Chitral Times

Jul 23, 2019

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • جواب حاضر ہے!………عبد الکریم کریمی

    May 8, 2019 at 6:26 pm

    میری کل کی تحریر پر کچھ دیسی دانشور سیخ پا ہیں۔ حالانکہ میں نے اسلامی تعلیمات کی روشنی میں خیرات دینے کی بات کی تھی۔ اب میری باتیں ان کی ذہنی سطح سے اوپر تھیں یا وہ جان بوجھ کر اس ریاکاری کی طرف داری کر رہے تھے۔ مجھے حیرت تب ہوئی جب ہنزہ سے ہی تعلق رکھنے والے کچھ لوگوں نے اس بے غیرتی کے حق میں دلائل دیتے ہوئے ہمیں باقاعدہ غیرت بریگیڈ کے سپاہی کے ٹائٹل سے بھی نوازنے میں دیر نہیں کی۔ ان تحریروں کے بعد ایک بات تو حقیقت بن کے سامنے آتی ہے کہ یہ اور اس قبیل کے لوگ جتنی بھی ترقی کریں ذہںی طور پر غلامی در غلامی میں جگڑے ہوئے ہیں یہی وجہ ہے کہ ان کے لیے قربانی دینے والا ان کا اپنا بیٹا بابا جان اپنے ناکردہ گناہوں کی وجہ سے جیل میں پس رہا ہے اور یہ ووٹ میر غضنفر کو ہی دینگے۔ ان کی بیٹیاں ماؤنٹ ایورسٹ تک سر کر گئیں لیکن اسملبی میں رانی صاحبہ ہی جائیں گی کہ رانی اور میر کی موجودگی میں ایک عام ہنزائی کی کیا مجال کہ وہ اسمبلی کے گیٹ سے اندر داخل ہو۔ ان کو بس ایک تھیلہ آٹا اور کچھ راشن ملے۔ حبیب جالب نے خوب ہی کہا ہے؎
    تو کہ نا واقفِ آداب غلامی ہے ابھی
    رقص زنجیر پہن کر بھی کیا جاتا ہے
    ایک صاحب کا کہنا تھا ’’خواتین لائن میں کھڑی ہوئیں تو کونسی قیامت آگئی۔ ہنزہ کی خواتین تو کھیل، ثقافت اور تعلیم کے میدان میں آگے ہیں۔‘‘
    یہاں تک کہ پچھلے سال ایک ہوٹل میں منعقدہ صنم بلوچ کے ڈانس کا تذکرہ کرنا بھی موصوف نہیں بھولے۔
    تعصب میں ڈوبے اس بندے سے میرا ایک ہی سوال ہے کہ پاکستانی میڈیا میں ناچنے والی خواتین کا تعلق بھی ہنزہ اور غذر سے ہیں؟ لاہور کی ہیرامنڈی یا بازار حُسن کہ جہاں شباب بکتا ہے ان کا تعلق بھی ہنزہ اور غذر سے ہے؟ پاکستانی اور ہندوستانی فلموں میں کام کرنے والی اداکاراؤں کا تعلق بھی ہنزہ اور غذر سے ہے؟ ویسے ایک بات پوچھنی تھی۔ اس قبیل کی خواتین جو بازار حسن، فلموں اور میڈیا میں مورننگ شو کے نام سے روزانہ ناچتی ہیں ان کا تعلق کس مسلک سے ہے؟ تو جواب ملے گا ان کا تعلق جس بھی مسلک سے ہے نہیں معلوم لیکن یہ بات اٹل ہے کہ ان میں سے ایک کا تعلق بھی اسماعیلی مسلک یا ہنزہ و غذر سے نہیں۔ بس اس غیرت مند دین دار بھائی سے اتنی سی گزارش ہے؎
    آپ ہی اپنی اداؤں پہ ذرا غور کریں
    ہم اگر عرض کریں گے تو شکایت ہوگی
    ہاں غذر اور ہنزہ میں تعلیم عام ہے۔ وہاں بچی پیدا ہونے پر بیوی کو قتل نہیں کیا جاتا، بھائی کی شادی پر بنہیں تالیاں بھجائیں تو کفر کے فتوے نہیں لگتے، تالیاں بجھانے پر موت کے گھاٹ نہیں اتاری جاتی۔ بس یہی فرق ہے۔ ان کی بیٹیاں لیپ ٹاپ ہاتھ میں لے کر دفتر جائیں تو بے پردہ جبکہ دیگر خواتین ہاتھ میں کٹورا لے کر بازاروں میں بھیگ مانگے تو خیرات کی تبلیغ۔ میں اکثر اپنے لیکچرز اور تحاریر کے ذریعے یہ بات کہہ چکا ہوں کہ ہنزہ اور غذر کے لیول تک آنے کے لیے باقی دُنیا کو سو سال چاہیئے۔ ترقی کا نام بڑی بلڈنگیں نہیں، لمبی کاریں اور جائیدادیں نہیں ترقی انسانی سوچ کی ہوتی ہے۔ غذر اور ہنزہ اس حوالے سے الحمدللہ! آگے ہیں بہت آگے ہیں۔ بس دُعا کریں کہ ہمارے پاس کچھ ہو نہ ہو ہماری سوچ تعمیری ہو۔
    امیر جان حقانی ہمارے بہت پیارے دوست ہیں۔ میں ان کا نام اس لیے لے رہا ہوں کہ ان کے ساتھ صرف دوستی کا نہیں بھائی بندی کا رشتہ ہے۔ حقانی صاحب نے میری کل کی تحریر پر کافی تفصیلی کمنٹ کیا تھا جس کا ایک پیراگراف آپ کی بینائیوں کی نذر کیے دیتا ہوں۔
    حقانی صاحب لکھتے ہیں:
    ’’کافی سال پرانی بات ہے۔ کچھ ادارے/ این جی اوز دیامر کی خواتین میں ریلیف کے نام پر کچھ چیزیں عنایت کیا کرتی تھیں اور کچھ ترغیبات دیتی۔ مثلاً سلاٸی مشین، کچھ مرغیاں وغیرہ دی جاتیں۔ گاٸے پالو، مرغیاں پالو اور خود کفیل ہونے کے ساتھ خود مختیار ہو جاؤ یعنی والدین بھاٸیوں اور شوہروں پر زیادہ انحصار کی ضرورت نہیں اور خواتین سے باقاعدہ ایک منظم طریقے سے سوالات ہوتے تھے۔ مثلاً۔۔۔۔۔۔ أپ نہانے کے لیے کونسا صابن استعمال کرتی ہو؟، أپ کے شوہر کے ساتھ تعلقات کیسے ہیں؟، کیا گھر (شوہر) والوں کی طرف سے جیب خرچی ملتی ہے؟
    اس طرح کے درجنوں سوالات مہذب دُنیا سے تعلق رکھنے والے لوگ دیامر کی ناخواندہ خواتین سے کرتے۔ پھر مزاحمت پر دیامر والوں کو گنوار اور جاہل کہا جاتا۔ اب بندہ پوچھے کہ سلاٸی مشین اور نہانے کے صابن کا أپس میں کیا تعلق اور ربط بن جاتا ہے۔‘‘
    واہ! کیا دلیل ہے کہ سلائی مشین اور نہانے کے صابن کا آپس میں کیا تعلق بن جاتا ہے؟ جناب بہت بڑا تعلق ہے۔ میں یہاں واضح کرتا چلوں کہ یہ آغا خان ہلتھ اور آغا خان رورل سپورٹ پروگرام کی بات ہو رہی ہے لیکن حقانی بھائی کیونکہ اچھے لکھاری ہیں، وہ لکھتے ایسے ہیں کہ سانپ بھی مرے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔ لیکن بدقسمتی سے یہاں جو دلیل دی گئی ہے کہ سانپ کے مرنے سے پہلے لاٹھی ٹوٹ گئی ہے۔
    پہلی بات تو خواتین اور وہ بھی دیامر جیسے باپردہ سماج اور باپردہ ہماری ماؤں بہنوں سے یہ ممکن ہی نہیں کہ کوئی مرد ملاقات کریں اور اس طرح کے سوالات کریں۔ اگر ایسے سوالات ہوئے بھی ہیں تو آغا خان ہیلتھ کی کسی لیڈی ڈاکٹر نے یہ سوالات پوچھے ہوں۔ کیونکہ یہ سولات پوچھنا بہت ضروری ہیں۔
    نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے طہارت یعنی صفائی کو نصف ایمان قرار دیا ہے۔ اس لیے ایک لیڈی ڈاکٹر کی طرف سے کسی خاتون سے اس کے صابن، نہانے، صاف رہنے اور گھر کو پاکیزہ رکھنے کے حوالے سے پوچھے گئے سوالات سے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ کیونکہ صفائی سے رہنا ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔ رہی بات شوہر کے حوالے سے سولات تو یہ بھی کوئی اچنبھے کی بات نہیں یومن رائٹس کا حصہ ہیں کہ آپ خاتون سے پوچھے کہ ان کا شوہر بیٹی پیدا ہونے پر قتل کی دھمکی تو نہیں دیتا۔
    حقانی بھائی سے یاری دوستی ہے لگے ہاتھوں ان کو ایک لطیفہ سناتا ہوں۔ کہتے ہیں ایک علاقے (علاقے کا نام لینا مناسب نہیں کہ میں ویسے بھی بدنام ہوں) میں دو شینا بولنے والے آپس میں صفائی کے حوالے سے بات کر رہے تھے۔ ایک نے دوسرے سے پوچھا۔ ’’آپ سال میں کتنی بار نہاتے ہیں؟‘‘ دوسرے شخص نے جواب دیا ’’ایک بار۔‘‘ اب دوسرے کی باری تھی کہ وہ سوال کریں انہوں نے پہلے والے سے پوچھا ’’آپ بھی بتائیں ناں آپ سال میں کتنی بار نہاتے ہیں؟‘‘ تو پہلے والے نے کہا ’’دو بار۔‘‘ سوال پوچھنے والا حیران ہوکر ٹھیٹ شینا میں بولتا ہے ’’تُو تو خاص مچھلی ہے۔‘‘ یعنی تم تو خاص مچھلی ہو۔
    میری تحریروں کو کچھ لوگ دانستہ طور پر علاقائی رنگ دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ کل ہی کسی نے کمنٹ کیا تھا کہ ’’شکر ہے اس دفعہ ایک مخصوص ضلع تنقید سے بچ گیا۔‘‘ ان کا اشارہ کس جانب تھا میں جان گیا ہوں۔ لیکن جاتے جاتے اتنا کہنا ہے کہ میں جہاں غذر اور ہنزہ کی مٹی کو اپنی آنکھوں کا سرمہ سمجھتا ہوں وہاں دیامر، گلگت اور بلتستان کی مٹی کو چومتے ہوئے سجدہ ریز ہوتا ہوں تو میرے قلب و روح میں طمانیت اور ایک ٹھہراؤ اور ایک سکون چھا جاتا ہے۔ ہاں مجھے نفرت ہے قتل سے، کفر کے فتوؤں سے، مال حرام سے، گندی ذہنیت رکھنے والے لوگوں سے خواہ ان کا تعلق غذر سے ہو، گلگت سے ہو یا ہنزہ سے، دیامر سے ہو یا بلستان سے۔ باقی اس خطۂ شمال کی مٹی میری آنکھوں کا سرمہ ہے جس پر کسی کو شک نہیں ہونا چاہئیے۔
    یار زندہ، صحبت باقی!

  • error: Content is protected !!