Chitral Times

May 27, 2019

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • عالمی تنازعات میں امریکا کی بے جا مداخلت……. پیامبر……قادر خان یوسف زئی

    May 12, 2019 at 3:20 am

    امریکا اور ایران تنازع خطے میں شدید کشیدگی کا سبب بنا ہوا ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے بارک اوبامہ و ایران کے درمیان ایٹمی پروگرام پر معاہدے کو ختم کئے جانے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کشیدہ تعلقات میں روز با روز اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔ ایران نے بھی امریکا کے اقدامات پر سخت ردعمل دیتے ہوئے2015کے معاہدے کی منسوخی کا عندیہ دیتے ہوئے اعلیٰ سطح پر یورنیم کی افزودگی کا عندیہ دیا ہے۔ جب کہ امریکا نے ایران کے متوقع ردعمل کے تناظر میں ابراہم لنکن نامی جنگی بحریہ خلیج فارس میں تعینات کردیا ہے۔ یہ جنگی بحریہ پہلے ہی سے جنگی مشقوں کے لئے موجود تھا تاہم جنگی مشقوں کے اختتام کے بعد ایران کے نزدیک جنگی بحری بیڑے کی تعیناتی نے کشیدگی میں مزیداضافہ کردیا ہے۔ جنگی بیڑے کی تعیناتی امریکی افواج پر ممکنہ حملے کے دعویٰ کی بنیاد پر کی گئی ہے۔ امریکہ کے مشیر قومی سلامتی جان بولٹن کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ایران کی جانب سے ’متعدد دھمکیوں اور اکسانے والے بیانات‘ کے جواب میں اٹھایا گیا ہے۔جان بولٹن کا مزید کہنا تھا کہ کسی بھی حملے کی صورت میں ’سخت قوت‘ کے ساتھ مقابلہ کریں گے۔ چارٹس میں جان بولٹن نے ایک بیان میں کہا کہ ’امریکہ اپنا ابراہم لنکن نامی جنگی بحری بیڑا اور ببمبار ٹاسک فورس امریکی سینٹرل کمانڈ کے علاقے میں تعینات کر رہا ہے تاکہ ایرانی حکومت کو واضح اور بے مغالطہ پیغام بھیجا جا سکے کہ ہمارے یا ہمارے اتحادیوں کے مفادات پر کسی بھی قسم کے حملے کا سخت قوت کے ساتھ جواب دیا جائے گا۔‘ ایران نے کہا ہے کہ جان بولٹن سیکورٹی اور عسکری معاملات سے لاعلم ہیں۔
    ایران کی اعلی قومی سلامتی کونسل کے ترجمان کیوان خسروی نے امریکہ کے مشیر قومی سلامتی کے حالیہ بیان ردعمل میں کہا کہ’امریکی مشیر سلامتی جان بولٹن کی باتیں دکھاوے کے سوا کچھ نہیں اور نہ ہی انہیں سیکورٹی اور عسکری معاملات سے متعلق کچھ معلوم ہے۔‘سنیئر ایرانی عہدیدار کا کہنا تھا کہ’ایران کی مسلح افواج کی مصدقہ اطلاعات کے مطابق امریکی بحری بیڑا ابھی نہیں بلکہ 21 روز پہلے سے ہی بحیرہ روم میں موجود ہے لہذا جان بولٹن کی حالیہ باتوں کا مقصد صرف پروپیگنڈہ کرنا ہے۔انہوں نے علاقائی بحران کے سامنے امریکی فوج کی مسلسل شکست کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں نہیں لگتا کہ امریکہ ایرانی مسلح افواج کی طاقت اور صلاحیت کو آزمانے کی غلطی کرے گا‘۔
    امریکا ایران پر اقتصادی پابندیاں عائد کرچکا ہے تاہم آٹھ ممالک بشمول بھارت کو ایران سے تیل کی خریداری کے لئے استثنیٰ دیا گیا تھا۔ جو تازہ اقتصادی پابندیوں میں واپس لے لیا گیا ہے۔اس سے قبل امریکا نے ایران کی مسلح افواج پاسدارن انقلاب کو دہشت گرد قرار دے دیا تھا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خصوصی فوجی دستے پاسداران انقلاب کو غیرملکی دہشت گرد تنظیم قرار دینے کایہ ایک ایسا اعلان ہے جس کی مثال نہیں ملتی۔یہ پہلا موقع ہے کہ امریکہ نے کسی دوسرے ملک کی فوج کو دہشت گرد تنظیم کہا ہے۔وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ ایران کے دستے ’پاسداران انقلاب‘ عالمی سطح پر اس کی دہشت گردی کی مہم پھیلانے کا ایک ذریعہ ہیں۔ تاہم امریکا کی جانب سے اقتصادی پابندیوں سے ایران کی دشواریوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔2015میں امریکی معاہدے کے بعد ایران میں ترقی کی شرح نمواضافہ شروع ہوگیا تھا۔ ایران کی معیشت کا دارو مدار تیل و گیس کی مصنوعات پر زیادہ ہے۔ تاہم صدر ٹرمپ کی جانب سے معاہدے کی ازسر نو تجدید سے انکار کے بعد امریکا نے پابندیوں میں سختی کردی جس سے ایران کو اقتصادی پریشانیوں کو سامنا ہے۔ ملک گیر سطح پر مہنگائی، بے روزگاری اور بیرون ملک جنگجو ملیشیاؤں کی مالی امداد، گرتی ہوئی اقتصادی صورتحال اور شرح نمو کی کمی کا سبب بنا۔ امریکا نے اقتصادی پابندیوں کی بنا پر ایران کی معیشت کو متاثر کیا اور تجارت تقریباََ ختم ہوگئی۔ ایران نے امریکا پر الزام عائد کیا کہ وہ ایران میں مظاہروں کو حوصلہ افزائی کررہا ہے اور ایران میں بے امنی کو فروغ دینا چاہتا ہے۔ یہاں اب اہم مسائل ان 8ممالک کے لئے پیدا ہوگئے ہیں جو ایران سے تیل برآمد کرنے کے لئے استثنیٰ حاصل کرچکے تھے۔ چین، بھارت،جنوبی کوریا،تائیوان،ترکی، یونان اور اٹلی کو استثنیٰ دیا گیا تھا۔ رپورٹس کے مطابق مئی سے اکتوبر 2018کے بعد نومبر2018سے مارچ2019تک ایران کی تیل کی برآمدات میں واضح فرق پڑا ہے۔ تیل برآمد کرنے والے ملکوں کی تنظیم اوپیک کے اعداد و شمار کے مطابق سنہ 2018 کے شروع میں خام تیل کی پیداوار تین اعشاریہ آٹھ ملین بیرل یومیہ تک پہنچ گئی تھی۔ ایران اس وقت دو اعشاریہ تین ملین بیرل یومیہ فروخت یا برآمد کر رہا تھا۔ایران کے تیل کی برآمدات کا بڑا حصہ وہ 8 ملک اور خودمختار خطے خرید رہے تھے جن کو اکتوبر میں امریکہ کی طرف سے عائد کردہ پابندیوں سے چھ ماہ کا عارضی استثنیٰ دیا گیا تھا۔ ان ملکوں میں چین، انڈیا، جاپان، جنوبی کوریا، تائیوان، ترکی، یونان اور اٹلی شامل تھے۔مارچ 2019 تک ایران کے تیل کی برآمدات گِر کر ایک اعشاریہ ایک ملین بیرل یومیہ تک پہنچ گئی۔ تائیوان، یونان اور اٹلی نے مکمل طور پر ایران سے تیل کی خریداری بند کر دی تھی۔ جب کہ چین اور انڈیا نے ایران سے تیل کی خریداری بالترتیب 39 فیصد اور47 فیصد کم کر دی تھی۔ امریکی حکام کے مطابق اس سے ایران کو تقریباً دس ارب ڈالر کی آمدن کم ہوئی ہے۔
    امریکی پابندیوں کو چین اور ترکی نے ماننے سے انکار کردیا ہے۔ چین نے واضح طور پر کہا ہے کہ امریکا کو کوئی حق و اختیار نہیں کہ وہ کسی بھی ملک کو دوسری ملک سے خریداری روکنے کا کہے، ترکی نے بھی واضح کردیا ہے کہ وہ اپنی پڑوسی ملک کو ناراض نہیں کرسکتا۔خام تیل کا خرید دار بھارت رہا ہے۔ پہلے امریکا نے بھارت کو بھی استثنیٰ دیا تھا۔ تاہم بھارت نے اپنے مفادات کو ترجیح دیتے ہوئے ایران سے خام تیل کی خریداری پر امریکی پابندیوں کو قبول کرلیا ہے۔ بھارتی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ وہ اپنی خام تیل کی ضروریات ایران کے بجائے اب دوسرے ممالک کے ذریعے پورا کرے گا۔ بھارتی وزارت خارجہ کے ایک ترجمان نے کہا کہ نئی دہلی حکومت خام تیل کی قومی ضروریات اب دیگر شراکت دار ممالک سے خریدے گئے تیل سے پورا کرے گی۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ بھارت اپنے اقتصادی اور توانائی کے مفادات کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ذرئع تلاش کرتا رہے گا۔ بھارت نے اس سال مارچ میں ختم ہونے والے گزشتہ مالی سال میں تقریباً ڈھائی کروڑ ٹن خام تیل ایران سے خریدا تھا۔ دوسری جانب ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان سیّد عباس موسوی نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف امریکی پابندیاں غیر قانونی ہیں، لہٰذا اس کی طرف سے دیے گئے استثنا کی کوئی اہمیت نہیں۔ انہوں نے مقامی ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پابندیوں کے منفی اثرات کو مدنظر رکھتے ہوئے ایران دیگرممالک سے مشاورت کر رہا ہے، جن میں یورپ کے ممالک بھی شامل ہیں۔ ساتھ ہی ایرانی پارلیمان نے ایک ایسی قرارداد بھاری اکثریت سے منظور کر لی ہے، جس میں امریکی فوج کے تمام دستوں کو دہشت گرد قرار دیا گیا ہے۔ گو کہ ایران یورپی ممالک سمیت مختلف ذرائع سے امریکا کا دباؤ کم کرنے کی کوشش کررہا ہے لیکن جس طرح امریکی جنگی بیڑے اور بمبار ڈویژن نے خلیج فارس میں اپنے قیام کی مدت کو بڑھا دیا ہے اور امریکی مشیر اسے ایران کے خلاف کسی متوقع کاروائی کے جواب کا جواز قرار دے رہے ہیں اس سے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافے کا اثر پورے خطے میں پڑے گا۔
    امریکا ایران کا تنازع اسرائیل کی وجہ سے شروع ہوا ہے اور اسرائیلی مفادات کو مد نظر رکھتے ہوئے امریکا، ایرانی مفادات کے آگے رکاؤٹ بنا ہوا ہے۔ امریکا کی جانب سے اسرائیل کی حمایت بھی کل وقتی ہے اور اسرائیل کی حمایت میں امریکا ان گنت بار اپنی حدود سے تجاوز بھی کرچکا ہے۔ خاص طور اسرائیل کے لئے امریکا کا نرم گوشہ قربت کی بڑے رشتے دنیا کے سامنے کئی بار آشکار کرچکا ہے کہ اسرائیل کے لئے امریکا دنیا کے کسی بھی ملک کو خاطر میں لانے کے لئے تیار نہیں۔ امریکا نے یروشلم کو اسرائیل کا دالحکومت تسلیم کرتے وقت سلامتی کونسل کی قرار داد ویٹو کردیا تھا۔ تاہم جنرل اسمبلی میں بھاری اکثریت سے شکست کے باوجود امریکا نے پرواہ نے نہیں کی بلکہ اسرائیل کی حمایت نہ کرنے والے ممالک کو سخت پیغام اور فلسطین سمیت کئی ممالک کو دیئے جانے والی مالی امداد بھی روک دی تھی۔ امریکا نے یروشلم میں اپنا سفارت خانے کے منتقلی کے وقت بھی فلسطینی و عالمی برداری کے احتجاج کو نظر انداز کیا اور یروشلم میں اپنا سفارت خانہ منتقل کردیا۔ اسرائیل نے امریکا کی شہ پر ہی فلسطینی مسلمانوں پر مظالم ڈھانے میں کسی قسم کے رحم کا مظاہرہ نہیں کیا بلکہ فلسطینی مسلمانوں پر ظلم کو روا رکھا ہوا ہے۔ گزشتہ دنوں اسرائیلی فضائیہ اور زمینی افواج نے غزہ میں بمباری کی۔اطلاعات کے مطابق حالیہ لڑائی میں اسرائیل کی طرف سے غزہ پر کئے گئے حملوں میں 2 حاملہ خواتین سمیت 3 خواتین اور 2 شیر خوار بچوں سمیت کُل 25 فلسطینی شہید اور 150 زخمی ہو گئے ہیں۔ جبکہ تین شہریوں سمیت چار اسرائیلی بھی ان واقعات میں ہلاک ہوئے ہیں۔واضح رہے کہ واضح رہے کہ مصر اور اقوام متحدہ کی ثالثی میں فلسطینی مزاحمتی گروپوں اور اسرائیل کے درمیان فائر بندی کا سمجھوتہ طے پا گیا تھا۔جس کی تصدیق مصر ی حکام نے بھی کردی تھی۔ تاہم فائر بندی کی تفصیلات سے آگاہ نہیں کیا گیا تھا۔ فائربندی کے حوالے سے اسرائیل کے سرکاری نشریاتی ادارے KAN کی خبر میں دعوی کیا گیا ہے کہ فائر بندی کے سمجھوتے میں حماس اور دیگر مزاحمتی تحریک’ فلسطین اسلامی جہادموومنٹ’ کی کاروائیوں کی روک تھام، غزہ کی سرحد پر ہفتہ وار مظاہروں میں کمی اور اسرائیل کی طرف آتش گیر غبارے بھیجنے کا خاتمہ جیسی شرائط شامل ہیں۔تاہم حماس اور اسلامک جہاد کی جانب سے اسرائیل پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ وہ مصر اور اقوام متحدہ کی معاونت سے طے پانے والے جنگ بندی کے معاہدے کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔تنظیموں کا دعویٰ تھا کہ اسرائیل غزہ کی پٹی کے اطراف رکاوٹیں بڑھا کر آمدورفت محدود کر رہا ہے۔ جو کہ معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔ ترکی کے صدر رجبب طیب اردوان نے بھی اسرائیلی کارروائیوں سے غزہ میں ترک نیوز ایجنسی کے دفتر کو نقصان پہنچنے پر سخت ردعمل دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس واقعے کے باوجود ترکی اسرائیل کے ظلم و ستم دنیا کو دکھاتا رہے گا۔
    امریکا کے براہ راست تنازعات کی زد میں وینزیلا بھی شامل ہے۔ جہاں امریکا کی حمایت یافتہ حکومت قائم ہے تاہم روس و چین اس کی حمایت نہیں کررہے۔ ہوان گوآئیڈو نے جو کہ حزب اختلاف کی حامل اسمبلی کی اسپیکر ہیں انہوں نے خود کو ملک کا عبوری صدر بننے کا اعلان کیا۔ ہوان گوآئیڈو کو امریکہ سمیت آسٹریلیا، کینیڈا، کولمبیا، پیرو، ایکواڈور، پیراگوئے، برازیل، چلی،پاناما، ارجنٹائن، کوسٹاریکا اور گوئٹے مالا نے عبوری صدر تسلیم کیا لیکن میکسیکو، ترکی، روس، ایران، کیوبا، چین اور بولیویا، وینزویلا کے صدر نکولس مادور کی حمایت کر رہے ہیں۔ان حالات کے پیش نظر صدر مادورو نے امریکہ کے ساتھ سفارتی و سیاسی تعلقات کو منقطع کرنے کا تاہم تجارتی تعلقات کے جاری رہنے کا اعلان کیا تھا۔جواباً امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی کہا تھا کہ وینزویلا میں فوجی بھیجنا ان کی ترجیحات میں شامل ہے۔ وینزویلا بحران میں روس نے امریکا کو خبردار کیا ہے کہ امریکا کو فوجی کارروائی سے باز رہنے پر روز دیا۔روسی وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ وینزویلا میں کسی بھی طرح کے مزید جارحانہ اقدامات کے انتہائی سنگین نتائج برآمد ہوں گے، ان کے مطابق فوجی کارروائی ہوئی تو روس خاموش نہیں بیٹھے گا۔