Chitral Times

May 27, 2019

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • فوڈ اتھارٹی کااجلاس، اہم فیصلے،اشیائے خوردونوش کی اخبار میں پیکنگ پر مکمل پابندی کافیصلہ

    May 14, 2019 at 11:03 pm

    پشاور(چترال ٹائمزرپورٹ)‌خیبر پختونخوا فوڈ اتھارٹی کی سائنٹیفک کمیٹی کا دوسرا اجلاس منعقد ہوا جس میں مختلف تعلیمی، تحقیقی، سائنسی و صنعتی اداروں سے وابستہ محققین نے حصہ لیا۔ اجلاس کی صدارت ڈائریکٹرجنرل ریاض خان محسود نے کی، اجلاس میں متفقہ طور پرکئی اہم فیصلے کئے گئے۔ تفصیلات کے مطابق چودہ جون سے اشیائے خوردونوش کی اخبار میں پیکنگ پر مکمل پابندی عائد ہوگی۔ چودہ مارچ سے دکانداروں، بیکریوں اور دیگر کو تین مہینے کا ٹائم دیا گیا تھا۔ سائنٹیفک کمیٹی نے باہر سے منگوائے جانے والی اشیائے میں حرام زرائع سے ماخذ جلیٹن اور E 120 اجزا کے استعمال کو مشترکہ طور پر حرام قرار دیا اور یہ جس بھی پروڈکٹ میں شامل ہونگے وہ حرام ہوگی اور اس کی درآمد پرپابندی عائد کی جائیگی
    پورے صوبے میں واقع آٹا اور گھی ملز ایک مہینے کے اندر اندر فورٹیفیکیشن (آٹا اور گھی میں ضروری غذائی اجناس، جیسے وٹامنز اور دیگر معدنیات کا استعمال کرنا جو کہ غزائی کمی کو دور کرتا ہے) کا آگاز کرینگے جو کہ فوڈاتھارٹی کے سٹینڈرڈز کے مطابق ہوگا اور جس کے لئے فوڈ فورٹیفیکیشن پروگرام کے توسط سے ملوں کو مائیکرو فیڈرز فراہم کئے جائیں گے۔اسی طرح کمیٹی نے ایک ذیلی کمیٹی تشکیل دی ہے جو کہ تندوری روٹی اور بیکری کی دیگر اشیا میں بیکنگ سوڈا کے استعمال پر سفارشات مرتب کریگی اور اگلے اجلاس میں و ہ سفارشات پیش کی جائینگی۔سکول اور کالجز میں وہی جوس فروخت ہوسکے گا جس میں حقیقی طور پر کم از کم دس فیصد پھلوں کا رس شامل ہو بصورت دیگر سکول کینٹینوں کیخلاف کاروائی ہوگی
    وہ تمام جوس جو اپنی پیکنگ پر پیور(خالص) کا لفظ استعمال کرتے ہیں، صرف اسی صورت استعمال کرسکینگے جب ان کا جوس سو فیصد اسی پھل کے رس پر مشتمل ہوگا۔ وہ جوس جس میں کم از کم سات فیصد اسی پھل کا رس شامل ہوگا وہ اپنے پیکنگ پر صرف اسی پھل کی تصویر چھاپنے کے مجاز ہونگے، کوئی کیمیکلز سے بنا جوس پھلوں کی تصویریں پیکنگ پر شائع نہیں کرے گا، کمیٹی نے اس کیلئے ایک سال کی مہلت دی ہے تاکہ تمام کاروبار اس پر اپنی پیکنگ متعارف کرائیں اشیائے خوردوش میں شامل الرجی کا سبب بننے والے اجزا کیلئے لازمی ہوگا کہ پیکنگ کے اوپر اردو یا انگلش میں لازمی طور پر لکھے کہ اس پروڈکٹ میں شامل اجزا حساس افراد کیلئے الرجی کا سبب بن سکتے ہیں
    انرجی ڈرینکس میں کیفین کی مقررہ مقدار دو سو پی پی ایم کردی گئی ہے، اور انرجی ڈرنکس پر لازمی طور پر انتباہ لکھا ہوگا کہ بارہ سال سے کم عمر بچوں اور حاملہ خواتین کی صحت کیلئے مضر ہے، جب کہ انرجی ڈرنک کو آئندہ وقتوں میں سٹیمولینٹ ڈرنک کہا اور لکھا جائے گا اور اس پر مستند ادارے کی جانب سے دیا گیا حلال لوگو لازمی ہوگا۔ اس کیلئے کمیٹی نے تین مہینے کی مہلت دی ہے تاکہ لوگ اپنا بزنس ایڈجسٹ کرسکیں
    اشیائے خوردونوش کے وہ پروڈکٹس جس پر حلال کا لفظ درج ہوگا، وہ صرف مستند اداروں کی جانب سے مہیا کردہ سند کی صورت میں شائع ہوسکے گا، جو کہ پاکستان سٹینڈرڈ اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی یا اس سے ملحقہ اداروں کیساتھ الحاق شدہ کمپنیاں ہی شائع کرسکیں گی۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

  • error: Content is protected !!