Chitral Times

Jul 19, 2019

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • غیر قانونی پانی کمیٹیاں، ہائیڈرینٹ اور واٹر گولڈ مافیا …….پیامبر….. قادر خان یوسف زئی

    July 8, 2019 at 7:26 pm

    وزیراعلیٰ سندھ کی جانب سے کراچی میں پانی کے مسئلے کے حوالے سے آل پارٹیز کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے شہر میں پانی کے بحران کے پیش نظر تمام سیاسی اور غیر سیاسی اسٹیک ہولڈرز کا ایک اجلاس بلایا تاکہ ان کے مشترکہ وزڈم کے ساتھ قلیل اور طویل المدتی حل وضع کیے جائیں۔ فیصلہ کیا گیا کہ 30فیصد پانی کے نقصانات جو کہ 174ایم جی ڈی بنتا ہے کو کنٹرول کرنے اور انتظامی اقدامات کے ذریعے پانی کی چوری کو کنٹرول کرنے سے متعلق فیصلے کئے جائیں گے۔ وزیر اعلیٰ سندھ کے مطابق اکتوبر کے آخر تک 100ایم جی ڈی اور 65ایم جی ڈی پانی سسٹم میں شامل ہوجائے گا اور وقت کے ساتھ کی گئی کاوشوں کی بدولت کے فور منصوبہ بھی مکمل ہوجائے گا جو کہ ایک مشکل ٹاسک ہے۔ کانفرنس میں کراچی کی اسٹیک ہولڈر جماعتوں کی صوبائی قیادتیں شریک ہوئیں۔ وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ ان گنت بار دوہرا چکے ہیں کہ سندھ کو اس کے حصے کا پانی کم مل رہا ہے۔ دوئم کراچی کو فراہمی آب کا کے فور منصوبہ سست روئی کے سبب منجمد ہوچکا ہے اور اس کی پیداواری لاگت میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ وزیربلدیات کراچی میں پانی کی کمی و عدم فراہمی کا ذمے دار کے ایم سی کو قرار دیتے ہیں تو میئر کراچی کا فرمانا ہے کہ واٹر بورڈ سندھ حکومت کے ماتحت ہے۔ کے ایم سی کے پاس نہ اختیارات ہیں اور نہ ہی فنڈ ہیں۔ بقول میئر کراچی چڑیا گھر و سفاری پارک ٹکٹس اور چارجڈ پارکنگ سے کراچی نہیں چلایا جا سکتا۔

    شہر ناپرساں کا حال اس قدر ناگفتہ بے ہوچکا ہے کہ اب تو اعلیٰ عدلیہ کے جج صاحبان بھی بہتری کے لئے کہہ کہہ کر تھک گئے ہیں۔کراچی کا سب سے بڑا اصل مسئلہ یہی ہے کہ پانی کی فراہمی کا نظام بغیر کسی منصوبہ بندی کے چل رہا ہے۔ ہائیڈرینٹ میں واٹر ٹینکر کو تو پانی مل جاتا ہے لیکن اس سے ملحقہ علاقے کی پائپ لائنوں میں پانی نایاب ہے۔ واٹر بورڈ کا حال سب کے سامنے ہے۔ سیاسی مداخلت کی وجہ سے واٹر بورڈ کا پوری ڈھانچہ تباہ ہوچکا ہے۔ واٹر بورڈ کی بنیادی ذمے داری ہے کہ وہ اہل کراچی کو پانی کی فراہمی یقینی بنائے لیکن دیکھنے میں یہی آیا ہے کہ واٹر بورڈ کا وال مین جتنا خود مختار ہے۔ اتنا شاید ایکسن بھی نہیں ہوتا ہوگا۔ کراچی کے مضافاتی علاقوں میں 12انچ ڈائی قطر کی لائن سے اگر پانی فراہم کیا جاتا ہے تو محلے کی گلیوں میں برانچ لائن دینے کے بجائے براہ راست مرکزی لائن سے کنکشن لے لئے جاتے ہیں، یعنی جس 12انچ قطر لائن سے اگر ایک گلی کے مکینوں کو 6 انچ قطر کی لائن سے پانی فراہم کیا جاسکتا ہے، وہاں مرکزی لائن سے ایک گلی کے50گھروں میں پونے اور آدھ انچ کے کنکشن جاتے ہیں، جو تقریباََ25 انچ قطر بن جاتے ہیں اور ایک ہارس پاور کی موٹر لگنے کے بعد تقریباََ20ہارس پاور کے واٹر پمپنگ موٹرز 12انچ قطر سے پانی کا رخ اپنی جانب موڑ لیتی ہیں اس طرح 12انچ قطر لائن سے صرف تین یا چار گلیوں میں ہی پانی فراہم ہوتا ہے اور اس عمل سے پورا علاقہ پانی سے محروم ہوجاتا ہے۔

