Chitral Times

Dec 3, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

خیبرپختونخوا کابینہ نے سال 2019-20 کیلئے بجٹ تجاویز کی منظوری دیدی

Posted on
شیئر کریں:

پشاور(چترال ٹائمزرپورٹ ) وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے کابینہ بجٹ اجلاس کو تاریخی اہمیت کا حامل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ تاریخ میں پہلی مرتبہ صوبائی کابینہ نے قبائلی اضلاع کیلئے سالانہ بجٹ تجاویز کی منظوری دی ہے اور واضح کیا ہے کہ محکمہ خزانہ اور پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ کی انتھک محنت اور کاوشوں کی بدولت ، باوجود مالی مشکلات کے سالانہ ترقیاتی پروگرام گذشتہ سال کے مقابلے میں 41 فیصد زیادہ ہے ۔ کابینہ سے خطاب میںوزیراعلیٰ نے کہا کہ ملک کی تاریخ میں خیبرپختونخوا کا سب سے بڑے حجم والے بجٹ کی تجاویز کی منظوری دی گئی جس کا کل حجم 900 ارب روپے ہیں۔اس بجٹ میں پسماندہ اضلاع کو زیادہ اہمیت دی جارہی ہے تاکہ ان اضلاع کو ترقی یافتہ اضلاع کے برابر لایا جاسکے ۔ انہوں نے کہا کہ پہلی مرتبہ قبائلی اضلاع کا بجٹ تیار کیا گیا ہے جو پچھلے سال کے مقابلے میں تین گنا زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کی ریشنلائزیشن پالیسی کے تحت مالی بچت ممکن ہوئی ہے جس کی بدولت ترقیاتی منصوبوں کو زیادہ توجہ دی جا سکے گی۔ کابینہ اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے محکمہ خزانہ نے واضح کیا کہ آنے والے بجٹ میں پبلک سیکٹر میں41,000 سے زائد ملازمتیں مہیا کی جائیں گی۔ اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ سابقہ فاٹا کے 92 ہزار سے زائد ملازمین کو خیبرپختونخوا میں ضم کیا جا چکا ہے جبکہ قبائلی اضلاع کے علاوہ خیبرپختونخوا کے سالانہ ترقیاتی پروگرام کا حجم گذشتہ سال کے مقابلے میں 31 فیصد زیادہ ہے اور قبائلی اضلاع کے سالانہ ترقیاتی پروگرام کا حجم گذشتہ سال کے مقابلے میں تین گنا زیادہ ہے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ 17 ارب روپے قبائلی اضلاع میں عارضی آئی ڈی پیز کے ریلیف کیلئے مختص کئے گئے ہیں ، چھ ارب روپے نرسنگ طلباءکیلئے مختص کئے گئے ہیں جبکہ محکمہ تعلیم میں طالب علموں کی تخلیقی صلاحیتوں کو اُجاگر کرنے کیلئے تین ارب روپے مختص کئے گئے ہیں اس موقع پر صوبائی کابینہ نے کابینہ ممبران کی تنخواہوں میں 12 فیصد کمی، جبکہ پنشن میں 10 فیصد اضافے اور کم سے کم اُجرت 17500 روپے رکھنے کی تجویز کی بھی منظوری دی ہے۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے بجٹ کی تیاری پر محکمہ خزانہ ، پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ اور کابینہ ممبران کی کاوشوں کو سراہا اور ان کا شکریہ بھی ادا کیا۔


شیئر کریں: