Chitral Times

Mar 1, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

صدقہ فطر………….اختر ایوب طیب

Posted on
شیئر کریں:

صدقہ فطر جس کو فطرانہ بھی کہتے ہیں ایک اسلامی اصطلاح ہے اور یہ مالی انفاق کی وہ قسم ہے جو عید الفطر میں غرباء اور مساکین کو دیا جاتا ہے

صدقہ فطر کی حکمت:
اس کی حکمت ایک تو یہ ہے کہ روزہ میں روزہ دار سے کوئی لغویا فضول حرکت سرزد ہوئی ہے اور اس کی وجہ سے روزہ میں کوئی کمی کوتاہی رہ گئی ہے اس کو پاک کرنے کا ذریعہ ہے اور دوسری حکمت یہ بیان کی گئی ہے تاکہ غریب اور مسکین لوگ بھی عید کی خوشیوں میں شریک ہو سکے اس حوالے سے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ کی روایت ہے کہ “صدقہ فطر کو اس لئے فرض قرار دیا گیا کہ روزہ دار کے بے ہودہ کاموں اور فحش باتوں کی پاکی اور مساکین کے لئے کھانے کا باعث بنتا ہے”
صدقہ فطر کے وجوب کے حوالے سے حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی روایت ہے کہ” رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ فطر مسلمانوں پر واجب قرار دیا ہے خواہ وہ غلام ہو یا آزاد مرد ہو یا عورت چھوٹا ہو یا بڑا”
اور حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ کی طرف سے بھی یہ روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے آخر میں فرمایا “اپنے روزوں کا صدقہ نکالو.”

صدقہ فطر کس پر واجب ہے ؟
صدقہ فطر ہر اس شخص پر واجب ہے جو اتنا مالدار ہو کہ ضروریات سے زیادہ اس کے پاس اتنی قیمت کا مال و اسباب موجود ہے جتنی قیمت پر زکاۃ واجب ہوتی ہے چاہے مال, تجارت کے لئے ہو یا نہ ہو اور اس پر زکوۃ کی طرح سال گزرنا بھی شرط نہیں ہے
صدقہ فطر واجب ہونے کا وقت کونسا ہے؟
عیدالفطر کے دن صبح صادق ہوتے ہی صدقہ فطر واجب ہوجاتا ہے لہٰذا جو شخص صبح صادق سے پہلے انتقال کر گیا اس کی طرف سے واجب نہیں ہے اور اسی طرح جو بچہ صبح صادق سے پہلے پیدا ہوا اس پر واجب ہے
صدقہ فطر کی ادائیگی کا اصل وقت عید کے دن نماز عید سے پہلے ہے البتہ رمضان کے آخر میں کسی بھی وقت ادا کیا جاسکتا ہے تاکہ جو اس کی حکمت بیان کی گئی ہے دوسری حدیث میں کہ غرباء اور مسکینوں کو بھی عید کی خوشیوں میں شریک کیا جا سکے, پوری ہوجائے حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ” صدقہ فطر نماز کے لیے جانے سے پہلے ہی ادا کر دیا جائے ”

صدقہ فطر کی مقدار کیا ہے؟
ایک صاع( ساڑھے تین کلو تقریباً ‘احتیاطا چارکلو) کشمش کھجور یا جو
اسی طرح نصف صاع( پونے دوکلو تقریبا’ احتیاطا دو کلو) گندم
(مذکورہ اشیاء کی جو قیمت شہر میں چل رہی ہو اسی حساب سے ادائیگی کی جائے گی.
افضل یہ ہیکہ حسب استطاعت مہنگی چیز کے حساب سے صدقہ فطر دیا جائے)

صدقہ فطر کس پر واجب ہے؟
ہر عاقل بالغ آدمی جو صاحب نصاب ہو اس پر واجب ہے
کن کن کئ طرف سے صدقہ فطر کی ادائیگی واجب ہے؟
اپنے چھوٹے اور محتاج بچوں کے لئے ادائیگی کرے گا البتہ بالغ اولاد کی طرف سے ادائیگی لازمی نہیں ہے ہاں اگر اپنی بالغ اولاد پر احسان کرتے ہوئے ادا کرے تو اچھی بات ہے
اسی طرح سے شوہر کا اپنی بیوی کے لیے بھی صدقہ فطر دینا لازمی نہیں ہے اور اس میں بھی وہی صورت ہے کہ اگر وہ اپنی بیوی پر احسان کرکے دیتا ہے تو بہت اچھی بات ہے
اللہ تعالی رمضان المبارک کی رحمتوں سے لبریز ساعتوں سے زیادہ سے زیادہ استفادہ کرنے کی ہم سب کو توفیق عطا فرمائے.
fiter


شیئر کریں: