Chitral Times

May 26, 2019

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • بچوں کی نفسیات …………تحریر ام کلثوم

    April 23, 2019 at 9:55 pm

    انسانی نشونما کے آغاز سے مکمل ھونے تک کے سفر میں بچپن ایک ایسا موڑ ھے جس میں سوائے ان حرکات کے جو بچہ پیدائشی اپنے ساتھ لیکر آتا ھے، کے علاوہ کچھ نہیں سیکھا ھوتا، مثلا رو کے اپنی ضروریات پوری کرنا، دیکھنا، سننا. بچپن ھماری زندگی کا حسین دور ھوتا ھے جس میں ھم دنیائے باطل سے لاعلم ھوکر مٹی کے گھر بنانے میں مصروف عمل رھتے ھیں. جیسے جیسے ھم اپنی عمرکا حصہ مکمل کر کے اگلے مرحلےمیں داخل ھوتے ھیں،ویسے ھم وھی رویہ نمایاں کرتے ھیں جو ھم نے سیکھا ھوتا ھے.

    بچوں کو انسانی روپ میں فرشتہ کہا جاتا ھے.مگر جب یہ فرشتے اپنے حدود سے تجاوز کر جائیں تو ھمیں شیطان نظر آتے ھیں.انکے نفسیات کوسمجھ کر انکی ضروریات پوری کرنا دراصل “چائلڈ سائکالوجی” کہلاتا ھے.

    بچوں کی تربیت انکے گھروں سے شروع ھوتی ھے. جب جب انکا واسطہ اپنے اردگرد کے ماحول سے پڑتا ھے، تب وہ غور کرتے ھیں اور انہیں سیکھ ملتی ھے. چائلڈ سائکالوجی ایک وسیع فیلڈ ھے جو آپکو بچوں کی نفسیات سمجھانے کیلے بنایا گیا ھے.
    “Jean piaget” کہتا ھے کہ بچوں کی نفسیات کا پہلا مرحلہ بچپن سے لیکر 2 سال تک ھوتا ھے، جس میں انکی دماغی نشونما شروع ھوتی ھے، جب انہیں کوئی چیز دے کر چھپائی جاتی ھے تو انہیں یقیں رہتا ھے کہ یہ چیز اب بھی موجود ھے.مثلا ایک بچے سے بال لیکر چھپا کے کہنا کہ میں نے پہینک دی لیکن وہ بچہ پھر بھی گھور گھور کےآپکے ہاتھ دیکھ کر یقین رکھے گا کہ آپ ان سے جھوٹ بول رھے ھیں.

    دوسرا مرحلہ 7-2 کے درمیان ھوتا ھے. اس دوراں بچہ اپنی مادری ذبان سیکھتا ھے. کسی چیز کو یاد کرنا چاھے تو اسے مخصوص چیز سے تشبیہ دے کر یاد کرتا ھے. مثلا جھاڑو پربیٹھ کرگھوڑے کی مانند سمجھنا. اس دوراں بچہ کسی بات کو اسکی تہہ تک سمجھنے سے قاصر ھوتا ھے. کسی اور کی رائے نہیں لے پاتا.

    تیسرا مرحلہ 11-7 تک ھوتا ھے. یہ ایک خاص دورانیہ ھوتا ھے جس میں بچہ اب منطقی انداز میں سوچنا شروع کر دیتا ھے لیکن بات کی تہہ تک پہنچنے میں دشواری ضرور ھوتی ھے. ایک بات کو سیکھ لے تو اسے دھرا سکتا ھے. یہ جاننے کی کوشش کرتا ھے کہ ایسا کیوں ھوا.اپنی منطقی سوچ میں اعتدال پسندی اپناتے ھیں. کسی بھی اشیاء کی خواص جیسا کے ماس، کوانٹیٹی، والیم میں ردو بدل کے بعد بھی انکا اندازہ وھی ھوتا ھے. مثلا دو الگ سائز کے کنٹینرز میں ایک ھی مقدار کا پانی بھرنے کے بعد بھی وہ اسی کنٹینر کا انتخاب کرتے ھیں جس میں اسے پانی ذیادہ دکھتا ھے.

    آخری مرحلہ 11 سال سے بلوغت تک ھوتا ھے جس میں بچہ مکمل طور پر منطقی انداز میں سوچنے لگے گا. ریاضی کے سوالات حل کرنا،تخلیقی سوچ، ساتھ میں یہ بھی تصور کر پائے گا کہ ایک ایکشن کا کیا نتیجہ نکل سکتا ھے.

    سگمنڈ فرائڈ نے ابتدائی زندگی کو آگے کی زندگی میں ھونے والے مسائل کی اھم وجہ قرار دی ھے.انکے مطابق بچوں کی نشونما کے پانچ مراحل ھوتے ھیں. ایک بھی مرحلے میں اگر انکی ضروریات پوری نہ ھو تو وہ اگلے مراحل میں کامیاب ھونے سے قاصر ھونگے. انھوں نے جسمانی نشونما پر غور کرتے ھوئے کہا ھے کہ ماں دوران حمل جو افعال کرتی ھے انکا بچے پہ اثر پڑھتا ھے. بچوں کی ٹوئلٹ ٹریننگ مناسب طریقے سے ھونی چاھیے. انکے حصے کا پیار دینا ھی انکی بہتریں نشونما کی ضمانت ھے.

    جو انسان آگے کی ذندگی میں غم و غصہ والا، لوگوں سے الگ تھلگ رھنے والا، اورضدی ھوتا ھے انکی اصل وجہ بچپن کی محرومیاں ھیں. سکول میں اکثر اساتذہ بچوں کے ھجوم کو سنبھالنے کیلے مارکٹائی کا استعمال کرتے ھیں.اگر انہیں تحفظ کیساتھ ساتھ پیار دیا جائے تو انکا حوصلہ اور انکی ذہانت دونوں میں اضافہ ھوگا. انہیں لوگوں پر یقین کرنے کی سیکھ ملے گی، اپنے آپ کو جاننے کا موقع ملے گا. اپنے بچوں کی بہتریں نفسیاتی نشونما کو یقینی بنانے کیلے ھمیں چاھیےکہ آجکل کے حالات و واقعات کےمطابق انکی جسمانی حفاظت کریں، انہیں پیار سے سمجھائیں،انکی بہتریں ٹریننگ کریں، انہیں ہر ممکن وہ پیار دیں جنکے وہ حقدار ھیں. انکی جائز خواھشات کو دل سے مانا جائے تاکہ انکا مورال بلند ھو. کیونکہ بچپن کی یادیں اور باتیں دل و دماغ پہ اپنےنقوش چھوڑتی ھیں.

  • error: Content is protected !!