Chitral Times

May 27, 2019

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • صوبائی کابینہ کا اجلاس، درسی کتاب میں ختم نبوت حوالے مضمون میں تبدیلی کا نوٹس

    May 10, 2019 at 3:19 am

    پشاور(چترال ٹائمزرپورٹ ) وزیراعلیٰ کی این ایف سی ایوارڈ میں فیڈرل ڈیویزیبل پول میں سے خیبرپختونخوا کے مجموعی حصے کا تین فیصد قبائلی اضلاع کی ترقی پر خرچ کرنے کی منظوری ، وزیراعلیٰ کی درسی کتاب میں ختم نبوت کے حوالے سے الفاظ کی تبدیلی کے ذمہ داران کے خلاف کاروائی کی ہدایت،
    وزیراعلیٰ کا2013 سے اب تک پاس کئے جانے والے قوانین کے رولز آف بزنس میں تاخیر پر برہمی کا اظہار ، رولز جلد تشکیل دیئے جائیں، محمود خان
    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کا اجلاس منعقد ہوا ، جس میں وزیراعلیٰ نے چوتھی کلاس کی درسی کتاب میں ختم نبوت کے حوالے سے مضمون میں الفاظ کی تبدیلی کے معاملے کا سخت نوٹس لیا ہے ، انہوںنے اس سلسلے میں ذمہ داران کا تعین کرنے اور اُن کے خلاف بھر پور قانونی کاروائی کی ہدایت کی ہے ۔ وزیراعلیٰ نے کابینہ کو ہدایت کی کہ سرکاری سکولوں کے نصاب میں حضور بنی کریم کی حیات طیبہ کے حوالے سے جامع مضمون شامل کیا جائے تاکہ بچوں کو بنی کریم کی زندگی ، آپ کے اوصاف اور خصائص کے حوالے سے خاطر خواہ معلومات حاصل ہو سکیں۔ یہ ہدایات اُنہوں نے سول سیکرٹریٹ پشاور میں صوبائی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جاری کیں۔

    وزیراعلیٰ نے کہاکہ عقیدہ ختم نبوت ایمان کا بنیادی تقاضا ہے اور اُن کی حکومت عقیدہ ختم نبوت سے کسی قسم کی چھیڑ چھاڑ برداشت نہیں کرے گی ۔ وزیراعلیٰ نے پرائمری سکولوں میں بچوں کے بھاری بستوں کے معاملے کا بھی نوٹس لیا اور اس مسئلے کو حل کرنے کیلئے کابینہ کو قابل عمل تجاویز مرتب کرنے کی ہدایت کی ۔کابینہ سے خطاب میں وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ پرائیوٹ سکولوں میں چھٹیوں کی فیس لینے اور فیس میں اضافے کے حوالے سے سپریم کورٹ کا جو بھی فیصلہ ہو گا اُس پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے گا۔ اُنہوں نے خیبرپختونخوا پروفیسرز اینڈ لیکچرار ز ایسوسی ایشن کے مطالبات کے تناظر میں کمیٹی کی پیش کردہ سفارشات سے اُصولی اتفاق کیا تاہم انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ سہولیات او رمراعات میں اضافے کو کارکردگی سے منسلک کرناچاہیئے اور اس مقصد کیلئے طریقہ کار وضع کیا جائے ، جب حکومت سماجی خدمات کے اداروں اور شعبوں پر خطیر وسائل خرچ کرتی ہے تو اُس کے ثمرات بھی عوام کو ملنے چاہئیں ۔ انہوں نے ہارڈ ایریا زکا از سر نو تعین کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا اور اس پر کام کرنے کی ہدایت کی ۔ وزیراعلیٰ نے سابقہ اور موجودہ صوبائی حکومت کی طرف سے بنائے گئے قوانین کے تحت رولز آف بزنس کی تشکیل میں تاخیر پر برہمی کا اظہار کیا اور تمام متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ ایک ماہ کے اندر پیشرفت یقینی بنائیں۔

    کابینہ سے خطاب میں محمود خان نے کہا کہ رولز کی تشکیل کو سنجیدگی سے لیا جائے اور تیز رفتاری سے رولز تشکیل دیئے جائیں تاکہ قوانین کے مقاصد حاصل کئے جا سکیں۔ انہوں نے تنبیہ کی کہ اس سلسلے میں مزید تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی اور ایک ماہ کے بعد ایکشن لیا جائے گا۔محمود خان نے متعلقہ حکام کو صوبے کے کلاس فور ملازمین اور سابقہ فاٹا کے ملازمین کے ساتھ بات کرنے اور اُن کے جائز مطالبات پورے کرنے کی بھی ہدایت کی ۔ وزیر اعلیٰ نے این ایف سی ایوارڈ میں فیڈرل ڈویزیبل پول میں سے خیبرپختونخوا کے مجموعی حصے کا تین فیصد حصہ جو کہ 10.8 ارب روپے بنتا ہے ، قبائلی اضلاع کی تیز تر ترقی پر خر چ کرنے کی منظوری دی ہے اور کہا ہے کہ یہ صوبائی حکومت اور اس صوبے کے عوام کے ضم شدہ اضلاع کے لئے اخلاص اور نیک نیتی کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔ انہوںنے ضم شدہ قبائلی اضلاع پر خصوصی توجہ مرکوز کرنے کی ہدایت کا اعادہ کیا اور کہاکہ نئے اضلاع کے مسائل کو اہمیت دی جائے۔ نئے اضلاع کے حوالے سے تمام معاملات، اہداف اور اقدامات واضح ہونے چاہئیں۔ انہوںنے اس سلسلے میں وفاقی سطح پر ایک اعلیٰ سطح اجلاس کا اہتمام کرنے کی بھی ہدایت کی تاکہ باہمی مشاورت سے یکسوئی کے ساتھ آگے بڑھ سکیں اور نئے اضلاع کی تیز تر ترقی اور خوشحالی یقینی ہو سکے ۔ انہوں نے ضم شدہ اضلاع کے لئے دس سالہ ترقیاتی حکمت عملی (ٹی ڈی ایس ) کے تصوراتی پیپر کی منظوری دی اور ہدایت کی کہ اس کے مسودہ کو منتخب عوامی نمائندوں ، وزراءکی مشاورت سے حتمی شکل دی جائے ۔

  • error: Content is protected !!