خیال رہے کہ گذشتہ ماہ امریکا نے روس کو تنبیہ کی تھی کہ وینزویلا بحران کے آڑ میں روسی فوج نے مداخلت کی تو خاموش نہیں بیٹھیں گے، باوجود اس کے روس نے اپنی فوج بھیج دی۔امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ وینزویلا سے اپنے فوجی دستے فوری واپس بلائے۔تاحال یہ واضح نہیں کہ روسی فوج کا وینزویلا میں مشن کیا ہے اور وہ کتنا عرصہ وہاں رہے گی۔ البتہ روسی فوج کی وینزویلا آمد کے بعد وہاں جاری سیاسی بحران مزید سنگین صورت اختیار کرنے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ عوام کو حکومت جنگی تربیت دے رہی ہے۔روس وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماریہ زخارووا نے کہا ہے کہ امریکہ وینزویلا سے روسی فوج کی واپسی کا مطالبہ کرنے سے قبل شام سے اپنے فوجی دستے واپس بلائے۔روس کے سرکاری ٹی وی ‘چینل ون’ سے گفتگو کرتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ کسی اور ملک کو کسی اور جگہ سے انخلا کا مشورہ دینے سے قبل امریکہ کو خود اپنے مطالبات پر عمل کرنا چاہیے اور بطور خاص شام سے اپنی فوج واپس بلانی چاہیے۔گوئیڈو اور حزبِ اختلاف کے دیگر رہنماؤں کا موقف ہے کہ 2018ء کے انتخابات دھاندلی زدہ تھے اور اس لیے مادورو کے بطور صدر دوبارہ انتخاب کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔لیکن صدر مادورو جنہیں بدستور وینزویلا کی فوج اور دیگر ریاستی اداروں کی حمایت حاصل ہے، گوئیڈو کو امریکہ کی کٹھ پتلی قرار دے چکے ہیں۔
    امریکی صدر کے شام سے فوجی انخلا کے اعلان پر ابھی تک عمل درآمد نہیں ہوا اور بدستور امریکی افواج مملکت شام میں موجود ہیں۔امریکی صدر نے مملکت شام سے فوجی انخلا کا اعلان تو کیا تھا لیکن امریکی سینیٹ اور اسٹیبلشمنٹ نے شام و افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کے صدارتی حکام پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے امریکی افواج کی موجودگی کو ضروری قرار دیا تھا۔ امریکی صدر نے اولین اعلان داعش کی شکست کے بعد امریکی افواج کی موجودگی کو مزید رہنے کو بلاجواز قرار دیا تھا کہ داعش کو شکست ہوچکی ہے اس لئے امریکا اپنی افواج کو واپس بلالے گا۔ لیکن بعد میں امریکا نے انخلا کو ترکی کے ضمانت پر مشروط کردیا۔ تاہم ترکی کی جانب سے خلا پر کرنے کے اعلان کے باوجود امریکا شام کی جنگ سے نکلنے میں تامل برت رہا ہے۔ کچھ یہی صورتحال افغانستان میں بھی ہے کہ امریکا کی جانب سے واضح اعلان کے باوجود انتقال اقتدار کی حتمی تاریخ پر افغان طالبان سے مذاکرات منطقی انجام تک نہیں پہنچ رہے، یہاں تک کہ کابل حکومت، امریکی صدر کے خصوصی معاون برائے افغانستان زلمے خلیل زاد پر اس قدر حاوی ہوچکی ہے کہ بھارت کو بھی اسٹیک ہولڈر تسلیم کرتے ہوئے دوحہ مذاکرات کے مطابق دوسری مرتبہ بھارتی حکام کو دوحہ مزاکراتی عمل سے آگاہ کیا۔ حالانکہ بھارت افغانستان کا پڑوسی ملک یا متاثرہ ملک نہیں ہے لیکن امریکا کی جانب سے بھارت کی جانب جھکاؤ ظاہر کررہا ہے کہ امریکا انتقال اقتدار و انخلا کے لئے تاخیری حربے استعمال کررہا ہے۔ جس کے نتائج تباہ کن ثابت ہوسکتے ہیں کیونکہ بھارت کے کردار کے سبب پاکستان کو شدید تحفظات ہیں۔ کابل حکومت اور بھارت میں خصوصی گٹھ جوڑ کے سبب پاکستان کے سیکورٹی مسائل میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ان حالات میں بھارت کے غیر فطری کردار کی بنا پر افغانستان امن تنازع حل میں مزید رکاؤٹیں پیدا ہونے کے خدشات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔حالاں کہ امریکی صدر بھارت کے افغانستان میں من پسند کردار ادا نہ کرنے مودی سرکار کو سخت تنقید و تضحیک کا نشانہ بنا چکے ہیں، لیکن اس کے باوجود امریکی مفادات نے بھارت کی سازشوں کو پھیلنے کا موقع فراہم کیا۔خاص طور پر جس طرح جیش محمد کے سربراہ مولانا اظہر مسعود کی آڑ میں بھارت نے پاکستان کے خلاف سازش رچانے کی کوشش کی اور امریکا نے بھارت کا بھرپور ساتھ دیا۔ اس سے ظاہر یہی ہورہا ہے کہ امریکا، پاکستان کے تمام مثبت ترین اقدامات کے باوجود بھارت کی خوشنودی حاصل کرنا چاہتا ہے کیونکہ بھارت امریکی اسلحے کی بہت بڑی منڈی کی صورت میں موجود ہے۔جس کا فائدہ روس، فرانس سمیت کسی دوسرے ملک کو دینے کے بجائے امریکا کی پوری کوشش ہے کہ کسی بھی طرح بھارت کے ساتھ بڑے پیمانے پر جنگی ساز و سامان و آلات پر کھربوں ڈالر کے معاہدے ہوجائیں۔
    امریکا کے شمالی کوریا کے ساتھ تاریخی رابطے اور ایٹمی جنگ کے خدشے کے خاتمے کے بعد ایک بار پھر شمالی کوریا اور امریکا کے درمیان زبانی جنگ کا آغاز ہوگیا ہے۔ شمالی کوریا نے امریکا پر براہ راست کی دھمکی دی تھی تو امریکا نے بھی شمالی کوریا کو صفحہ ہستی مٹانے کے لئے بڑی جنگی کاروائی کی دھمکی دی تھی،امریکا نے شمالی کوریا کے خلاف بھی اقتصادی پابندی عائد کی تھی۔ سلامتی کونسل میں شمالی کوریا کے خلاف قرارداد کو چین نے روک کر کشیدگی میں کمی کے لئے اہمم کردار ادا کیا اور بالاآخر امریکی صدر اور شمالی کوریا کے درمیان اہم تاریخی مذاکرات ہوئے، شمالی کوریا اور جنوبی کوریا کے درمیان تلخیاں کم ہوئیں اور تاریخی ملاقاتوں کے بعد دنیا میں بڑی ایٹمی جنگ کا خطرہ ختم ہوا۔ امریکا اور چین کے درمیان بھی اقتصادی جنگ جاری ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان برآمدات اور درآمدات کے محاصل میں اضافے کے بعد امریکا نے بھی چین کو اپنی معیشت کے لئے سب سے بڑا خطرہ قرار دے چکاہے۔ مملکت شام میں امریکا اور روس مدمقابل ہیں۔ امریکا مسلسل ایک جنگ سے دوسری جنگ میں دھنستا جارہا ہے۔ بیرونی ممالک میں مداخلت اور امریکا بلاک کے مخالف روسی بلاک نے پوری دنیا کے لئے پریشان کن صورتحال پیدا کردی ہے۔ان حالات میں امریکا کو اپنے مفادات کی ترجیحات میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔ ہر مسئلے کا حل صرف جنگ ہی نہیں ہوتا۔امریکا کو عالمی تنازعات سے خود کو باہر نکالنا ہوگا۔ ملکی خود مختاری کا احترام اور اندورنی مداخلت کی پالیسیوں کو تبدیل کرتے ہوئے دنیا میں جنگ کے سائے کم کرنے کے لئے فروعی مفادات کو ختم کرنا ہوگا۔

  • error: Content is protected !!