Chitral Times

Aug 23, 2019

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • ترش و شیرین……..شندور فیسٹیول اور کراچی کے مہمانوں کی شکایت…..نثار احمد

    July 3, 2019 at 5:45 pm

    (پچھلے سال شندور سے واپسی کے بعد اپنے تاثرات کالم کی شکل میں نذر ِ قارئین کیا تھا. اب جب شندور میلہ قریب ہے تو دوبارہ قارئین سے شئر کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے.)
    فلک شگاف پہاڑوں میں گھرے ہوئے، سطح سمندر سے بارہ ہزار فٹ بلند دنیا کے اس بلند ترین جُنالی( پولو گراؤنڈ) میں کھیلے جانے والے دلچسپ پولو میچ سے لطف اندوز ہونے کے لئے شائقینِ پولو پاکستان بھر سے بڑی تعداد میں یہاں آتے ہیں. اِن میں پنجابی، پختون اور مہاجر سبھی نسل و رنگ کے افراد ہوتے ہیں.
    پیسے جوڑ جوڑ کر سیاحت کے بہانے پاکستان کے کونے کونے کا طواف کرنے والے یہ حضرات جہاں ایک طرف اپنے شوقِ سیاحت کو تسکین بخشنے کے لئے ٹھنڈے علاقوں کا رُخ کرتے ہیں وہاں دوسری طرف کچھ دنوں کے لیے ان ٹھنڈے علاقوں میں پہنچ کر گرمی سے بھی نجات حاصل کرتے ہیں.
    یہ نو جولائی کی ایک خوشگوار، مگر قدرے خنکی آلود صبح تھی. فاینل میچ دیکھنے کے لئے جاتے ہوئے راستے میں بروک ( لاسپور) کے مقام پر ایک ہوٹل نما “شئی” میں ہم ناشتے کے لئے رُکے. قریب دیکھا تو چند مختلف العمر افراد پر مشتمل شہرِ قائد کے باسیوں کا ایک ٹولہ شندور سے واپسی کے سفر میں ناشتہ لینے، اور کچھ دیر سستانے کی غرض سے اِس ہوٹل نما شئی کی چٹائیوں پر بیٹھے ایران توران کی گپیں ہانک رہا ہے.. علیگ سلیگ اور معمول کے روایتی جملوں کے تبادلے کے بعد میں نے گلگت چترال کا فائنل مقابلہ دیکھے بغیر واپسی کی وجہ دریافت کی . نہایت ہی شستہ اور نفیس اردو میں اُن میں سے ایک پینتالیس چھیالیس سالہ شخص نے چائے کی چسکی لیتے ہوئے جواب دیا کہ “ارے میرے بھائی جب وہاں صحیح طریقے سے میچ دیکھ ہی نہیں سکتے تو وہاں رُک کر خواہ مخواہ کی خواری اور مٹی میں لت پت ہونے کا کیا فائدہ؟ اب ہر بندہ بے ہنگم ہجوم کے بیچ میں گھس کر پاؤں کی انگلیوں پہ ایستادہ سر اُٹھا اُٹھا کر میچ دیکھنے کی صبر آزما مشق جھیلنے سے تو رہا. وہاں میچ دیکھنے کے لئے بیٹھنے کی جگہ ہے اور نہ ہی بندہ کھڑا ہو کر سکون سے میچ دیکھ سکتا ہے”.. سلسلہ ء سوالات مزید بڑھانے پر دوسری جانب تشریف فرما بابا جی تقریباً پھٹ پڑا.. ” چترال سے اٹھارہ ہزار میں گاڑی اسپیشل کراکر شندور پہنچنے کا زرہ برابر فائدہ نہیں ہوا . جس مقصد کے لئے آئے تھے اُسے پا نہیں سکے. شندور پہنچ کر بھی پولو مقابلہ براہ راست دیکھنے کی آس ہی دل میں لیے واپس جا رہے ہیں. حالانکہ وہاں شندور میں پولو میدان کے چاروں طرف جگہ بہت ہے اگر انتظامات کئے جائیں تو آئے ہوئے سارے لوگ بآسانی میچ دیکھ سکتے ہیں ”
    اللہ اللہ کرکے ہم میچ شروع ہونے سے ٹھیک دو گھنٹہ قبل شندور پولو گراؤنڈ پہنچ گئے جہاں ایک طرف کچی سڑک پر پُرمشقت سفر جھیل کر یہاں پہنچنے والے تماشائیوں کی بڑی تعداد جمع تھی وہاں دوسری طرف اِنہیں بیٹھنے بٹھانے کا انتظام تقریباً ناگفتہ بہ تھا. ہجوم سے زیادہ بے انتظامی انتظامیہ کا منہ چڑا رہی تھی. حالانکہ انتظامیہ کی طرف سے لوگوں کو سہولت دینے کی نیت سے منظم منصوبہ بندی کے تحت تھوڑی سی بھی توجہ و محنت ہو جائے تو تمام لوگوں کو بیٹھ کر یا پھر کھڑے ہو کر میچ انجوائے کرنے کا موقع بآسانی میسر آ سکتا ہے.
    ظاہر ہے کہ “انتظامات” میں صرف وی آیی پیز کی راحت و سہولت کو مدنظر رکھا جائے گا تو پھر ایسا ہی ہو گا جیسے شندور میں کئی سالوں سے جشن شندور کو کامیاب بنانے والے عام شائقین کے ساتھ ہوتا آ رہا ہے.. جس طرح بقول یوسفی اسلام کے لئے سب سے زیادہ قربانی بکروں نے دی ہے اسی طرح شندور فیسٹیول کو کامیاب بنانے کے لئے عام شائقین ہی قربانی کے بکرے بنتے آ رہے ہیں.
    یوں وہاں پہنچتے ہی ہم نے قدرے بہتر جگے کی تلاش میں گراؤنڈ کا طواف شروع کیا. ہمارا مطمح نظر یہی تھا کہ کوئی ایسی پوزیشن نصیب ہو جہاں سے کھڑے ہو کر ہم پورے نہ سہی، کم از کم آدھے گراؤنڈ تک کا کھیل انجوائے کر سکیں. اچھی خاصی خاک چھاننے کے بعد نسبتاً ایک بہتر جگہ نظر آئی جہاں سے کھڑے ہو کر کسی حد تک میدان میں برپا مقابلہ دیکھا جا سکتا تھا.لیکن مسئلہ یہ تھا کہ جب ہمارے سامنے والے تماشائی جوش میں کھڑے ہوتے تو پیچھے سے ہمیں سامنے والوں کے صرف سر یا ٹوپی کا پچھلا حصہ نظر آتا. آخر ضرورت ایجاد کی ماں کیا، میرے خیال میں باپ بھی ہے اس مصیبت سے جان چُھڑانے کے لیے میں نے پانچ چھ پتھر ایک دوسرے کے اوپر رکھ اُن کے اوپر کھڑے ہو کر میچ دیکھنا شروع کیا..اب کبھی پتھر گرتے تو کبھی میں.. یوں ” انہدام و انتظام ” اور “سقوط و صعود “کے اس جنجال میں میچ دیکھنے کی اذیت مکمل کی.
    ادھر میچ کے دوران جب شندور کے تعارف میں اسٹیج سے بار بار بتایا جا رہا تھا کہ اس پولو گراونڈ میں کھیلے جانے والے پولو مقابلوں کی تاریخ دو سو سالہ پُرانی ہے اور جنرل ضیاء کے دور سے یہ مقابلے سرکاری سرپرستی میں جاری ہیں.. تو میں دل ہی دل میں سوچ رہا تھا کہ اتنے سال گزرنے کے باوجود بھی گراؤنڈ کے چارے طرف شائقین کے بیٹھنے اور میچ دیکھنے کے لیے جگہ نہ بنایا جانا سوالیہ نشان ہے..عارضی سہی، لیکن کوئی مناسب انتظام تو ہو.. اِس کی کل ملا کر دو ہی وجہیں ہو سکتی ہیں یا تو شندور گراؤنڈ کے لیے سِرے سے فنڈ ہی ریلیز نہیں ہوتا یا پھر شندور کے لئے ریلیز شُدہ فنڈ شندور پہ نہیں کہیں اور لگتا ہے. بقول کسی منطقی دونوں صورتیں غلط اور قابل اصلاح ہیں…
    بہرحال کراچی کے مہمانوں کی شکایت بجا ہے..اُن کی شکایت کا ازالہ اسی صورت میں ہو سکتا ہے کہ اگلے فیسٹیول میں کراچی کے مہمان میچ دیکھے بغیر نہ جائیں..

  • error: Content is protected !!