    پانی کی غیر مساوی تقسیم کا سلسلہ صرف یہیں تک محدود نہیں بلکہ علاقوں میں پانی کمیٹی کے نام سے ایک ایسی مافیا بنی ہوتی ہے جو مرکزی لائن پر 10ہارس پاور تک کی واٹرپمپ موٹریں نصب کردیتے ہیں، 66/72یا/44/36انچ ڈائی قطر لائن سے براہ راست15/12/18قطر کے غیر قانونی کنکشنوں سے علاقوں میں پانی فروخت کیا جاتا ہے۔ مضافاتی علاقوں میں اب یہ ایک عام سے بات بن گئی ہے، سرکاری’وال مین‘ کا تصور ختم ہوگیا ہے اور پرائیوٹ کمیٹیوں نے تمام اختیارات اپنے ہاتھ میں لے لئے ہیں۔ یہاں سب سے اہم بات یہ ہے کہ فی گھر پانچ سو روپے سے لے کر 200روپے تک لیا جاتا ہے۔ مینٹنس کے نام پر لئے گئے لاکھوں روپے قومی خزانے میں جانے کے بجائے پرائیوٹ واٹر مافیا کی جیب میں جاتے ہیں۔ یہاں سب سے بڑا نقصان یہ بھی دیکھنے میں آتا ہے کہ محکموں کی عدم مداخلت کی وجہ سے پانی کی ناقص پائپ لائنیں متعدد جگہوں سے پھٹ جاتی ہیں اور اس سے ہزاروں گیلن صاف پانی رساؤ کے سبب ضائع تو ہوتا ہی ہے اس کے ساتھ ضلعی انتظامیہ یوسی نائب چیئرمین کی ایڈوئس پر جو ترقیاتی کاموں میں سی سی فلورنگ یا روڈ کارپٹنگ کرواتی ہے وہ پہلے ہی ہفتے میں پانی کے رساؤ کے سبب خراب ہوجاتا ہے اور کروڑوں روپے کے ترقیاتی کام بد انتظامی کی نظر ہوجاتے ہیں۔

