Chitral Times

Aug 19, 2019

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • داد بیداد ……….. بے چا رے حکمران …………ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

    May 6, 2019 at 8:07 pm

    حکمران بے چارہ ہو تا ہے مظلوم ہو تا ہے معصوم ہو تا ہے اس کو حضور وا لا بنا کر اُس کی آنکھوں پر پٹی باندھی جا تی ہے درباری اُس کے گرد گھیرا ڈالتے ہیں اور اُس کو ادھر اُدھر دیکھنے نہیں دیتے لاہور میں وا لڈ سٹی پرا جیکٹ کے زیر اہتما م پکچر ڈ وال کی افتتاحی تقریب ایسے وقت پر منعقد ہوئی جب اس پراجیکٹ کے بانی چو ہدری پر ویز الٰہی پنجاب اسمبلی کے سپیکر اور حکومت کے اہم ترین اتحادی ہیں وزیر اعظم کو دی جا نے والی بریفنگ اور اس مو قع پر پیش کئے جانے والے سپاسنا مے کے اندر والڈ سٹی پرا جیکٹ کی پوری تاریخ گول کردی گئی اور وزیر اعظم کو بتایا گیا کہ یہ آج کا کام ہے اور حضور وا لا کی مر ہون منت ہے بریفنگ اور سپاسنا مے سے متا ثر ہو کر وزیر اعظم نے بھی والڈ سٹی پراجیکٹ کی 15سالہ محنت کا ذکر نہیں کیا بلکہ بار بار ماضی کے حکمرانوں پر لعن طعن کا سلسلہ جاری رکھا اب ظاہر ہے وزیر اعظم نے وہی کہناتھا جو بریفنگ اور سپاسنا مے کے اندر آیا تھا بے چارہ وزیر اعظم در باریوں کے نر غے میں آکر اپنے اہم ترین اتحادی کا ذکر کرنا بھی بھول گیا خدا نخواستہ اگر پشاور کے بس رپیڈ ٹرانسپورٹ (BRT) کے کسی با قیماندہ پورشن کا افتتاح آنے والے کسی حکمران نے کیا تو در باری اپنی بریفنگ میں جملہ ڈال دینگے کہ ما ضی میں کسی نے پشاور میں ٹرانسپورٹ کا مسئلہ حل کرنے پر توجہ نہیں دی جس طرح وزیر اعظم سے کہلوا یا گیا کہ ما ضی میں کسی نے لا ہور کی تاریخی فصیل اور اس کی تاریخی عما رتوں کو بحال کرنے پر توجہ نہیں دی اب وہ زمانہ نہیں رہا کہ ایک تقریب میں کی گئی تقریر دو ما ہ بعد شہر میں مشہور ہوتی تھی اب تو ہر تقریر لا یو(live) جاتی ہے آناً فاناً شہر میں، ملک میں اور دنیا میں پھیل جا تی ہے جن لوگوں نے 1991ء میں لا ہو رکی سیر کی ان کو پتہ ہے کہ شاہی قلعہ کے دیوان عام،دیوان خا ص اور بارہ دری کی بحا لی پر کا م ہو رہا تھا UNESCOکے ما ہرین اس کام کی نگرانی کر رہے تھے جن لو گوں نے 2004ء میں لا ہور کی سیر کی ان کو یا دہے کہ والڈ سٹی پراجیکٹ شروع کیا گیا تھا UNESCOاور آغا خان ٹر سٹ فار کلچر کے ما ہرین کی ٹیم نے اپنی خد مات پیش کی تھیں تازہ مٹی میں کیمیکل ملا کر گوند ھنے اور دیر تک گوندھے رکھنے سے 400سال پرانی اینٹ کیلئے گار ا بنتا تھا اور اس پر کا م ہو رہا تھا فصیل شہر کے ساتھ ساتھ مسجد وزیر خان اور شاہی حمام کی بحا لی کے لئے ایسے اینٹو ں کی ضرورت تھی جن لو گوں نے 2017ء میں لا ہو ر کی سیر کا لطف اٹھا یا ان لو گوں نے دیکھا کہ شا ہی حما م کو بحال کر کے سیا حو ں کے لئے کھو لا گیا ہے مسجد وزیر خان کی بحالی کا کام آخر ی مرا حل میں ہے پکچرڈ وال پر کام جا ری ہے شا ہی قلعے میں مزید نا زک کام ہو رہا ہے، چونکہ کام کی نو عیت حساس اور نا زک ہے اس لئے کا م کی رفتار سست ہے باہر سے آنے والے سیاح اس کام کو رشک کی نگاہ سے دیکھتے تھے اور کہتے تھے کہ پرویز الٰہی نے کام شروع کر وا یا بعد میں آنے وا لوں نے نہ صرف کام کو جا ری رکھا بلکہ مزید وسعت دی، مزید بہتر کیا ایک دن کے لئے بھی کام نہیں رُکا مگر پکچرڈ وال کے افتتاح کی تقریب میں در باریوں نے پوری کہانی کو پردے میں رکھا جو بتا یا وہ یہ تھا کہ حضور وا لا کا اقبال بلند ہے یہ کام حضور والا کے اقبال کا نتیجہ ہے ظا ہر ہے حکمران اپنی تقریر کا مواد بریفنگ سے یا سپاسنا مے سے لیتا ہے اگر خوشامدی خلاف واقعہ بات نہ کر تے تو وزیر اعظم بھی وا قعے کی سچی تصویر کشی کر لیتا یہ 1992کا ذکر ہے چنگیز سلطان وزارت سیا حت کے جا ئنٹ سکر ٹری تھے پشاور کے پنچ ستاری ہو ٹل کی تقریب میں وزیر سیا حت کی تقریر کے بعد چائے کی میز پر جا تے ہوئے جا ئنٹ سکرٹری نے بار بار وزیر کی تقریر پر انہیں داد دی اور کہا کہ لو گوں نے بہت پسند کیا، وقفہ چائے کے دوران مو قع ملنے پر ہم نے چنگیز سلطان صا حب کی توجہ وزیر مو صوف کی تقریر میں ریکارڈ کی درستگی کی طرف دلائی تواشرف اماں اور نذیر صا بر کے سامنے اس اعلیٰ افیسر نے کہا ایسی باتوں سے وزیر سیا حت نا راض ہوتے ہیں ہمیں بریفنگ یا سپاسنا مے کے اندر وہ باتیں ڈالنی پڑ تی ہیں جن سے ہمارے صاحب کو خوشی ہوتی ہو ہما ری ڈیو ٹی کا تقا ضا یہ ہے کہ صا حب کو ہر حال میں خوش رکھیں چنانچہ یہ پکا اصول بن چکا ہے کہ بے چارے حکمران کو خوش رکھو جن با توں سے وہ نا راض ہوتا ہے ان باتوں کا ذکر ہی نہ کرو بے چارہ حکمر ان یہ سمجھتا ہے کہ دُنیا وہی ہے جو سر کاری بریفنگ اور خوشا مد انہ سپاسنامے کے اندر دکھا یا جا رہا ہے حا لانکہ دنیا وہ نہیں ہوتی اگر وزیر اعظم کو بریفنگ میں دکھا یا جا تا یا سپاسنامے کے اندر بتا یا جا تا کہ والڈ سٹی پراجیکٹ چوہدری پر ویز الٰہی نے شروع کر ایا تو یقینی بات ہے کہ وزیر اعظم نا راض نہ ہو تے اپنی تقریر میں اگر پرویز الٰہی کا نا م نہ بھی لیتے کم از کم اتنی احتیاط ضرور کر تے کہ ما ضی کے وزیر اعلیٰ کو شہر کے تاریخی مقا ما ت سے بے خبر ہونے کا طعنہ بھی نہ دیتے شکر ہے کہ ما ضی کے حکمر ان خود ان مرا حل سے گزر ے ہیں ان کو پتہ ہے کہ بے چارہ حکمران خوشامدیوں میں گھر ا ہو اہوتا ہے نہ جا نے کب ہمارے حکمرانوں کو خوشامدیوں کے نر غے سے نجا ت ملے گی .
    .

  • error: Content is protected !!