Chitral Times

Sep 22, 2019

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • حکومت خیبر پختونخوا اور ڈونرز وعالمی ترقیاتی ایجنسیوں کے مابین اعلی سطح مذاکرات

    May 30, 2019 at 10:26 pm

    پشاور(چترال ٹائمزرپورٹ ) حکومت خیبر پختونخوا اور عالمی ترقیاتی ایجنسیوں میں اعلیٰ سطح کے مذاکرات ہوئے جس میں مختلف شعبوں میں باہمی شراکت اور تعاون بڑھانے پر تبادلہ کیا گیا۔ جمعرات کے روز پشاور میں ہونے والے ان مذاکرات میں حکومت خیبر پختونخوا کی نمائندگی وزیر بلدیات، الیکشنز و دیہی ترقی شہرام خان ترکئی اور صوبائی وزیر خزانہ تیمور سلیم جھگڑا نے کی جبکہ اس موقع پر چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا سلیم خان، ایڈیشنل چیف سیکرٹری شہزاد خان بنگش، سیکرٹری خزانہ شکیل قادر، سیکرٹری اطلاعات وتعلقات عامہ مختیار احمد خان، سیکرٹری لوکل گورنمنٹ ظاہر شاہ، سیکرٹری پی اینڈ ڈی عاطف الرحمان، سیکرٹری داخلہ اکرام اللہ خان اور دیگر متعلقہ حکام بھی موجود تھے۔ اعلیٰ سطح مذاکرات کے موقع پر عالمی ڈونرز اور ترقیاتی ایجنسیوں جن میں عالمی بینک، ڈی ایف آئی ڈی، ایشیائی ترقیاتی بینک، یورپین یونین، جائیکا اور یو این ڈی پی سمیت دیگر ڈونرز اداروں کے نمائندے شامل تھے پر مشتمل 20 رکنی وفد کی سربراہی ورلڈ بینک کے کنٹری ڈائریکٹر پاچاامیتو النگوان اور ڈی ایف آئی ڈی کی سربراہ جوائنہ ریڈ کر رہی تھیں۔ پشاور میں ہونے والے ڈونرز اور ترقیاتی ایجنسیوں کے پہلے اعلیٰ سطح مذاکرات کے آغاز پر صوبائی وزیر بلدیات شہرام خان ترکئی نے حکومت کی ترجیحات کے حوالے سے آگاہ کیا جبکہ اس موقع پر اجلاس کے 6 نکاتی ایجنڈے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اجلاس میں دیرپاء ترقی کے لیے حکمت عملی، ضم اضلاع کی ترقی کے لئے 10 سالہ پروگرام, جامع ترقیاتی پارٹنر شپ کے لئے فریم ورک، بجٹ 20-2019 اور نئے بلدیاتی نظام پر شرکاء کو بریفنگ دی گئی۔ صوبائی وزیر خزانہ تیمور سلیم جھگڑا نے اجلاس کو صوبائی حکومت کی آئندہ پانچ سال کی ترجیحات کے حوالے سے شرکاء کو آگاہ کرتے ہوئے کہا کے ہمارا کام صرف کامیاب منصوبہ بندی نہیں بلکہ اس کے تناظر میں عوامی فلاح کو بھی یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے حکومت کے پہلے 100 روز میں آئندہ پانچ سالوں کے لئے لیے اپنی ترجیحات طے کیں اور ترقیاتی اہداف وضع کیے۔ معیشت کی بہتری کیلئے سیاحت کو فروغ دیا اور ٹورازم اتھارٹی کے قیام جیسے دیگر ناگزیر اقدامات اٹھائے۔ اسی طرح رشکئی اقتصادی زون کو فعال بنانے کے علاوہ سرکاری امور کی بآسانی انجام دہی کے لیے بھی منصوبے پر کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں انتظامی ڈھانچہ کی بہتری، گیس، بجلی اور دیگر خدمات کی فراہمی پر بھی کام کر رہے ہیں۔ صوبائی وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ اگر ہم اپنے اہداف کا پچاس فیصد بھی حاصل کرنے میں کامیاب رہے تو خیبر پختونخوا میں ترقی کی نئی راہیں کھل جائیں گی۔ تیمور سلیم جھگڑا نے ڈونرز اور ترقیاتی ایجنسیوں کے نمائندوں کے وفد کو باور کرایا کہ حکومت اپنے ترقیاتی اور انتظامی اقدامات میں ان کی مدد نہیں بلکہ پارٹنر شپ چاہتی ہے۔ صوبائی وزیر خزانہ نے وفد پر زور دیا کہ وہ ضم اضلاع کی ترقی و بحالی اور انہیں قومی دھارے میں لانے کے لئے صوبائی حکومت سے تعاون کریں۔ صوبائی وزیر بلدیات شہرام خان ترکئی نے ترمیمی بلدیاتی نظام اور اس کی افادیت پر شرکاء کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ اس نظام میں مقامی حکومتوں کے استعداد کار کو بڑھانے کے لیے نظام کو تین کے بجائے دو درجاتی کیا گیا ہے۔ اس نظام کے تحت ضم اضلاع کی 25 تحصیلوں میں 702 ویلیج و نیبرہوڈ کونسلوں کا قیام عمل میں لایا جائے گا جبکہ بلدیاتی انتخابات کے بعد 4914 بلدیاتی نمائندے منتخب ہونگے۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی ترقیاتی اداروں کے تعاون سے لوکل گورنمنٹ ریفارمز، ماڈل تحصیل کمپلیکس، ٹیکنیکل اسسٹنس اور بلدیاتی ملازمین اور نمائندوں کی تربیت کا عمل جاری ہے اوراس میں مزید تعاون کا ارادہ رکھتے ہیں۔ شہرام خان ترکئی نے یورپی یونین کے نمائندے سے استدعا کی کہ وہ سی ڈی ایل ڈی پروگرام کو ضم اضلاع تک توسیع دیں۔ اس موقع پر عالمی ڈونرز اور ترقیاتی ایجنسیوں نے حکومتی اقدامات کو سراہا اور مختلف شعبوں میں جاری تعاون کو برقرار رکھنے اور نئے منصوبوں میں بھی تعاون کرنے کا اعادہ کیا۔ اجلاس کے اختتام پر ڈی ایف آئی ڈی عہدیدار سکندرعلی کو صوبہ خیبر پختون خوا کے لئے خدمات کے اعتراف میں سوینئر پیش کیا گیا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

  • error: Content is protected !!