    حب ڈیم سے آنے والی پائپ لائنوں کے ساتھ آبادیوں کا تقریباََ یہی مسئلہ ہے جو سائٹ ایریا تک چلا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی دھابیجی و بلدیہ سے آنے والی پائپ لائنوں میں واٹر ٹینکر مافیا سوراخ کردیتی ہے جس سے پانی بہتا ہوا مخصوص احاطے میں جمع ہوکر جوہڑ یاجھیل کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔ جس سے واٹر ٹینکر مافیا شہر میں مہنگے داموں پانی فروخت کرتے ہیں۔شہری علاقوں میں باقاعدہ کسی منصوبہ بندی کے بغیر آباد کاری کی وجہ سے پانی کی فراہمی ممکن نہیں ہوپاتی کیونکہ جس علاقے میں ایک یا دو منزلہ عمارت قائم تھی اب وہاں بیس بیس منزلوں کی کمرشل و رہائشی پلازے بن چکے ہیں۔ شہری علاقوں میں واٹر پمبپنگ اسٹیشن کی کمی اور ہائی ہارس پاور موٹریں نہ ہونے کی وجہ سے پانی گھروں تک نہیں پہنچ پاتا۔ لیکن اس میں سب سے اہم بات یہ بھی ہے کہ سرکاری ہائی ڈرینٹ ایسے علاقوں میں قائم ہیں جو آبادیوں میں پانی کی فراہمی میں رکاؤٹ کا سبب بنتی ہیں اور اُن کی ہائی ہارس پاور موٹریں علاقوں میں پانی پریشر کے ساتھ جانے ہی نہیں دیتی۔ جس کی وجہ سے پورا علاقہ پانی سے محروم رہتا ہے۔
    کراچی میں پانی کی عدم فراہمی میں سب سے اہم مسئلہ غیر مساوی تقسیم اور سرکاری اہلکاروں کا اپنی ذمے داری درست طریقے سے ادا نہ کرنا بھی رہا ہے۔ پانی کی غیر مساوی تقسیم کے اس نظام کو بدقسمتی سے اُنہی سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے خراب کیا ہے جو اب بڑی اعلیٰ سطح کی میٹنگوں میں بیٹھ کر اپنے حلقوں میں پانی کی کمیابی کی دہائی دیتے نظر آتے ہیں۔ ان سیاسی جماعتوں کے بیشتر رہنماؤں نے اپنا سیاسی اثر رسوخ استعمال کرکے اپنے اپنے علاقوں میں پانی کے نظام پر قبضہ کیا اور اپنے من پسند احباب و اقربا کو ہائیڈرینٹ قانونی یا غیر قانونی بنوانے میں سہولت کار بنے۔کراچی میں آنے والے تین داخلی راستوں پر مرکزی پانی لائنوں پر سیاسی جماعتوں کی چھتری میں پناہ لئے افراد نے واٹر گولڈ کا دھندا شروع کیا۔ ایک رکشہ چلانے والا بم پروف گاڑیوں سمیت دوبئی ملائشیا اور امریکا میں کاروبار کرنے لگا تو اسی طرح موٹر سائیکل چلانے والے بی ایم ڈبلیو کے مالک بن کر دوبئی، کینڈا، ملایشیا اور امریکا میں کاروبار و جائیدایں بنا کر وہاں کی شہریت حاصل کرلی۔اب بھی ان کے کاروبارو خاندان پاکستان سے باہر عیش و عشرت کی زندگی بسر کررہے ہیں۔

    جب تک پانی کے تقسیم کے منصفانہ نظام کو یقینی نہیں بنایا جاتا اُس وقت تک کراچی کو مکینوں کو پانی سرکاری پائپ لائنوں سے نہیں مل سکتا۔ اہل کراچی واٹر ٹینکر مافیا، پرائیوٹ پانی کمیٹی مافیا اور یوسی چیئرمینوں اور نائب چیئرمینوں و کونسلرز کے زیر انتظام نام نہاد سماجی تنظیموں کی آڑ میں عوام سے لوٹ مار کرتے رہیں گے۔ جو کروڑوں روپے حکومت کے خزانے میں جانے چاہیے وہ واٹر گولڈ مافیا کی جیبوں میں جاتا رہے گا اور منی لانڈرنگ کے ذریعے بیرون ملک اور کالعدم تنظیموں اور دہشت گردوں کو مالی مدد ملتی رہے گی۔ پانی کے ذریعے اربوں روپے کی منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کو معاونت کا انکشاف خود قانون نافذ کرنے والے ادارے کرچکے ہیں۔ضرورت اس بات کی ہے کہ جو پانی ہائیڈرینٹ کو پہنچ سکتا ہے وہ واٹر بورڈ کے پمپنگ اسٹیشن سے عوام تک کیوں نہیں پہنچ پاتا جب اس مسئلے کو حل کرلیں گے تو غیر قانونی پانی کمیٹیاں، ہائیڈرینٹ مافیا اور واٹر گولڈ مافیا سے نجات مل جائے گی۔ اہل کراچی کے دیرینہ مسئلے کو حل کرنے کے لئے سنجیدگی اور احساس ضروری ہے۔

  • error: Content is protected !!