Chitral Times

Oct 15, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

سٹائلش شہسوار شاہ جی………..تحریر: نوراللہ یفتالی

Posted on
شیئر کریں:

جھپٹنا،پلٹنا ،پلٹ کر جھپٹنا لہو گرم رکھنے کا ہے اک بہانہ

شہسواری ، پھرتی اور پولو کھیلنا شاہ جی کو وراثت میں ملی ہے۔فری اسٹائل پولو کی دنیا کا خوبصورت اور اسٹایلش شہسوار شھزاد احمد شاجی مرحوم شاجی عبدلوعدود المعروف شاجی صوبیدار سنوغر جو پولو کی دنیا کا ایک نامور ستارہ گزرا ہ ہے کا صاحبزادہ ہے۔

مرحوم شاہ جی صوبیدار چترال کی فری اسٹائل پولو کی تاریخ کا وہ نامور کھلاڑی گزرا ہے جس کی شہسواری اور کھیلنے کے انداز کو چترال و گلگت کے کھلاڑی اپنانے میں فخر محسوس کرتے تھے۔جوکھیل کے دوران اپنے حسن اخلاق اور خاص کر کھیل کے دوران گھوڑوں کا انتہائی خیال رکھا کرتا تھا۔تاکہ اس کی بال یا اسٹک کہیں گھوڑے کو نہ لگے ۔

مرحوم شاجی صوبیدار کی یہ اصول اسے دوسرے کھلاڑیوں سے منفرد کیا کرتے تھے اور تماشایئوں میں بھی گہرا اثر چھوڑتے تھے اور چوگان میں وہ ہی شاہ جی سب سے زیادہ داد وصول کرنے والا شہسوار ہوا کرتاتھا۔

چترال کی تاریخ میں پہلی بار پنجابی گھوڑے کا استعمال مرحوم شاجی صوبیدار نے کیا، ٹیٹری مست اس گھوڑے کا نام تھا۔جو گورنر اف مستوج شھزادہ خوشوقت الملک (مرحوم) نے مرحوم شاجی صوبیدار کو بطور مہربانی پیشہ کیا تھا۔

مرحوم شاجی نے اپنے پولو کھیلنے کے دوران ہمیشہ مخالف ٹیم پر بھاری ثابت ہوئےہیں۔فری اسٹائل پولو میں تھمپوق لانا وہ لمحہ ہوتاہے ۔جس میں کھلاڑی اپنے گھوڑےکو سرپٹ دوڑاتے ہوئے دھول کی تھاپ ،تماشایئوں کی داد اورتالیوں کی گونج میں تھمپوق لےکے چوگان کے وسط میں پہنچ کر اپنے اسٹک سے ہٹ کرتا ہے۔تھمپوق لانے اور ہٹ کرنے میں مرحوم شاجی کا کوئی مد مقابل نہیں تھا۔جشن شندور کے موقع پر سن۱۹۶۰ میں گلگت اور چترال کے مابیں کھیلا جانے والا میچ اب اس وقت کے بزرگ یاد کرتے ہیں،جب صوبیدار شاجی نے اپنے گھوڑے ٹیٹری مست کو سرپٹ دوڑاتے ہوئے شندور گراونڈکے سایئڈ کے دیواروں کے اوپر سے بال کوہٹ کر گول کرکے ایک ناقابل یقین ریکارڈ قایم کیاتھا۔جو گلگت پولو ٹیم کو نو گول کے مقابلے میں صفر سےہرایاتھا۔

شرافت اور اخلاقی اصولوں کو پاس رکھتے ہوئے پولوکھیلنا صوبیدارشاجی (مرحوم) کی خاندانی روایت میں شامل ہے۔کہتے ہیں کہ فری اسٹائل پولومیں کوئی بھی کھلاڑی اپنے ذاتی گھوڑے کےعلاوہ کسی دوسرے کی گھوڑے سے پولونہیں کھیل سکتا،لیکن صوبیدار شاجی ہی وہ شہسوار تھا جو ہرقسم اورہر نسل کے گھوڑے سے پولو کھیلنے کا ہنر خوب جانتے تھے۔

بابائے پولو مظفر علی خان آف جنگ بازار اپنے دور میں اس بات کا اعتراف کیا کرتے تھے کہ شاجی صوبیدار جیسا پولو کھیلنا ہم سب کی بس کی بات نہیں، یہ الفاظ صرف وہ ہستی زیر لب لاتے ہیں جنہیں ایک دوسرے کی قابلیت کا بخوبی پتہ ہوتاہے۔

کہتے ہیں کہ تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے۔
خاندانی روایات کو برقراررکھتے ہوئے اپنے قوم و خاندانی کھیل کو مزید فروغ دینے کا ذمہ مرحوم صوبیدار المعروف شاجی صوبیدار کے بڑے فرزند ارجمند صوبیدار شاجی عبدالروف نے لے لی۔چترال سکاوٹس میں بطور صوبیدار اپنے حسیں دور کا سب سے خوبصورت شہسوار تھا۔جو سب ڈئیژن کی ٹیم نمایندگی کرتا رہا۔پاکستان انٹرنشینل آیرلائن کے ٹیم کے مدمقابل تاریخی شندور میلہ میں حصہ لے چکا ہے۔(ر)صوبیدارعبدولروف کے متعلق پولو کے شایقیں اس بات دعوا کرتے ہیں کہ کھیل کے دوراں صوبیدارعبدورلروف کا اسٹک اگر گرے تو وہ خود گھوڑےسے نیچے جھک کر اٹھا لیا کرتاتھا۔

مرحوم شاجی صوبیدار کا ہنس مک صاحبزاہ خوبصورت شہسوار، اسٹائلش شاجی شھزاد احمد بھی اپنے دور کی پولو کا ایک ابھرتا ہوا ستارہ ہے۔اپنے بابا کیطرح کی شہسوار اور کھیل کے دوراں اخلاقی اصولوں کی پاسداری کرنے والا پھوک شاجی صرف دو سال کا ہوا تو باپ کا عظیم سایہ سر اٹھا،اپنے بڑے بھائی صوبیدار (ر) شاجی عبدورلروف کے زیر سایہ تربیت پائی اور فری اسٹائل پولو کے جادوگری جیسے ہنر بھی اپنے بڑے بھائی حاصل کی۔پھوک شاجی کے نام سے پولوکی دنیامیں شہرت کے بلندیوں کو چھو لینے والا شھزاد احمد
کئی بارتاریخی شندورمیلہ میں میں آف دی میچ کے ایورڈ اپنے نام کرچکا ہے اور چترال سےباہر بھی متعدد بار انٹرنشنل پولو میں حصہ لے چکا ہے۔اور چترال کی نمایندگی کرتا رہتا ہے۔شاجی فری اسٹائل پولو کی دنیا کا اسٹائلش کھلاڑی کے نام سے بھی مشہور ہے۔ہرکھیل میں پھوک شاجی کا انداز اکثرمختلف ہوتا ہے۔

جشن چترال میں ایک دلچسپ اور سنسنی خیز مقابلے کے بعد شھزاداحمد شاجی کی شاندار اور جارحانہ کھیل سے متاثر ہوکر شھزادہ سکندر الملک نے اپنے بابا گورنر آف مستو ج شھزادہ خوشوقت الملک سے پوچھتے ہیں۔ کہ بابا آپکا شاجی چمپین ہے یا میرا شاجی۔ اس مکالمے پر شھزادہ گورنر آف مستوج جواب میں ان الفاظ سے اپنے صاحبزادے سے مخاطب ہوتے ہیں۔بیٹا سکندر ! اگر آپ کے شاجی کے سواری میرے شاجی کے پاس اس دور میں ہوتے تو شاید یہ پوچھنے کی نوبت نہ ہوتی۔میرا شاجی کا کوئی ثانی نہیں ۔
پولو ہمارا قومی و ثقافتی کھیل ہے۔اس کی بہتری کےلئے سب مل کر کام کریں!

ہماری ثقافت ہماری پہچان


شیئر کریں: