Chitral Times

Aug 19, 2019

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • داد بیداد ………عید کا تحفہ ……….. ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی ؔ

    June 10, 2019 at 8:44 pm

    پشاور میں چپل بنا نے کے ایک کاریگر نے وزیراعظم عمر ان خان کے لئے تاریخ میں پہلی بار سانپ کی کینچلی (کھا ل) ے چپل تیار کیا وہ یہ چپل عید پر وزیراعظم کو تحفہ دینا چاہتا تھا مگر جنگلی حیات کے محکمے نے ”جنگل کے قانو ن“ کے تحت چپل اپنی تحویل میں لیکر تحقیقات کا آغاز کیا کہ چپل بنا نے والے نے سانپ کو کیو ں مارا؟ سانپ کی کھا ل کیسے اتاری؟ دونوں سوالات اناڑی پن کے نمو نے ہیں بعض جانوروں مثلاً،قطبی ریچھ، سانپ،کپڑے مکو ڑوں کی متعد د اقسام ایسی ہیں جو غیر فعالیت (Hibernation) کی حالت میں بے حس اور بے سد ھ ہو جاتے ہیں سانپ کا شمار بھی ان جانوروں میں ہوتا ہے سانپ کی کھال یا کینچلی کو اس کے بد ن سے الگ کر نے کے لئے سانپ کو مارنا نہیں پڑتا بلکہ زند ہ سانپ جب خو ابید گی کی فطر ی حالت سے با ہر آتا ہے تو اپنی کینچلی اتار دیتا ہے نیچے نئی کینچلی آچکی ہو تی ہے یہ سانپ کی کھال ہے بھارت، پاکستان، چین، تھا ئی لینڈ اور دیگر ممالک کے سپیر ے اس کینچلی کو فروخت کر تے ہیں یہ جلدی بیماریوں کے مرہم اور دیگر ادویات میں استعمال ہو تا ہے تو ہم پرست لو گ اس کو موذی جانوروں سے بچنے کے لئے گھروں میں رکھتے ہیں اور اس کی دھونی بھی دیتے ہیں سانپ کی کینچلی کسی کے قبضے سے برآمد ہو نا ہر گز قابل دست اندازی پولیس جرم نہیں مگر وائلڈ لائف والوں کو وائلڈ لائف کے فطر ی تقاضوں کا علم نہیں ہوتا،وہ سانپ کو جانتے ہیں سانپ کی کینچلی کو نہیں جانتے ان کا خیال ہے کہ سانپ کی کینچلی حاصل کر نے کے لئے سانپ کو مارنا شر ط اول ہے فنی اور تکنیکی تفصیلات سے ہٹ کر وائلڈ لائف والوں نے رنگ میں بھنگ ڈال کر بُرا نہیں کیا اخباری اطلاعات کے مطابق سانپ کی کھال سے بنی ہو ئی چپل کی قیمت 40 ہزار وپے ہے اور دو کاریگروں نورالدین، اسلام الدین کا ابتدائی بیا ن یہ ہے کہ رنگین سانپ کی موٹی کینچلی پاکستان میں دستیاب نہیں یہ امریکہ سے درآمد کی گئی ہے ڈالروں کے مول آئی ہے اور ڈالر نے جس طرح پاکستا نی روپے کو چاروں شا نے چت گرایا ہے اس کا علم سب کو ہو چکا ہے.

    آخر ی اطلاعات آنے تک وائلڈ لائف کے حکام کاریگروں سے منی ٹر یل Money Trial مانگ رہے ہیں کہ درآمد کر نے کا ثبوت کیا ہے؟ ادائیگی کس طرح ہو ئی؟اور کس نے فراہم کی؟ وائلڈ لائف حکام نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ملزمان خود کو قانو ن کی گرفت سے چھڑ انے کے لئے وزیراعظم کے نا م اور منصب کا جھوٹا سہارا لے رہے ہیں ہمارے دوست پروفیسر شمس النظر شاہ فاطمی ہر خبر میں شر کے با و جود خیر کا کوئی نہ کوئی پہلو ضرور نکالتے ہیں اس خبر میں اگر چہ شر ہی شر ہے مگر اُن کا کہنا تھا کہ اس میں خیر کا پہلو شر سے زیادہ ہے شکر ہے اس عید پر سانپ کی کھال کے چپل وزیراعظم عمران خان تک نہیں پہنچے اگر چھوٹی عید پروہ سانپ کی کھال کے چپل پہن لیتے تو بڑی عید کے لئے شیر کی کھال کے چپل بنا نے کی فر مائش کر تے اب شیر نہ خوابید گی،غیر فعالیت میں جاتا ہے نہ اس کی کوئی Hibernation ہے نہ کوئی کینچلی ہے اگر شیر کی کھال کے چپل پکڑ ے گئے تو وائلڈ لائف والوں کے لئے سچ مچ شیر مارنے کے بعد اس کی کھال اتارنے کا مقد مہ بنے گا اور چپل بنا نے والا سچ مچ قانو ن میں گرفت میں آجا ئیگا فی الحال یہ خطر ہ ٹل گیا ہے اگر چند دنوں میں سانپ کی کھال کے چپل وائلڈ لائف والوں کے دست برد سے واگذ ار کر کے وزیراعظم عمر ان خان کو پیش کے گئے تو وہ اگلے سال کی چھوٹی عید کے لئے شیر کی کھال کے چپل کا آرڈر دید ینگے یہ الگ بات ہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے پہلے ہی اپنے بیٹ کا بٹ مارکر شیر کے چھکے چھڑا دیئے ہیں مگر شیر ابھی مرا نہیں ہے ابھی کھال اتارنے کی نو بت نہیں آئی پاکستانی سیاست میں علامتوں کا استعمال نیا نہیں 1990؁ء کی انتخابی مہم میں شیر وزیر اعظم کے قریبی ساتھی اور اتحادی شیخ رشید کاانتخابی نشا ن تھا وہ سرکس کے شیر کو پنجرے کے ساتھ لاری پر سوار کر کے جلسوں اور جلو سوں میں لایا کر تے تھے یا دش بخیر جنر ل مشر ف نے نواز شریف کوگرفتار کر کے کچھ عر صہ کے لئے لانڈھی جیل کراچی منتقل کیا جہاں جہا ز کے اغواکا کیس چل رہا تھا خیر سے نواز شریف کے دور میں آصف زر داری کو قید کر کے اُسی جیل میں رکھا گیا تھا جیل میں 25 دسمبر کا دن آیا جو نواز شریف کی سالگرہ کا دن ہے آصف زر داری نے نوازشریف کے لئے شیر کی شکل کا بڑاکیک تیا ر کر وایا اس کو شیر کی کھال کا رنگ دیکر تلوار اُس کے اوپر رکھ کر اپنی کو ٹھڑی سے نواز شریف کو بھیجا کہ لو بھئی تلوارسے شیر کے ٹکڑے کرو اور سالگرہ مناؤ،عیش اڑاؤ تم بھی کیا یا د کر وگے کس سخی سے پا لاپڑا تھا افسو س اس با ت کا ہے کہ وائلڈ لائف والوں نے اس عید پر سانب کی کھال کے چپل وزیر اعظم عمران خان تک پہنچنے نہیں دیئے.

  • error: Content is protected !!