Chitral Times

Nov 29, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

کالاش قبیلے کی مشہورتہوارچیلم جوشٹ تینوں وادیوں میں شروع ہوگیا، 16مئی کواخری تقریب ہوگی

Posted on
شیئر کریں:

چترال (نمائندہ چترال ٹائمز) چترال کے جنوب میں تین الگ تھلگ جنت نظیر وادیوں بمبوریت، رمبور اور بریر میں بسنے والے منفرد اور قدیم ترین تہذیب کے حامل کالاش قبیلے کا سال میں سب سے اہم اور موسم بہار کے سلسلے میں منائی جانے والی فیسٹول چیلم جوشٹ کا باقاعدہ آغاز منگل کے روز رمبور وادی میں دودھ پلانے کی خصوصی رسم سے ہواجس میں ہر عمر کے مرد وزن اور بچوں نے شرکت کی اور عبادت گاہ میں رکھے گئے دیوتاؤں پر دودھ چھڑکنے اور آنے والی موسم گرما کے دوران بہتر حالات کے لئے اجتماعی دعا کے بعد روایتی ناچ اور گانے میں مصروف ہوگئے۔ اس دن تمام کالاش نت نئے کپڑوں میں ملبوس تھے جبکہ گھروں اور گلیوں کو کسی کے استقبال کی طرح سجائے گئے تھے۔ رمبور گاؤں میں ہر سو خوشی کا ہی سماں نظرآرہا تھا اور مختلف مقامات پر اجتماعی ناچ گانے کے بعد سب سے بڑا پروگرام چہار سو کے نام سے قائم گروم گاؤں میں شروع ہواجوکہ رات گئے تک جاری رہے گا۔ چہار سو میں ہر عمر کے مردو خواتین الگ ٹولیوں میں ایک دائرے میں رقص کررہے تھے جبکہ وقفے وقفے سے مترنم نعرے لگاتے رہے جن سے وادی کی پہاڑیں گونج اٹھتے رہے۔ تینوں وادیوں کی پہاڑوں سے چند ہفتے قبل ہی برف پگھل جانے کے بعد موسم بہار اپنی جوبن پر ہے اور ہر طرف ہریالی ہی ہریالی دیکھنے والوں کی آنکھوں کو خیرہ کرکے رکھ دیتی ہے تو وادی کی لمبائی کے رخ میں بہنے والی ندی کی شور نے وادی میں نئے آنے والوں پر عجیب سی کیف پیدا کردی تھی۔رمبور وادی میں چیلم جوشٹ کا احتتام بدھ کے روز، بمبوریت میں جمعرات اور بریر میں جمعہ کے روز ہوگا۔

منگل کے روز بمبوریت وادی میں گہماگہمی دیکھنے میں آئی جوکہ سب سے بڑی کالاش وادی ہے جہاں پر ہوٹل اور دوسری سہولیات موجود ہونے کی وجہ سے ذیادہ تعدادمیں سیاح پہلے اسی وادی کا رخ کرتے ہیں۔ بریر سے آمدہ اطلاعات کے مطابق چیلم جوشٹ کی تیاریاں اپنی عروج کو پہنچ چکی ہیں جہاں پر کالاش تہذیب وثقافت بالکل قدیم اور اصل شکل میں موجود ہے۔ فیسٹول کی وجہ سے وادیوں میں ہوٹل اپنی گجائش کے مطابق بھر گئے ہیں جبکہ ٹورزم کارپوریشن خیبر پختونخوا (ٹی سی کے پی)نے بمبوریت میں سیاحوں کے لئے خیمہ بستی کا انتظام کیا ہے تاکہ باہر سے آنے والے سیاحوں کو ہوٹلوں میں کمرا نہ ملنے پر تکلیف کا سامنا نہ ہو۔ غیر ملکی سیاحوں کی بڑی تعداد اس مرتبہ دیکھی گئی جبکہ ملک کے دیگر حصوں سے بھی سیاح تہوار سے لطف اندوز ہونے پہنچ گئے ہیں البتہ رمضان المبارک کی وجہ سے چترال کے مقامی لوگ کم تعداد میں دیکھے جارہے ہیں۔ سیاحوں کو کالاش وادیوں تک پہنچنے میں رہنمائی سمیت وادیوں کے اندر فیسٹول کے دوران مختلف سہولیات کی فراہمی کے لئے ٹی سی کے پی نے خصوصی انتظام کیا ہے۔ رمبور میں آئی ہوئی ایک فرانسیسی خاتون نے مقامی میڈیا کو بتایاکہ انہوں نے کالاش لوگوں اور ان کی تہذیب سے متعلق جو بھی سنا تھا، بالکل وہی پایا جوکہ ان کے لئے خوش کن ہے جبکہ یہ وادی دنیا کے خوبصورت ترین ٹورسٹ ریزرٹوں میں ایک ہے۔ انہوں نے کہاکہ کالاش جیسے بھولے بھالے اور اپنی ثقافت سے محبت کرنے والے دنیامیں کہیں نہیں ہیں اور چیلم جوشٹ فیسٹول میں شرکت کرکے ان کوبہت خوشی مل رہی ہے۔ بیرون ملک اور اندرون ملک سے سیاحوں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے۔
ایک اور سیاح نے علاقے کی خوبصورتی اورمنفرد ثقافت کی تعریف کرتے ہوئے سڑکوں‌کی ناگفتہ بہ حالت پر انتہائی افسوس کا اظہار کیا. اورکہا کہ سیاحت کو فروع دینے کے دعویدار حکمرانوں‌کیلئے لمحہ فکریہ ہے کہ اس منفرد تہذیب کو دیکھنے کیلئے دنیا بھر سے سیاح یہاں آتے ہیں‌مگر سڑکوں‌کی ناگفتہ بہہ حالت کی وجہ سے بعض سیاح کالاش ثقافت کو دیکھے بے غیر واپس جانےپر مجبورہوجاتے ہیں. انھوں نے کہا کہ جومنفرد ثقافت یہاں پر دیکھنے کو ملاوہ دنیا کے کسی کونے میں‌بھی نہیں‌ہے . اگر ان علاقوں‌کی سڑکوں‌پر توجہ دی جائے تو یہاں سالانہ لاکھوں‌سیاح چترال کا رُخ کریں گے جس سے علاقے کی ترقی کے ساتھ ملکی معیشت پر بھی مثبت اثرپڑے گا. اوریہاں‌کے بیروزگار نوجوانوں‌کو بھی روزگار کے مواقع میسرآئیں‌گے.

Chitral Kalash people celebrating their famous festival Chelum Jusht Pic by Saif ur Rehman Aziz 2

kalash festival chelum jusht began in chitral 3

kalash festival chelum jusht began in chitral 4

kalash festival chelum jusht began in chitral 5

kalash festival chelum jusht began in chitral 6

kalash festival chelum jusht began in chitral 2
kalash festival chelum jusht began in chitral 7


شیئر کریں: