Chitral Times

Dec 7, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

زندگی ایک معمر استاد کی نظر میں……….تحریر: اقبال حیات اف برغذی

Posted on
شیئر کریں:

درس وتدریس کے پیشے سے سبکدوش ایک عمر رسیدہ شخص ایک دکان کے اندر کرسی پر بیٹھے دن کے اجالے میں ٹارچ کی روشنی کے سہارے کاغذ پڑھ رہے تھے۔ دکان کے قریب ایک کھلی جگہ پر کرکٹ کھیلتے ہوئے بچوں کی چیخ وپکار سے کان پڑی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی۔ دکاندار اس شورغل پر برہم ہوتے ہوئے باہر نکل کر بچوں پر برس پڑے اور چند نازیبا الفاظ استعمال کرنے پر موصوف استاد نے کاغذ کو تہہ کر تے ہوئے مسکرا کر دکاندار سے گویا ہوئے کہ برخواردار! چھوڑین بچے ہیں۔ عمر کے اس حصے میں ہر کوئی اس قسم کی کیفیت سے دوچار ہوتا ہے۔دنیا و مافیہا سے بے خبر صرف کھیل کود اور پیٹ کے امور کے احساس کے اس زمانے کو اگر بغیر سلطنت کے بادشاہی سے تعبیر کیا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ یہ دور پیار ومحبت کے تقاضوں کا حامل ہوتا ہے۔ اور اسلام میں بھی اس کی ترغیب ملتی ہے۔ ہمارے عظیم پیغمبرﷺ کا ارشاد ہے کہ جو کوئی ہمارے بڑوں کی قدراور چھوٹو ں پر شفقت نہ کرے وہ ہم میں سے نہیں۔ حضرت عمر اپنے دورحکومت میں ایک شخص کو ایک علاقے کی گورنری کے فرائض تحریری طور پر تغویض کرتے ہیں۔اسی دوران گھر کے بچے اندر آنے پر خلیفہ وقت انہیں گود میں لیتے ہوئے پیار کرتے ہیں۔نامزد گورنر خلیفہ سے پوچھتے ہیں کہ حضرت آپ بچوں کو ہر وقت اتنا چاہتے ہیں۔حضرت عمرؓ نے مثبت جواب دینے کے بعد ان کی کیفیت دریافت کرنے پر انہوں نے کہا کہ میں بچوں کو زیادہ قریب آنے نہیں دیتا۔ حضرت عمرؓ تقرر ی کے کاغذات ان سے واپس لے کر فرمانے لگے کہ جوشخص بچوں سے پیار نہیں کرتا اس سے اتنے بڑے منصب پر فائز ہونے کو کوئی حق نہیں ہوتا۔ حقیقت یہ ہے کہ انسانی زندگی کا یہ ایسا دور ہے کہ جس کا رنگ ڈھنگ اپنی نوعیت کے لحاظ سے مختلف ہوتاہے۔ اور بچہ زندگی کے اسلوب سے ناآشنا اپنے من میں محور ہتا ہے۔ اس دور کے اندر بیتنے والے تمام لمحات زندگی بھر یاد رہتے ہیں۔ اس سلسلے میں صاحب موصوف نے خودپر بیتے ایک واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ مجھے سکول میں جب داخل کیا گیا تو ایک دن شدید سردی میں ناک سے بہنے والے فضلات کا خیال کئے بغیر تختہ سیاہ ہاتھ میں لئے جارہا تھا۔کہ ریاستی دور کے ایک مراعات یافتہ معتبر شخص سامنے سے آتے ہوئے کراہت کا اظہار کرکے کہنے لگا کہ تم سکول جاکر کیا کروگے۔ اپنا ناک صاف نہیں کرسکتے اگر تم ماسٹر بھی بن گئے تو میں تجھ سے کبھی کچھ نہیں لکھواوں گا۔ وقت گزرنے کے بعد اس دور کے سکول ٹیچر کے لئے مطلوب آٹھویں جماعت پاس کرکے اس پیشے سے منسلک ہوا۔اسی دوران ایک دن مذکورہ معتبر شخص زمین کے تنازے کے سلسلے میں درخواست لکھوانے کے لئے میرے گھر آئے تو ان کی زبان سے نکلے ہوئے بچپن کے دل آزار جملے مجھے یاد آکر ہاتھ بے ساختہ ناک کی طرف اٹھے۔عمر کے اختتامی لمحات میں پھر انسان اسی بچپن کی کیفیت سے دو چار ہوتا ہے۔بہتے ہوئے لمحات ایک خواب کی حیثیت اختیار کرجاتے ہیں۔ عقل و خرد کے دروازے کھول کر اگر حقیقت کی نظر سے دیکھا جائے تو زندگی کے بارے میں طویل عمر گزارنے کے باوجود نوح علیہ السلام کا ایک دروازے سے داخل ہوکر دوسرے دروازے سے باہرنکلنے کی کیفیت سے تشبیح دینے کے بارے میں دو رائے نہیں ہوسکتی۔ لیکن دنیا کی کشش اور فریب کے شکار ہوکر بقول قرآن انسان خسارے کا شکار ہوتا ہے۔ جاہ وحشمت کی طلب،مال ودولت کی آرزو،اقتدار اور بڑھائی کی ہوس،حسب نسب پر گھنمڈ زندگی کے حقیقی زنگ کو فراموش کرنے کا سبب بنتے ہیں۔صاحب موصوف نے اپنی نوے سال کی طویل عمر کے تجربے کی بنیاد پر بیتے ہوئے لمحات پر سرد آہ بھرتے ہوئے کہا کہ اللہ رب العزت کی ذات اقدس پر کامل ایمان کے بعد بنی نوع انسان کی بلا تخصیص تعظیم وتکریم،کسی کی تضحیک سے اجتناب،ہر کسی کو خود سے برتر تصور کرنے اور خدمت خلق کو شعار بنانے والوں کو عزت ووقار سے جیتے ہوئے دیکھا ہے۔دنیا کی تاریخ بھی اس حقیقت کا ائینہ ہے کہ خدائی کے دعویدار جابر انسانوں کا نام سن کر نفرت کا احساس ہوتا ہے۔ اور اس کے برعکس حقیقی بندگی کی بنیاد پر غلامی کی زنجیروں سے آزاد ہوئے انسان کے قدموں کی آواز عرش پر سنے گئے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


شیئر کریں: