے نام پر چیک آئے گا ،چیک آیا ۔اور اعلی تعلیم کا وہ دروازہ کھل گیاجس کی چابی اس غریب کے پاس نہیں تھی ۔اگر مجھےROSEکے بارے میں ایک جملہ کہنا پڑے تو میں کہوں گا کہ یہ ادارہ سورہ آل عمران کی آخری آیت کی عملی تفسیر ہے اے ایمان والو صبرکرواور صبر کی تلقین کرولوگوں کے درمیاں رابطہ کاری سے کام لواور اللہ سے ڈرو تاکہ تمہیں کامیابی نصیب ہو۔

    حقیقت یہ ہے کہ چترال کی ہر ایک کمیونٹی نے Roseکو اپنایئت ،Ownership دی ہے۔ بلا امتیازاپنا ادارہ سمجھاہےہم امید کرتے ہیں کہ اونر شپ اور اپنایئت کو مزید فروغ ملے گا۔طلباء اورطالبات Roseکو اپنا سمجھتے رہیں گے، معاونین،سرپرست اور عطیہ دینے والےبھی اسی اپنایئت کا اظہار
    کرتے رہیں گے۔مجھے یقین ہےکہ آپ کی حوصلہ افزائی اورسرپرستی کی بدولت یہ قافلہ آگے بڑھے گا اور منزل پر پہنچ کر ہی دم لے گا سفینہء برگ گل بنالے گا قافلہ مور ناتواں کا ہزار موجوں کی ہو کشاکش مگریہ دریا سے پار ہوگا.

  • error: Content is protected !!