Chitral Times

Jun 18, 2019

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • ضم شدہ قبائلی اضلاع کیلئے این ایف سی فنڈنگ ……. تحریر: محمود خان وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا

    June 2, 2019 at 8:04 pm

    ضم شدہ قبائلی اضلاع کیلئے این ایف سی فنڈنگ، ماضی کی غلطیوں کو ٹھیک کرنے کی کوشش…. تحریر: محمود خان وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا

    قبائلی اضلاع کا خیبر پختونخوا میں مئی 2018 میں ضم ہونا اور مشرقی جرمنی کا مغربی جرمنی میں اکتوبر1990کو ضم ہونا تقریبا ایک جیسے واقعات ہیں ان دونوں واقعات کا الگ الگ تاریخی پس منظر ہے ۔ جرمنی کی یک جہتی کے معاملے کو دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ مشرقی جرمنی نے مغربی جرمنی کو اپنے اندر ضم کرنے اور اسے ترقیافتہ علاقوں کے برابر لانے کے لئے بہت ہی قابل قدر اقدامات اٹھائے جس کی مثال مندرجہ ذیل اعداد و شمار سے ہوتا ہے ۔

    شرقی جرمنی نے 1991سے 1999تک اس نے اپنی جی ڈی پی کا6.5فی صد یعنی 180بلین ڈی ایم سالانہ مغربی جرمنی کے غریب عوام اور غیر ترقیافتہ علاقوں پر خرچ کیے۔جرمنی کی مثال کو ذہن میں رکھ کر دیکھیں کہ ہم اپنے افسانوی قبائلی علاقے صوبہ خیبرپختونخوا میں شامل ہونے کے بعد کیا کچھ کر رہے ہیں ان کی ترقی اور خوشحالی پر کتنا خرچ کر رہے ہیں۔ قبائلی علاقے جو اب خیبرپختونخوا کا حصہ بن چکے ہیں تاریخی لحاظ سے ترقیاتی کاموں کے حوالے سے نہایت پسماندگی کا شکار رہے ہیں۔ وہاں پرترقیاتی کاموں میں سست روی نہ صرف ایک جغرافیائی اور ثقافتی مسئلہ ہے بلکہ یہ سات عشروں پر محیط مالی وسائل نہ دینے کی وجہ ہے۔

    صوبے اپنے محدودوسائل کی بدولت کے باوجود اپنے زیادہ تر فنڈ نیشنل فنانس کمیشن سے حاصل کر لیتے ہیں۔ پچھلے عشرے میں پنجاب کو 13261روپے فی کس کے حساب دئیے گئے۔ سندھ کو 16489روپے، بلوچستان کو 19480روپے اور خیبر پختونخوا کو 14165روپے فی کس کے حساب سے دئیے گئے۔ ضم شدہ قبائلی اضلاع جو ابھی تک فاٹا کہلاتا کو یہ سہولت نہیں دی گئی جس کی وجہ سے وہاں پر 8411روپے فی کس کے حساب سے وسائل دئیے گئے جو بہت کم ہے یہ سب کچھ اس کے باوجود کہ دو امیر صوبے اپنے وسیع ٹیکس بیس کی وجہ سے اضافی فنڈ بھی لیتے رہے ہیں۔ یہ خوش قسمت صوبے اپنے صنعتی ذرائع سے بھی وسائل پیدا کر سکتے ہیں۔ پاکستان کے بڑے شہری مراکز کراچی او رلاہور جہاں پر حکومتی وسائل خرچ ہونے سے نجی شعبے کی سرمایہ کاری بھی ہو رہی ہے۔

    یہ قبائلی اضلاع جو گزشتہ سات عشروں سے نظر انداز ہوتے چلے آرہے ہیں کو اتنے وسائل ملنے چاہیے تاکہ وہ ملک کے دوسرے ترقیافتہ علاقوں کے ساتھ برابر ہو سکیں۔پچھے عشرے کا اعداد و شما رظاہر کرتا ہے کہ فاٹا ملک کے دوسرے صوبوں کی نسبت این ایف سی سے بہت کم وسائل وصول کرتا رہا ہے، سکول اور صحت مراکز بھی ضرورت سے بہت کم تعمیر ہوئے۔ فی الحال 0.45ملین بچے سکولوں سے باہر ہیں جو ہر قسم کی منفی ترغیبات کا شکار بن رہے ہیں۔مشکل جغرافیائی حالات کے باوجود سڑکوں کا تناسب 0.26کلومیٹر فی سکوئر کلو میٹر ہے جس کی وجہ سے مارکیٹ اور پبلک سروسز تک رسائل ناممکن ہے۔زچکی کے دوران ماؤں کی اموات کی شرح 375ہے جو ساری دنیا میں بلند ترین ہے۔ ملک کے ہر ضلعے میں مختلف محکموں کے درجنوں دفاتر جو عوام کو سہولتیں فراہم کرتے ہیں جبکہ قبائلی علاقہ جات میں یہ سہولتیں ناپید ہیں۔ پاکستان کے یہ شہری اپنے قبائلی علاقوں سے لمبی مسافتیں طے کرکے صحت مراکز اوردوسرے اداروں تک رسائی حاصل کرتے ہیں او ریا ان سہولتیں سے مکمل طور پر محروم رہتے ہیں۔آزادی کے بعد سات عشروں کے دوران فاٹا کوملک کے دوسرے صوبوں کے مقابلے میں 2639بلین روپے کم ملے۔اس صورت حال میں فاٹا کے باشندوں سے باقاعدہ طور پر بلاواسطہ ٹیکں وصول کئے گئے جس کی شرح قومی آمدن کے ساٹھ فی صد بنتی ہے۔ جاری مالی سال 2018-19میں خیبرپختونخوا کو این ایف سی سے اپنا حصہ نہیں ملا۔ہمارے قبائلی بھائیوں کے لئے ملک کے دوسرے صوبوں کے عوام کی برابر سہولتیں فراہم کرنے کے لئے پوری قوم نے اس ذمہ داری کو پورا کرنا ہے۔ اس سلسلے میں جرمنی کی مثال کو دیکھنے کی ضرورت ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس حوالے ہم اپنی قومی ذمہ پورا کریں گے۔ جرمنی کے واقعے کی مثال کو دیکھتے ہوئے جہاں پر 6.5فی صد وسائل دئیے گئے اگر پاکستان قبائلی اضلاع کو 100بلین روپے سالانہ فراہم کرتا ہے تو یہ جی ڈی پی کا0.002پرسنٹ بنتا ہے۔جس پر نظرثانی کی ضرورت ہے .

  • error: Content is protected !!