Chitral Times

Jun 18, 2019

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • گداگری اور چترال………….. ازقلم:دلشاد پری

    May 28, 2019 at 5:58 pm

    ایک زمانہ تھاکہ جب چترال کے لوگوں کی خلوص اور سادگی بٰہت مشہور تھی۔کوئی بھی بچی یا عورت خیرات مانگنے کا تصور بھی نہی کر سکتی تھی۔جب کسی کے گھر میں کوئی مجبوری ہوتی تھی توایک دوسرے کی مدد کرکے ایک دوسرے کو مجبوری سے نکالتے تھے،اور یہ بات گھر کے اندر ہی رہ جاتی تھی،اور کسی کی عزت نفس مجروح ہوئے بنا اسکی مدد ہوجاتی تھی۔

    مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑھ رہا کہ چترال میں بھی گداگری کا نا سور پھیل چکاہے۔آج کسی ضروری کام سے بازار جانے کا اتفاق ہوا،تو موڑدہ اور زرگراندہ کو ملانے والی واحد پل جو کہ سیاست دانوں کی سیاست کا منہ بولتا ثبوت ہے،جس کو پار کرتے ہوئے پل صراط کا منظر ذہن میں اتا ہے۔اللہ اللہ کرکے جوں ہی پار کرکے سُکھ کا سانس لینے کی کوشش کی توکسی نے پاؤں زور سے جکڑ لی۔میری تو ڈر کے مارے چیخ ہی نکل گئی۔کیونکہ سارے خیالات اس پل پہ مرکوز تھے۔جب تھوڑا سنبھل کے نیچے دیکھا میری روح کانپ اٹھی۔وہ بچی بمشکل ۶ سال کی ہوگی، جس کے ہاتھ میں ایک پرنٹ کئے ہوئے کاغذ کا ٹکڑا تھا،اور نفاست سے اسے کوڈنگ بھی کی گئی تھی اور وہ بچی زور زور سے فریاد کرکے مدد کا کہہ رہی تھی مگر کاغذ کے لکھے کی اس کو خود سمجھ نہی جس پر لکھا تھا کہ؛میرا خاوند دل کا مریض ہے،خدا کے لئے میری مدد کر،میں تو بالکل پاگل ہوگئی،۶ سال کی بچی کا خاوند؟ڈر ڈر کے پوچھا آپ کا خاوند ہے؟تو نفی میں سر ہلانے لگی۔

    اس قسمت کی ماری کو یہ بھی پتہ نہی تھا کہ اس پیپر پہ لکھا کیا ہے؟؟اور جس کمبخت نے اس کو اس ناسور ڈ یوٹی پہ لگایا تھا اس کو اس بات کا احساس تک نہی تھا کہ مجبور لوگوں کے پاس کاغذ کوڈ اور پرنٹ کرنے کا وقت کہاں ہوتا ہے؟؟وہ انسان کہلانے کے قابل بھی نہیں جونہ صرف اس معصوم کا بچپن چھین رہا ہے بلکہ اس کا مستقبل بھی برباد کر رہا ہے۔واپسی میں وہ بچہ اسی پل کی دوسری طرف مل گئی پھر مانگنے کا اسے بھی عاجزانہ انداز تھا۔یہ وقت تو بچی کے پڑھ لکھ کے مستقبل بنانے کا ہے نہ کہ خیرات مانگنے کا۔

    اج کل تو تمام سہولیات سرکاری سکولوں میں مفت دستیاب ہیں پھر بھی ماں باپ اتنے خودغرض کیسے ہو سکتے ہیں؟؟؟نہ اب وہ زمانہ رہا جب بہانے بہانے سے سرکاری سکولوں میں پیسے مانگا جاتا تھا،۔۔مجھے کچھ سمجھ نہی آرہا۔کیا ماں باپ بچی کا مستقبل برباد کر رہے ہیں یا کوئی مکمل پیشہ ور گروہ اس کے پیچھے کار فرما ہے؟اگر ماں باپ ایسا کر رہے ہیں تو وہ اپنا آخرت اور دنیا دونوں برباد کر رہے ہیں۔

    تعلیمات اسلامی کے تحت والدین پر اولاد کے متعدد حقوق عائد ہوتے ہیں مثلازندگی کا حق،بنیادی ضروریات کی فراہمی کا حق اور حسب مقدور تعلیم و تربیت کا حق۔
    آپﷺ نے فرمایاکہ؛کوئی باپ اپنی اولاد کو اس سے بہتر عطیہ نہی دے سکتاکہ اس کو اچھی تعلیم دے:؛؛

    قرآن پاک کے سورہ الاسراء آیت:۱۳اور سورہ تحریم کے آیت:۶ میں بھی اللہ پاک نے اولاد کے حقوق بیان فرمایا ہے۔ تو ہمیں بحیثیت مسلمان ان احکامات کی پیروی کرتے ہوئے اپنے بچوں کا مستقبل سنوارنی چاہئے نہ کہ گداگری کے گر سکھانی چاہئے۔

    گداگری کا ایک اور منظر مجھے چترال کے کڑپ رشت اڈہ میں بھی دیکھنے کو ملا تھا .جب میں گھر جارہی تھی۔یہ وہ اڈہ ہوا کر تا تھا جہاں آدمی پاؤں پھیلا کر بڑے سکوں سے ۳ گھنٹے تک بھی گاڑی کا انتظار کرتا تھا.مگر اب تو یہ اڈہ بھی حاجی کیمپ اڈے کا منظر پیش کر رہا۔جسطرح وہاں گاڑی سے نکلتے ہی گداگروں کی بارات اجاتی ہے، بالکل اسی طرح کے حالات یہاں بھی دیکھنے کو مل رہے۔اس وجہ سے نادار اور معذور جو صدقے کے اصل حقدار ہوتے ہیں وہ بھی اپنے حق سے محروم ہو جاتے ہیں۔کیونکہ ان پیشہ ور گداگروں کی وجہ سے یہ سمجھ نہی آتا کی اصل حقدار کون ہے؟

    ایک آدمی جس کے پاوٗں سلامت اور ہاتھ سلامت اور ہٹہ کٹہ جوان وہ بھی منہ پھاڑ پھاڑ کے خیرات مانگ رہا ہوتا ہے۔ذیادہ تر جو خیراتی ہے وہ مقامی نہی کیونکہ ان کے لب و لہجے سے اندازہ ہورہا۔ ہوسکتا ہے وہ ایک مکمل گروہ ہو جو چترال کے سادہ لوح لوگوں کو بیوقوف بنا کے بچوں کا سہارا لے کر کمانے آئے ہو۔اس سے پہلے کہ یہ ناسور پوری چترال کو اپنی لپیٹ میں لیں لے اسکی روک تھام کے لئے عملی اقدامات کرنی چائیے،
    تاکہ ہمارے بچوں کا مستقبل برباد نہ ہو اوراصل نادار اور مفلس لوگوں کی پہچان اور داد رسی ہو سکے۔اور وہ اپنے حق سے محروم نہ ہو۔

  • error: Content is protected !!