Chitral Times

Aug 23, 2019

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • نوائے سرُود………….. بونے ( جشتان )………….. شہزادی کوثر

    July 4, 2019 at 9:03 pm

    کائنات کی وسعتوں میں انسان کے علاوہ بھی لاکھوں قسم کی مخلوقات اپنے رب کی قدرت کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ ان کے رنگ،بناوٹ،اور جسامت ہمیں سبحان اللہ کہنے پر مجبور کرتی ہے، ان کے علاوہ بھی ہو سکتا ہے ہزاروں اور مخلوق ہوں جنہیں دیکھا ہی نہ گیا ہو۔ چرند، پرند درند ،حشرات، جنات، پری،چڑیل،فرشتے، ابلیس ان میں سے ہر مخلوق کا وجود یقینی ہے لیکن بونوں کے بارے میں ہم شک و شبہ میں گرفتار ہیں کہ آیا ان کا وجود ہے بھی کہ نہیں؟ ۔۔۔۔

    کہا جاتا ہے کہ آدمؑ کا وجود تیار ہونے کے بعد گندھی ہوئی مٹی بچی تھی اس سے بونوں کی تخلیق ہوئی۔عام طور پر انسانوں میں سے جو لوگ کسی عارضے یا جسمانی کمزوری کی وجہ سے صحیح طور پر نشوونما نہیں پاتے انہیں بونا کہا جاتا ہے۔ حالانکہ وہ بالشتیہ ہیں یعنی ( ای ڈشٹی)، ایسے لوگوں کی نشونما نہیں ہو پاتی جو ان کے قد کو چھوٹا رکھنے کا سبب بن جاتی ہے۔ کہتے ہیں بونے انسان جیسا ہوتے ہوئے بھی الگ مخلوق ہیں۔یہ زمین کے اندر کسی کوہ یا غار میں کنووں ، دریاوں اور نہروں کے بےآب کناروں پراپنی بستیاں بساتے ہیں،ان کے ہاں بھی پورا معاشرتی نظام موجود ہوتا ہے۔ دنیا کی بہت سی زبانوں اور ملکوں میں ان کے بارے میں تصورات ملتے ہیں ۔ان کی زندگی پر کئی فلمیں بھی بنی ہیں۔ کھوار میں یہ تصور موجود ہے کہ بونے کی ٹوپی اپنے پاس رکھنے سے وہ ساری عمر آپ کی غلامی کرے گا۔ دیکھا جائے تو یہ ساری باتیں افسانوں سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں رکھتیں، لیکن بہت سے ایسے واقعات کے بارے میں کسی کتاب کی وساطت سے معلوم ہوا کہ یہ بے سروپا باتیں نہیں بلکہ حقیقت میں بونے موجود ہیں اور لوگ ان سے ملتے بھی رہے ہیں۔

    بابا یحیً خان اپنی کتاب ” کاجل کوٹھا” کے صفحہ نمبر 635 سے 649 میں لکھتا ہے، کہ زمانہ قدیم میں شاہی قلعہ لاہور کی جگہ ایک بڑا ٹیلہ ہوا کرتا تھا ۔ مغلوں کے دور سے بہت پہلے جب اس شہر کی بنیاد رکھی جا رہی تھی تو اس ٹیلے پر مٹی کی قلعہ نما عمارت تعمیر کی گئی، عسکری ضرورت و اہمیت کے علاوہ اس کا مقصد نئے شہر کی تعمیراتی سرگرمیوں پر نظر رکھنا بھی تھا۔ بعد میں اس پر عظیم الشان مندر اور آشرم بھی بنائے گئے۔وقت کے ساتھ ان عمارتوں کے خدو خال ماند پڑنا شروع ہوئے ؑتو عمارتیں گرائی جاتیں اور نئی بنائی جاتی، اسی طرح یہ ٹیلہ اونچا ہوتا گیا۔ پرانی عمارتوں کے کچھ حصے بچتے گئے بنیاد پر بنیاد چڑھا دی جاتی اور ڈھیر پر ڈھیر جما دیا جاتا، وقت کے نشیب و فراز نے قلعہ پر کئی موٹی تہیں چڑھا دی تھی۔مختلف مذاہب کے حکمرانوں سے ہوتا ہوا مسلمان جنگجووں سے بھی اس کا واسطہ پڑا۔ محمود غزنوی ،شہاب الدین غوری، منگول،سلطان بلبن اور امیر تیمورنے اس کے ایک خاص حصے کو تباہ کر دیا،جس کی مرمت مبارک شاہ نے کروائی، بعد میں جلال الدین اکبر نے کچے قلعے کو ختم کر کے عظیم الشان قلعہ تعمیر کروایا، جہانگیر اور اورنگزیب نے حسب استطاعت اندرونی حصوں کو مغلائی انداذ سے تعمیر کروایا لیکن شاہجہان جیسا اعلی اور ملکوتی ذوق والا حکمران کوئی اور دکھائی نہیں دیتا۔انہوں نے اپنی چہیتی ملکہ ممتاز محل کی خواہش پر بےحد سفید و شفاف قیمتی سنگ مرمر،راجھستان کے سنگ احمر بیش قیمت پتھروں اور بلوری آئینوں سے ایسا دلکش آئینہ خانہ تعمیر کروایا جس کی مثال سرزمین ہندستان میں کہیں اور نہیں ملتی تھی۔

    اس عمارت کی تعمیر ترک نژاد انجئنیرمصطفی قونی نے اپنی اعلی ذہانت سے ممکن بنائی تھی۔جس میں زیر زمین شاہی خواب گاہ ،تہ خانے ،قیلولہ کا حجرہ اور فواروں تک پانی کی رسائی کا ناقابل فہم انتظام تھا ۔ظاہر ہے ایسی تعمیرات کے لیے کھدائی بھی اسی حساب سے ہوئی تھی۔شیش محل کی تعمیر مکمل ہونے کے بعد ایک رات عجیب واقعہ ہوا ،، رات کے آخری پہر کچھ چھوٹے چھوٹے قد والے بونے ایک سیاہ رنگ کی کھٹولی اٹھائے شاہجہان کے رو برو حاضر ہوئے جس میں ایک سفید ریش بزرگ بونا ایسی جاہ وحشمت اور وقار سے بیٹھے تھے کہ بادشاہ حیران رہ گیا۔ پھر بادشاہ نے جھک کربونے سید بابا کے ننھے سے ہاتھ پر بوسہ دیا اور کھٹولے کو خدام کے کندھوں سے اٹھا کر اپنی مسند پر رکھتے ہوئے خود دو زانو ہو کر ان کے روبرو بیٹھ گئے،اور فرط عقیدت سے اپنے گلے سے موتیوں کی لڑی اتار کر سید بابا کے قدموں پہ نچھاور کر دیا، سید بابا نے اپنے ہاتھ کی باجرہ دانہ تسبیح ملکہ کے لیے تحفے کے طور پر دےدی ،اور کہا جس ٹیلے پر یہ قلعہ تعمیر ہوا ہے اس کے زیر زمین ہماری عبادت گاہیں ،آماجگاہیں اور قبیلہ داریون پر مبنی ایک جہان آباد ہے۔آپ کی تجاوزات ہماری انتہائی گہری حدود کو چھونے لگی ہیں جس سے ہمارے روز مرہ کے معاملات درہم برہم ہو کر رہ گئے ہیں ،ہمارے مقدس مقامات اور مزارات کی بی حرمتی کی نوبت آ گئی ہے، ہمارے کئی افراد شہید ہوئے پر ہم نے کچھ نہیں کہا ،لیکن پچھلے دنوں ہمارے جد امجد سید سبحانیؒ کے مزار کا ایک حصہ منہدم ہوگیا اور ہماری ایک قدیمی گزر گاہ مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہے۔۔۔۔

    یہ سن کر بادشاہ ندامت سے غرق ہو گیا ،انجانے میں ہونے والے نقصان کا ازالہ کرنے کا وعدہ کیا اور اپنی تقصیر کی معافی بھی مانگی ۔جب دونوں کے درمیانن معاملات طے پائے تو بادشاہ نے خود منقش طشتری میں بھرے زمرد دانے ،نیشاپوری فیروزے،عقیق یمنی کی ننھی سی تسبیح ،صندل اور لوبان کا برادہ ،کشمیری زعفران،عطر،اور قلمی مصحف پاک نذر کیا ،اور اپنی اس ملاقات کو راز رکھنے کا وعدہ کر کے سید بابا کو عزت و احترام سے رخصت کیا۔۔۔۔۔
    اس کتاب میں اور بھی بہت سے واقعات ہیں جن سے بونوں کے وجود پر یقین ہو جاتا ہے۔ قدرت کے لیے ان کی تخلیق کچھ مشکل نہیں انہیں زیر زمین رکھنے کی وجہ شائد یہ ہو کہ وہ ہمارے دست برد سے محفوظ رہ سکیں ورنہ ہم انہیں پکڑ کر اپنے بچوں کو کھیلنے کے لیے دے دیتے۔ یا بیچ کر پیسے کما لیتے۔ا

  • error: Content is protected !!