Chitral Times

Sep 22, 2019

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • دستک اور احسان شاہ کی آواز…….عبدالکریم کریمی

    May 31, 2019 at 4:50 pm

    کل رات کسی میٹنگ سے فراغت کے بعد ابھی میں اپنے گھر کے دروازے پہ پہنچا دستک دے رہا تھا کہ اندر سے سوسن کی آواز آئی ’’ویٹ جان آرہی ہوں، اتنی لیٹ کونسی میٹنگ، کبھی وقت پہ بھی گھر آیا کرو۔۔۔۔ وہ اندر سے گلہ کرتے ہوئے دروزے تک پہنچی ہی تھی کہ پیچھے سے کسی کی آواز گونجی ’’کریمی صاحب! اتنی بھی کیا جلدی ہے؟‘‘ میں جونہی پیچھے مڑا احسان شاہ بانہیں پھلائے کھڑے تھے۔ ’’آپ کو دیکھ کے گاڑی روکی ہے۔ ہمارے ساتھ کوئی معزز مہمان ہیں آپ بھی آجائے کہیں چائے پیتے ہیں۔‘‘ میں نے باہر سے ہی سوسن کو آواز دی ’’میں تھوڑی دیر میں آجاؤں گا۔ کوئی دوست ملا ہے۔‘‘ احسان شاہ نے کہا ’’بھائی جان! اندر سے ہوکے آئیے گا۔‘‘ صبح سے شام تک دفتر پھر میٹنگ اور اب دوستوں کے ساتھ واپس شب گردی۔ سوسن کی موٹی آنکھوں میں ایسے ہی آنسو نہیں آئے تھے۔ خیر! اس کی ساری وبال احسان شاہ کے سر کہ اس مظلوم بیوی کی پکار رائگان تو نہیں جائے گی۔

    گاڑی ہمارے دوست حبیب الرحمان مشتاق ڈرائیو کر رہے تھے جبکہ ان کے ساتھ پروفیسر جلیل عالی صاحب اور پچیھے سیٹ پر ایک نفیس اور دھان پان سا جوان بیٹھا تھا۔ جلیل عالی سرزمین پاک کے ایک نامور شاعر اور ماہر تعلیم ہیں۔ جن سے اس سے پہلے بھی سرینا ہوٹل گلگت میں کسی کتاب کی تقریب رونمائی میں سرسری ملاقات ہوئی تھی۔ لیکن ان کو سننے کا موقع آج ملا تھا۔ خیر! ایم پی چوک سونیکوٹ کی مشہور زمانہ چائے کارنر میں ابھی بیٹھے ہی تھے کہ حبیب مشتاق صاحب نے میرا تعارف کچھ اس انداز سے کیا ’’یہ ایک ایسا خوش قسمت انسان ہیں جس کی لو میرج ہوئی ہے۔‘‘ میں نے کہا یقیناً اس میں شک نہیں کہ میں نے شادی کے بعد پیار کیا ہے۔ یہ انہونی بات تھی ہم جس ملک خداداد میں رہتے ہیں یہاں کا تجربہ اکثر ایسا ہوتا کہ شادی سے پہلے محبتیں اور شادی کے بعد مکا لاتیں ہوتی ہیں۔ لیکن الحمدللہ! اور مشتاق بھائی کے منہ میں گھی شکر کہ ہم واقعی لو کرتے ہیں اور وہ بھی شادی کے بعد۔

    تعارف کا سلسلہ چل پڑا۔ میں نے بے چینی سے پوچھا اس خوبصورت جوان کا تعارف بھی ہوجائے۔ حبیب مشتاق نے کہا ’’یہ احسان شاہ کے بڑے بھائی ہیں، شاعر ہیں اور عمران شاہ انجم کے نام سے جانے جاتے ہیں۔‘‘ شاعر تو وہ اپنے انداز سے ہی لگ رہے تھے، نام بھی اجنبی نہیں تھا، ہاں بفس نفیس ملاقات پہلی بار ہو رہی تھی۔ میرے لیے حیرت اس بات کی تھی کہ یہ احسان شاہ کے بڑے بھائی کیسے ہوسکتے ہیں وہ تو ہر لحاظ سے احسان سے جوان لگ رہے تھے۔ حبیب مشتاق بڑے زیرک اور معاملہ شناس انسان ہیں۔ فرمایا ’’یقین نہیں آتا ناں کہ یہ احسان شاہ کے بڑے بھائی ہیں؟‘‘ میں نے کہا بے چارہ احسان شاہ کی ہر آہ کسی حسینہ کے تذکرے میں نکلتی ہے، اس غم میں ان کی عمر ہی نہیں چہرے اور آنکھیں بھی دھنس چکی ہیں۔ ہر آہ کے ساتھ سیگریٹ کا لمبا کش اور فضا میں چھوڑتے مرغولے ان کا درد خوب سناتے ہیں۔ یقین نہیں آتا تو ان کا یہ شہر سنئیے اور سر دھنئیے؎

    میں ایک اور محبت بھی کرنے والا ہوں
    کہ مجھ سے ہوتا نہیں ایک کام دیر تلک

    چائے کارنر میں تعارف کے بعد ٹیبل مشاعرہ کا آغاز ہوا تو یہاں بھی ایک الواعظ کو پہلے دعوتِ کلام دیا گیا۔ پھر عمران شاہ انجم نے اپنا کلام سنایا، کلام کیا تھا وہ تو عشق عاشقی میں اپنے برخوردار بھائی احسان شاہ سے دو قدم آگے نکلے۔ اب حبیب مشتاق کی باری تھی کہ وہ اپنا کلام سنائے۔ حبیب مشتاق کی شاعری اور ادب میں ان کے مقام کے حوالے سے اتنا کہنا کافی ہے کہ عام خام شاعر و ادیب ہی کیا ہوائیں بھی آپ کے سامنے چوڑیاں پہنتی ہوئی نظر آتی ہیں۔ ان کے اس شعر میں کتنا کرب ہے۔ کہتے ہیں؎

    آدھا تمہارا، آدھا ہوں سرکار کا غلام
    تقسیم کر دیا مجھے فکر معاش نے

    ان کی شعری معیار کے حوالے کے لیے یہی ایک قطعہ کافی ہے؎

    سب ترے نام کی تختی پہ عبارت کی ہے
    میں نے تنہائی میں جتنی بھی ریاضت کی ہے
    تیری تصویر تصور کی رحل پر رکھ کر
    میں نے اکثر ترے چہرے کی تلاوت کی ہے

    محترم جلیل عالی صاحب نے جب اپنی تازہ تخلیقات سنانا شروع کیا ہم تو دانتوں میں انگلیاں داب کر انہیں تکنے لگے کہ اس کے علاوہ کر ہی کیا سکتے تھے۔ استاد پر ان کی آزاد نظم نے محفل لوٹ لی۔

    شکریہ احسان شاہ کہ اتنے اچھے لوگوں سے ملنے کا آپ سبب بنے۔

    یار زندہ، صحبت باقی!

  • error: Content is protected !!