Chitral Times

Oct 22, 2019

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • شہید اسامہ احمد وڑائچ کا خواب اور تعبیر ………تحریر :یاسر احمد

    July 8, 2019 at 5:14 pm

    تحریر :یاسر احمد (سیکنڈ ائیر سٹوڈنٹ شہید اسامہ وڑائچ کیرئیر اکیڈمی چترال)
    جو لوگ جیتی جاگتی آنکھوں سے خواب دیکھتے ہیں وہ خواب کبھی نہیں مرتے ہیں وہ ہمیشہ زندہ و تابندہ رہتے ہیں – اس طرح کے خواب دیکھنے والے لوگ دنیا میں معتبر اور منفرد ہوتے ہیں – یہ لوگ عوام الناس کے دلوں میں گھر کرنے کا ہنر خوب جانتے ہیں یہی لوگ دلوں پر حکمرانی کرتے ہیں – سول سروس کا ایک درخشان ستارہ اسامہ احمد وڑائچ شہید انہی لوگوں کے صف میں سب سے معتبر ٹھیرا – وژنیری جزبہ ان کی ہستی میں کوٹ کوٹ کر بھرا تھا محبتیں بانٹنے والا, عوام کے لیے درد دل رکھنے والا اور خدمت کے جذبے سے لبریز آفیسر تھے –
    سول سروس کو اسامہ نام پر ہمیشہ فخر رہے گا – سول سروس کو ایک نام اور مقام دے کر چلے گئے – ڈپٹی کمشنر کے عہدے کو معتبر بنا کر گئے – عام لوگوں اور خواص کا فرق مٹا کر چلے گئے – اپنے دفتر کا دروازہ ہر خاص و عام کے لیے یکسان کھلے رکھا – مظلوموں کا ساتھی ,غریبوں کا ہمدرد بے سہارا اور لاچاروں کا سہارا تھے -وژن کے منزل کو پانے کے لیے مشن کی راہیں بناتے گئے ہر سفر میں جذبہ ان کا زاد راہ ہوتا تھا – چترال کیرئیر اکیڈمی جس کا موجودہ شہید اسامہ وڑائچ کیرئیر اکیڈمی ہے ان کے عظیم وژن کی تفسیر ہے -یہ اکیڈمی انتہائ قلیل مدت میں کامیابیوں کے وہ جھنڈے گاڑے جو چترال کی تعلیمی تاریخ کو ایک نیا رنگ عطا کیا –

    طباء کے درمیان مقابلے کی فضا پیدا کرنے میں یہ اکیڈمی شاندار کردار ادا کر رہی ہے ہر سال ونٹر کلاسز کے آخر میں سیلف اسسمنٹ ٹیسٹ کرایا جاتا ہے جس میں پوزیشن حاصل کرنے والے سٹوڈنٹس کو لیپ ٹاپ انعام میں دیے جاتے ہیں – اس طرح کی حوصلہ افزائ سے طلباء میں خود اعتمادی اور محنت کا جذبہ بیدار ہوتا ہے – کیرئیر کونسلنگ اس اکیڈمی کا اہم شعبہ ہے جس میں سائنسی بنیادوں پر طلباء کی ذہانت کو ماپا جاتا ہے اور ان کی شخصیت , ذہانت اور مہارت کے مطابق کیرئیر کے انتخاب کے حوالے سے ان کی حوصلہ افزائ کی جاتی ہے –

    طباء کے درمیان مقابلے کی فضا پیدا کرنے میں یہ اکیڈمی شاندار کردار ادا کر رہی ہے ہر سال ونٹر کلاسز کے آخر میں سیلف اسسمنٹ ٹیسٹ کرایا جاتا ہے جس میں پوزیشن حاصل کرنے والے سٹوڈنٹس کو لیپ ٹاپ انعام میں دیے جاتے ہیں – اس طرح کی حوصلہ افزائ سے طلباء میں خود اعتمادی اور محنت کا جذبہ بیدار ہوتا ہے – کیرئیر کونسلنگ اس اکیڈمی کا اہم شعبہ ہے جس میں سائنسی بنیادوں پر طلباء کی ذہانت کو ماپا جاتا ہے اور ان کی شخصیت , ذہانت اور مہارت کے مطابق کیرئیر کے انتخاب کے حوالے سے ان کی حوصلہ افزائ کی جاتی ہے -غریب اور چترال کے پسماندہ علاقوں کے طلباء طلبات کو یہاں بالکل مفت معیاری تعلیم دی جاتی ہے – مختلف اداروں کے ساتھ روابط رکھ کر مستحق طلبا ء طلبات کے لیے پاکستان کے مختلف یونیورسٹیوں میں سکالرشپز کا انتظام کیا جاتا ہے –

    چترال کی تاریخ میں پہلی دفعہ اس اکیڈمی کے بینر تلے سی ایس ایس سیمینار کا انعقاد کیا گیا جسے عوامی سطح پر کافی سراہا گیا – استاد کی عظمت کا اعتراف کرنے کے لیے ہر سال شہید اسامہ اکیڈمی کی طرف سے چترال کے طول و عرض میں قابل اور محنتی اساتذہ کو ایوارڈ دیا جاتا ہے – ہر سال اکیڈمی کی طرف سے پرائیوٹ اور گورنمنٹ سکولوں کے طلبا طلبات میں عملی سائنس کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے سائنس ایگزیبیشن کا انعقاد کیا جاتا ہے – اس ایگزیبیشن میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلبا طلبات کی بھر پور حوصلہ افزائ کی جاتی ہے اور انہیں انعامات سے نوازا جاتا ہے –

    جدید فزکس اور جدید کمیسٹری کو ایک نئے انداز سے سٹوڈنٹس کو ڈیلیور کیا جاتا ہے – مضامین کے فلسفے سے سٹوڈنٹس کو واقف کرنے کے لیے یہاں جدید فلسفے کا خصوصی سیشن لیا جاتا ہے – مختلف سائنسی عالمی دنوں کو منا کر ان کے حوالے سے سٹوڈنٹس میں آگاہی کی فضا پیدا کی جاتی ہے – جتنے چترالی سٹوڈنٹس پاکستان اور پاکستان سے باہر نامی گرامی یونیورسٹیوں میں پڑھتے ہیں ان کو مدعو کر کے ان کو اپنے تجربات یہاں کے سٹوڈنٹس کے ساتھ شیئر کرنے کا موقع دیا جاتا ہے – چترال میں پہلی دفعہ یہاں ایس ایل اوز کی بنیاد پر ٹیچنگ اور لرننگ ہوتی ہے – جس سے یہاں کے طلباء طلبات خوب مستفید ہوتے ہیں – چترال میں پہلی دفعہ اس اکیڈمی میں ملک کے بڑے کیڈٹ کالجوں میں داخلے کے لیے سٹوڈنٹس کو تیار کی جاتی ہیں – ایٹا کے ساتھ ساتھ اے کے یو اور آرمی میڈیکل کالج کے سیلیبس بھی یہاں جدید انداز میں پڑھائے جاتے ہیں – غرض یہ کہ یہ اکیڈمی اللہ تعالی کی طرف سے چترالی قوم کے لیے ایک عظیم تحفہ ہے – اس اکیڈمی کو اس مقام تک پینچانے میں جس ہستی کا کردار ہے وہ اس اکیڈمی کے ڈائیریکٹر سر فداالرحمن ہے – سر فدا اسامہ صاحب کی شہادت کے بعد ان کے وژن کو مضبوطی سے تھامے رکھا ہر مشکل حالات کا ڈٹ کر مقابلہ کیا – اکیڈمی کو ناکام کرنے کے لیے مختلف لوگ اور گروہ ہر قسم کے چال چلائے لیکن سر فدا کی عزم و ہمت اور اخلاص کے آگے سب ناکارہ گئے – کیونکہ اللہ تعالی نیکی کرنے اور نیکی پھیلانے والوں کا ساتھ دیتا ہے – سر فدا اس اکیڈمی کی ترقی کے لیے اپنے شب و روز وقف کیے – اپنی ناساز صحت کے باوجود اسامہ صاحب کی امانت کا بھرپور خیال رکھا – ہمارے انگلش کا ٹیچر سر اہتشام بھی ہر لمحہ ہر پل اس اکیڈمی کی ترقی کے لیے دوڑتا ہی رہتا ہے -سر اہتشام کے پاس اکیڈمک کی زمہ داریاں ہیں جنھیں وہ احسان انداز میں نبھا رہا ہے – ہمارے ڈگری کالج کا ہر دلعزیز ٹیچر سر تنزیل کا بھی اکیڈمی کی کامیابی میں بہت بڑا ہاتھ ہے اپ اکیڈمی تو آج کل ٹائم نہیں دے سکتا ہے لیکن ان کا تعاون مختلف شکل میں ہر وقت اکیڈمی کے ساتھ ہیں –
    اللہ تعالیٰ اس اکیڈمی کو مذید کامیابی اور ترقی نصیب فرمائے – اس صدقہ جاریا کا اجر شہید اسامہ احمد وڑائچ کو عطا فرمائے اور ان کے درجات کو بلند فرمائے – آمین

  • error: Content is protected !!