Chitral Times

Sep 23, 2019

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • صوبائی حکومت کی تعلیمی اصلاحات………تحریر: افراسیاب مہمند

    May 29, 2019 at 8:49 pm

    کسی بھی ادارے کے ملازمین سے بہترین نتائج حاصل کرنے، ان کی استعداد کار میں خاطر خواہ اضافہ کرانے اور مطلوبہ نتائج کو عام عوام کی زندگیوں میں حقیقی خوشحالی کا مرکز بنانے کیلئے اس ادارے کے ملازمین کے جائز مطالبات کو پورا کرنے اور ان کو بہترین سہولیات کی فراہمی کیساتھ ساتھ ایک روشن اورتابناک مستقبل فراہم کرنے سے ہی مطلوبہ نتائج حاصل کئے جاسکتے ہیں۔

    ہر ادارے میں ملازمین ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں اور تمام وسائل تب تک کارآمد نہیں ہوتے جب تک ان سے اچھی منصوبہ بندی، خلوص دل اور خلوص نیت سے بھرپور فوائد حاصل نہ کئے جاسکیں۔ کسی بھی منصوبے میں حقیقی روح ڈالنے اور مطلوبہ اہداف حاصل کرنے کیلئے ملازمین کی شبانہ روز محنت اور بروقت وسائل کی فراہمی شامل ہے۔ اگر ملازمین خلوص دل سے کام کریں تو وہ کسی بھی منصوبے کو کامیاب بناسکتے ہیں اورمشکل سے مشکل اہداف کوحاصل کرسکتے ہیں اسلئے جب صوبے میں پاکستان تحریک انصاف کو دوبارہ حکومت کرنے کا موقع ملا اورضیاء اللہ خان بنگش کو بطورمشیر تعلیم نامزدکیاگیا تو شروع ہی دن سے انہوں نے اساتذہ کے مسائل کو حل کرنے پر توجہ دی اور قبائلی اضلاع بشمول پورے صوبے کے اساتذہ کو ایک ٹیم کی صورت میں ترتیب دیا۔ انہوں نے پانچ سالہ پلان کے تحت جتنے اہداف مقرر کئے ہر جگہ اورہر فورم پر اساتذہ سے مطالبہ کرتے رہے کہ ان کی بھرپور سپورٹ اورمحنت کی بدولت وہ اس میں کامیاب ہوسکتے ہیں اور جب محکمہ تعلیم اپنے پانچ سالہ پلان کو لاؤنچ کررہی تھی تو بھی اس پروگرام کے لئے پشاور کے شہید اسامہ ظفرہائر سیکنڈری سکول پشاور کو منتخب کیاگیا اور محکمہ تعلیم کے ضلعی افسران بشمول تمام پرنسپلز،ہیڈماسٹرز اور طلباء کو بلایاگیا تھا جوکہ اس بات کی عکاسی کررہی تھی کہ جو پانچ سالہ پلان جن کیلئے بناہے وہ موجود رہیں اور جنہوں نے اس پلان کو کامیاب کراناہے و ہ بھی اس پروگرام کاحصہ رہیں۔

    مشیرتعلیم ہر جگہ اورہرفورم پر اساتذہ کی عزت اور ان کو معاشرے میں جائزہ مقام کی فراہمی کیساتھ ساتھ ان کے مسال کو حل کرنے کی بات کرتے ہیں اس لئے اپنی وزارت کے ابتدائی مہینوں میں انہوں نے سابقہ دور میں مشتہر شدہ اسامیوں پر کام کی رفتار کو تیز کیا اور تین ماہ کے قلیل عرصے میں 17 ہزار نئے اساتذہ کو میرٹ پربھرتی کرکے صوبے کے مختلف اضلاع کے سکولوں میں تعینات کردیا جوکہ پانچ سالہ پلان کی کامیاب تکمیل میں اب ن کی ٹیم کا حصہ ہیں۔

    کمپیوٹر کی تعلیم کی اہمیت کے پیش نظرضیاء اللہ خان بنگش نے 2014 سے مستقلی سے محروم 248 آئی ٹی اساتذہ کی مستقلی کیلئے تگ ودو شروع کی اور ہر جگہ سے مایوس ان اساتذہ کو نہ صرف یہ یقین دلایا کہ حکومت ان کے مسائل کوضرورت حل کرکے ان کے مستقبل کو محفوظ بنائی گی بلکہ ان کے کیس کو صوبائی کابینہ اور صوبائی اسمبلی سے منظور کروا کے ہرجگہ سے ردشدہ اس کیس میں ایک نئی جان ڈال دی اور آج وہی اساتذہ ان کی ٹیم کا حصہ ہیں اور شبانہ روز محنت کررہے ہیں یہاں تک کہ اب ان کی ترقیوں کا عمل بھی شروع ہوچکاہے۔

    اسی طرح 1987 سے ترقی سے محروم لیبارٹری اسسٹنٹس کو ان کی ذاتی کوششوں کی بدولت سروس سٹرکچر ملا اور ان کی ترقیاں ہوگئیں جن کی تعداد تقریباً 1300 ہے اور صوبے کے مختلف سکولوں میں تعینات ہیں۔ ان کو گریڈ 8 سے تجربے کی بنیاد پر باالترتیب گریڈ 16۔ لیب سپرنٹنڈنٹس،، گریڈ14 لیب سپروائزر اور گریڈ 9 سینئر لیب اسسٹنٹس کے عہدے دیے گئے۔ اس سے نہ صرف ان کامستقبل محفوظ ہوا بلکہ آنے والے سٹاف کیلئے بھی ایک پرکشش نوکری بن گئی اور آج وہ 1300 ملازمین بھی ان کی ٹیم کاحصہ ہیں۔

    اسی طرح 8 ماہ کی قلیل مدت میں اساتذہ کی ترقیوں اور سروس سٹرکچر کے معاملوں پر خصوصی توجہ دیکر محکمہ تعلیم خیبرپختونخوا کے تدریسی اور غیرتدریسی تقریباً 8 ہزار ملازمین کو ترقیاں دی گئیں جن میں جونیئر کلرک، سپرنٹنڈنٹس،، سینئر کلرک اور ایس ایس ٹیز بشمول تمام کیڈرز کے پرائمری، مڈل، ہائی اور ہائر سیکنڈری سکولوں کے ملازمین کو اپ گریڈ کردیاگیا۔

    ضیاء اللہ خان بنگش نے اساتذہ کی ترقیوں، تعیناتیوں اور دوسری اہم کامیابیوں کے حوالے سے کہاکہ سابقہ دور میں ہم نے وسائل کی فراہمی پر توجہ دی تھی، باؤنڈری وال، پینے کے صاف پانی، بیت الخلاء اور دوسری سہولیات کی فراہمی کیلئے ہم اقدامات کررہے تھے جبکہ موجودہ دور میں ہم کوالٹی ایجوکیشن پر توجہ دے رہے ہیں تاکہ سرکاری سکولوں کی تعلیم میں مزید بہتری لائی جاسکے اور اس کے پیش نظر قبائلی اضلاع میں اساتذہ کی کمی کو پورا کرنے کیلئے 2400اساتذہ کی بھرتی کیلئے اشتہار شائع ہوچکاہے اور اس ماہ کی آخر تک ان کی تعیناتی ہوجائیگی۔ اسی طرح ضم شدہ اضلاع تک انڈیپنڈنٹ مانیٹرنگ یونٹ کو توسیع دینے کی غرض سے صوبے کے قریبی اضلاع سے IMU سٹاف کو ضم شدہ اضلاع میں تعینات کیاگیا اور ان اضلاع کیلئے IMU سٹاف کی بھرتی کا عمل شروع کیاگیا ہے جوکہ اس ماہ کے آخر تک مکمل ہوجائیگا اور وہاں بھی اب سکولوں، طلباء اور اساتذہ کی کارکردگی کو مانیٹرکیا جاسکے گا۔

    خیبرپختونخوا کے 25 اضلاع کے سکولوں میں اساتذہ کی کمی پورا کرنے اور فی استاد 30 طلباء کے ریشو پرکام کرتے ہوئے مزید 9500 آسامیاں مشتہر کی گئیں جوکہ میرٹ پر ان تمام اضلاع میں تعینات کئے جائیں اور ضیاء اللہ خان بنگش کی ٹیم کاحصہ بنیں گے اور ان کے پانچ سالہ پلان کو کامیاب کرانے میں اہم کردار ادا کریں گے۔ ان پوسٹوں کے علاوہ ضیاء اللہ خان بنگش نے کہاکہ ہم کوشش کررہے ہیں کہ چھٹیوں میں ان اساتذہ کی تعیناتی کا عمل پورا کیاجائے اور مزید 12000 پوسٹیں بھی عنقریب مشتہر کی جائیں گی جبکہ ہائیرسیکنڈری سکولوں میں بھی 1000 سے زیادہ مختلف مضامین کے سبجیکٹ سپیشلسٹس، ہیڈ ماسٹرز، پرنسپلز، وائس پرنسپلز اور دیگر کیڈرز کے ملازمین کی تعیناتی عمل میں لائی گئی ہے جس سے صوبے کے ہائرسیکنڈری سکولوں کے معیار تعلیم میں مزید نکھار پیدا ہوگا اور وہاں بھی طلباء کی بہترین راہنمائی ہوگی کیونکہ عموماً وہاں سے طلباء تعلیم حاصل کرکے عملی زندگی کی ابتداء کرتے ہیں۔ اس طرح نئے ضم شدہ اضلاع کیلئے بھی مزید 5 ہزار آسامیاں مشتہر ہوچکی ہیں اور ان پربھی عنقریب بھرتی کا عمل شروع کیاجائیگا اگر ان کا جائزہ لیاجائے تو ضیاء اللہ خان بنگش نے ابھی تک تقریباً 20 ہزار پانچ سو اساتذہ کی تعیناتی کا عمل مکمل کیا۔ 9 ہزار 5 سو پرکام شروع ہے اور 17ہزار مزید آسامیاں 3 مہینوں کے اندر اندر مشہتر کی جائینگی اور کل ملا کے چندمہینوں کے اندر اندر یہ مزید 26 ہزار اساتذہ سسٹم میں شامل ہو کرضیاء اللہ خان بنگش کی ٹیم کاحصہ ہوں گے۔

    اگر ان کا جائزہ لیاجائے تو پاکستان تحریک انصاف نے سابقہ دور حکومت میں 40 ہزار اساتذہ میرٹ پربھرتی کئے تھے جنکی وجہ سے سرکاری سکولوں کی کارکردگی میں خاطر خواہ اضافہ ہوا تھا اور عوام کا اعتماد سکولوں پربحال ہواتھا اور میرٹ پر منتخب شدہ اساتذہ بہترین کام کررہے تھے اور موجودہ دورہ حکومت کی دور اندیشی کی بدولت اب تک بھرتی شدہ 20ہزار5سو اور نئے مشتہرشدہ اور مشتہر ہونیوالے 26 ہزار500 اساتذہ کوبھرتی کروانے میں ضیاء اللہ خان بنگش کامیاب ہوگئے تو وہ قلیل مدت میں سسٹم میں مزید تقریباً 47 ہزار اساتذہ شامل کریں گے اور وہ بھی تقریباایک سال کے قلیل عرصے میں۔ اس سے ایک تو عمران خان کے لوگوں کو روزگار دینے کے وعدے کی تکمیل ہوگی اور دوسری جانب 30طلباء کے حساب سے فی استاد کی پالیسی کو بھی عملی جامہ پہنایاجائیگااور یقینا صوبہ خیبرپختونخوا کے ہربچے کامستقبل محفوظ ہوگا۔

    یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ مشیرتعلیم نے ان اہداف کے حصول کیلئے منصوبہ بندی کررکھی ہے اوروہ شبانہ روز محنت کررہے ہیں کہ کس طرح ان 65 ہزار اساتذہ کی کمی کو پورا کرنا اور کس طرح 26 لاکھ سکولوں سے باہر طلباء کو سکولوں میں داخلہ دلاناہے۔ اگر تو محکمہ تعلیم پہلے سال میں 47 ہزار اساتذہ کی بھرتی کاعمل پورا کرلیتا ہے تو پانچ سالہ پلان کے تحت وہ بآسانی 65 ہزار اساتذہ کی تعیناتی عمل میں لائے گا اور جس کامیابی سے اس پرکام جاری ہے لگتاہے کہ محکمہ تعلیم 5 سالوں کے اندر اندر یہ کمی پوری کرلے گا اور اگر 9 مہینوں میں 9 ہزار کے قریب اساتذہ اور غیرتدریسی عملے کو ترقی دینے میں کامیاب ہوتاہے تو 5 سالوں میں محکمہ تعلیم میں نہ تو کوئی ملازم ترقی سے محروم ہوگا اور نہ ہی کوئی ملازم سروس سٹرکچر سے۔ کیونکہ ضلعی کیڈر کی اسامیوں کی پروموشن بھی ہوچکی ہے اور تمام ASDEDO,s، SDEOs اور DEO اگلے گریڈوں میں ترقی حاصل کرچکے ہیں اور ان کے سروس رولز اور سروس سٹرکچر سب کچھ مکمل ہوچکے ہیں۔ اب اگر بات کی جائے دوسرے بڑے اہم مسئلے کی تووہ ہے سکولوں سے باہر 26 لاکھ طلباء کی، تو اس کیلئے بھی مشیر تعلیم نے بھر پورحکمت عملی بنائی ہے۔

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان اور وفاقی وزیرتعلیم شفقت محمود کے ہمراہ صوبے کے نئے ضم شدہ ضلع خیبر سے داخلہ مہم برائے سال 2019 کی ابتداء کرکے، ہریپور، ایبٹ آباد، مانسہرہ، بٹگرام، کوہستان (اپر،لوئر)، شانگلہ، اورکزئی، کرم، نارتھ اور ساؤتھ وزیرستان بشمول تمام اضلاع کے انہوں نے خود دورے کئے اور تقریباً 8 لاکھ طلباء کامقررکردہ ہدف وہ بآسانی پورا کرچکے ہیں۔ اس طرح سکولوں میں شروع کردہ سیکنڈشفٹ کلاسز کی بدولت بھی تقریباٌ 3 لاکھ سے زیادہ طلباء کو داخلہ دیاجائیگا اور مزید اساتذہ کو بھی روزگار مل سکے گا۔ محکمہ تعلیم نے اگریہ دونوں اہداف حاصل کرلئے تو بھی پورے صوبے بشمول قبائلی اضلاع میں 15 لاکھ بچے سکولوں سے باہر رہیں گے تاہم اگر اسی طرح منصوبہ بندی کی گئی اور بروقت اقدامات کئے گئے تو اس مسئلے پر بھی 5سالوں کے اندراندر قابو پایاجاسکتاہے۔ تاہم محکمہ تعلیم کی طرف سے شروع کردہ دیگرمنصوبوں جیسے رینٹڈبلڈنگ سکولز، واؤچرسکیمز اوردیگرپراجیکٹس پربھی خصوصی توجہ دینی ہوگی۔

    اگر ان تمام اقدامات کا تقابلی جائزہ لیاجائے تو یہ اندازہ لگایاجاسکتاہے کہ محکمہ تعلیم نے اپنے لئے سمت کا تعین کر لیا ہے اورمقرر کردہ اہداف وقت سے پہلے حاصل کررہے ہیں۔ یہ تبھی ممکن تھا جب پورے صوبے کے تمام محکموں میں محکمہ تعلیم نے ہی سب سے پہلے پانچ سالہ پلان پیش کیاتھا اور مشیر تعلیم نے اسی دن سے کہاتھا کہ اب یہ ہماردستورہے اورہم نے مقررکردہ اواقات میں ان ٹارگٹس کے حصول کویقینی بناناہے۔

    اگر محکمے کی ڈیجیٹلائزیشن پربات کی جائے تو تمام عملے کیلئے آسانیاں پیدا کرنے کی غرض سے ای۔ٹرانسفرپالیسی بھی منظور کرائی جاچکی ہے۔ میرٹ اور شفافیت کو اس سے مزید تقویت ملے گی اور اساتذہ اورطلباء کا قیمتی وقت بھی ضائع ہونے سے بچ جائیگا۔ ان اصلاحات،اقدامات اور بہترین پالیسیوں کو مدنظر رکھ کر یہ بات یقینی ہے کہ بہت جلد صوبے کے تمام تعلیمی بورڈز میں سرکاری سکولوں کے طلباء کے نام بھی شامل ہوں گے۔ #

  • error: Content is protected !!