Chitral Times

Oct 28, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

کُنج قفس….. میٹرک کے نتائج …………(الطاف اعجاز گرم چشمہ)

Posted on
شیئر کریں:

پہلے نمبر پہ آنے کا مطلب ہر گز یہ نہیں کہ زندگی بھی پہلی نمبر پر آئے، اور نہ ہی کم نمبر زندگی کو پیچھے لے جاتی ہے۔ ممکن ہے کہ آپ بہت پیچھے ہو مگر خوشی خوشی چاہتے ہو کہ زندگی یونہی جاری ہے،اوریہ بھی ممکن ہے کہ آپ سب سے آگے ہومگر اس خواہش کے ساتھ کہ یہ سفرکب انجام کو پہنچے گی، جاننا ضروری ہے کہ صرف کوشش ہی نہیں، اس کھیل میں کسی اور کا بھی ہاتھ ہے۔

ہماری لاشعور میں جو خیال مضبوطی سے جم جاتا ہے وہی خیال ایک نہ ایک دن عمل بن کر واضح ہو تا ہے۔ کہنا یہ ہے کہ میٹرک کے نتائج آنے والی ہیں، اس لئے ہر اس بندے سے جو خود تیر مار کر اس مرحلے سے گزرا ہے یہ گزارش ہے کہ جب نتائج کا اعلان ہو تو اپ عقل سے پیدل مت ہوجائیں، پورے شد ومد کے ساتھ تیار مت رہیں کہ آپ کے گھر میں پڑنے والے میٹرک کے بچے کتنے نمبر لاتے ہیں، سانپ کی سی روپ میں مت آجائیں کہ ان کو ضرور اپ نے طعنہ دینا ہے۔ اپنا شہنشاہی بینڈ تو آپ پہلے سے ہی ان کے لئے بجا بیٹھے ہیں کہ ان کو کسی بھی صورت بس اعلی نمبر لانا ہے۔(اُس طرح کا نمبر جو آپ خود اپنے زمانے میں لائے تھے۔۔۔ہے نا؟) اور آپ کی اس جابرانہ تنبیہ کو ان بچوں نے اپنی رگ رگ میں کتنی گہرائی تک محسوس کیے ہیں اس کا اندازہ اکثر آپ اس وقت ہی لگاتے ہیں جب سب کچھ ختم ہوچکا ہو، جب لوگ پھواڑے لے کر قبر بنانے میں مصروف ہوں۔

میں یہ نہیں کہتا کہ اپ کی اولاد کے لئے نمبرز ضروری نہیں، نمبر ضروری ہیں مگر نمبرزندگی تو نہیں ہیں۔ کہنا یہ ہے کہ آپ میٹرک کے نمبرز کو زندگی کہہ کر بچے کے لا شعور کو یقین دلا رہے ہیں کہ کم نمبر لانے کامطلب موت ہے، یعنی زندگی کے ایک دھاگے کو ننانوے دھاگوں سے بھاری قرار دے رہے ہیں۔ اور اگر آپ کے ان تمام دباؤ کے ساتھ وہ تھوڑا بہت انا پرست بھی ہو تو تو وہ آسانی سے خودکشی کر بیٹھتا ہے۔

اور اگر ہونے اور نہ ہونے کے درمیان ان نمبروں کو رکھ کر دیکھا جائے، تو یقیں مانیں کہ ان نمبروں کا سرے سے ہی کوئی حیثیت نہیں رہتی۔۔۔یا پھر اگر دور کی سوچی جائے تو بعض لوگ ان نمبروں کو رزق کے لئے ترازو بناتے ہیں یعنی جتنازیادہ نمبر اتنا زیادہ رزق کے امکانات، ان قسم کے لوگوں کو خود کے ساتھ ساتھ اپنے ارد گرد مشاہدہ کرنا لازم ہے کہ اعلی نمبروں والے حضرات بے روزگار پھرتے ہیں اور ان کو آپنی ڈگریوں سے وحشت ہوتی ہے، اور تھوڑے نمبر والے آپنی زندگی کی بھاگ سنبھال چکے ہیں، یہ سب خدا کے کرشمے ہیں۔رزق کو میٹرک یا دوسرے کسی امتحان کے نمبروں سے منسلک کرنا ایک احمقانہ سوچ ہے۔

جو بچہ جتنا نمبر لے آیا بس اتنا نمبر لے آیا۔۔۔ کہانی ختم،، مزید تجزیے کی ضرورت نہیں اس کے لئے ہزاروں اور دروازے کھلے ہیں، دھرج رکھیں، اسے ذدکوب نہ کریں، طعنہ مت دیں، اپنی بد دعائی کے لپیٹ میں مت لائیں، اسے عجیب ناموں سے ملقب نہ کریں، ذرا ٹھریں اور خود سے سوال کریں آیا آپ خود آپنے زمانے میں ٹاپ کر گئے تھے کہ اب اس ناچار کو اوپر پھینک کر نیچے تلوار پکڑ رہے ہیں۔ ایسا ہر گز نہ کریں، اس نے کوشش کی اور اب اس کے حصے میں جو کچھ ہونا تھا ہوا، صبر کریں اور اپنے اولاد کے سامنے اب نمبروں کی قیمت کم کرکے زندگی کی قدر کو اوپر اٹھائیں، ورنہ وہ دنیاکو اپ کے لئے چھوڑکر جا بھی سکتا ہے۔


شیئر کریں: