Chitral Times

Sep 26, 2020

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

چترال میں 2750 گھرانوں کو ہنگامی بنیادوں پر شمسی توانائی سے منسلک کردیا….شوکت یوسفزئی

Posted on
شیئر کریں:

پشاور(چترال ٹائمزرپورٹ)خیبر پختونخوا کے وزیر اطلاعات شوکت علی یوسفزئی نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں ہائیڈرو پاور سے سستی بجلی پیدا کی جاتی ہے سابق حکمرانوں نے کرپشن اور اپنی کمیشن کے لیے آئی پی پی معاہدے کئے آئی پی پی بجلی کے نرخوں پر ہائیڈروپاور نفع سے سبسڈی دی جاتی ہے۔ کرپٹ حکمرانوں نے تیس سال پہلے ملک کی بہتری کے لئے سوچا ہوتا تو آج توانائی کے بحران کا شکار نہ ہوتے۔ صوبے میں بتیس ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کی جاسکتی ہے لیکن نااہل سیاست دانوں نے اپنی سیاست چمکانے کے لیے ڈیموں کو متنازعہ بنایا ان خیالات کااظہار انہوں نے وزیراعلی ہاؤس میں وزیراعلی سیکرٹریٹ وزیراعلی ہاوس اور سول سیکریٹریٹ کو شمسی توانائی نظام سے منسلک کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا تقریب میں وزیر اعلیٰ کے مشیر برائے توانائی و برقیات حمایت اللہ خان، ڈپٹی سپیکر صوبائی اسمبلی محمود جان، وزیراعلیٰ کے مشیر برائے تعلیم ضیااللہ بنگش، ایڈیشنل چیف سیکریٹری، سیکرٹری قانون اور دیگر نے شرکت کی۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ کرپٹ حکمران چھوٹے صوبے کو کریڈٹ نہیں دینا چاہتے پورے ملک کے لیے بلین ٹری سونامی منصوبہ خیبرپختونخوا نے قبول کیا اپوزیشن اراکین اپنی سیاست چمکانے کے لیے کامیاب منصوبے کو بد نام کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ جس کی کامیابی کا ثبوت بین الاقوامی ادارے بھی دے چکے ہیں۔ صوبے میں توانائی کے منصوبوں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے شوکت یوسفزئی نے کہا کہ رواں سال صوبہ بھر کی 4440 مساجد کو شمسی توانائی سے منسلک کیا جا رہا ہے آٹھ ہزار سکولوں اور 187 بیسک ہیلتھ یونٹ میں بھی شمسی توانائی کا نظام لایا جا رہا ہے۔ضلع چترال میں 2015 کو آنے والے تباہ کن سیلاب میں چار میگا واٹ کے ریشون بجلی گھر کی تباہی کے بعد صوبائی حکومت نے ہنگامی طور پر 241 ملین روپے کی لاگت سے 2750 گھرانوں کو شمسی توانائی سے منسلک کردیا۔ 100 دیہات کو شمسی توانائی سے منسلک کرنے کے منصوبے کے تحت وسطی اور جنوبی اضلاع میں 29 سو گھرانوں میں شمسی توانائی نظام نصب کرنے کا منصوبہ بھی جاری ہے۔
تقریب میں سیکریٹری توانائی و برقیات سرفراز درانی نے وزیراعلی سیکرٹریٹ اور سول سیکرٹریٹ کو شمسی نظام سے منسلک کرنے کے منصوبے پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ منصوبے کے تحت وزیراعلی سیکرٹریٹ میں جدید سولر ہاؤس تعمیر کیا جائے گا جس سے روزانہ 375 کلو واٹ شمسی توانائی سے بجلی پیدا کی جائے گی اور اس پر لاگت کا تخمینہ 107 ملین روپے لگایا گیا ہے۔سول سیکریٹریٹ میں جہاں پر تقریبا سو سے زائد سرکاری دفاتر قائم ہیں میں بھی سولر پمپنگ سسٹم کے تحت 575 کلو واٹ شمسی توانائی سے بجلی پیدا کی جائے گی اس منصوبے پر 164 ملین روپے لاگت آئے گی انہوں نے کہا کہ ان دفاتر میں بجلی کی بچت کے لیے تمام برقی آلات کو شمسی توانائی نظام پر منتقل کیا جائے گا یہ منصوبے 6 ماہ کے عرصے میں مکمل کر لیے جائیں گے۔


شیئر کریں: