Chitral Times

May 26, 2019

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • کفالت ایتام پروگرام اور سماجی ذمہ داری…… تحریر: امیرجان حقانی گلگت

    April 21, 2019 at 5:16 pm

    ’’میرانام جاوید ہے، میرا تعلق استور سے ہے۔میرے بچپن میں ہی والد صاحب کا انتقال ہوگیا تھا، گھر کی حالت انتہائی کمزور تھی۔کسمپرسی کے عالم میں ریڈ فاؤنڈیشن استور نے میرا ہاتھ تھاما، نرسری سے مڈل تک کی تعلیم استور میں پائی، سکول کا ٹاپر رہا، پھر نویں سے ایف ایس سی تک ریڈفاؤنڈیشن سکول اینڈکالج جوٹیال گلگت نے مجھے سہار ا دیا۔کفالت ایتام پروگرام کے تحت مجھے اسکول میں داخلہ مل گیا، کتابیں، کاپیاں اور یونی فارم عنایت کی گئی اور اسٹیشنری اور مناسب وظیفہ بھی دیا گیا۔ میری لمبی کہانی ہے۔میں نے الیکٹرک انجینئرنگ کی تعلیم مکمل کی۔ہرموڈ میں ریڈفاؤنڈیشن نے رہنمائی کی۔آج میں ایک سرکاری محکمے میں ذمہ دار آفیسر ہوں، اب اپنی پوری فیملی کا معاون ہوں، یہ میری اکیلی کہانی نہیں، ایسے سینکڑوں یتیم بچوں کی کہانیاں میرے سامنے ہیں۔میرے کلاس فیلوز جنہوں نے میرے ساتھ مفت میں تعلیم حاصل کی آج بڑی بڑی اسامیوں پر براجمان ہیں۔ میں اپنا ہر قسم کا تعاون کفالت ایتام پروگرام اور ریڈفاؤنڈیشن کے ساتھ کرنے کے لیے تیار ہوں، آپ بھی یتیموں کیساتھ دیں‘‘۔ریڈفاؤنڈیشن کفالت ایتام کے لیے فنڈرائزنگ پروگرام میں ایسے سینکڑوں یتیموں کی کہانیاں سنائی گئی، ویڈیوز اور تصاویر دکھائی گئی اور تعلیم کے بعد ان کا برائٹ مستقبل بھی دکھایا گیا۔کشمیر سے تعلق رکھنے والی معصوم بچی اقصی کا خطہ بھی سنایا گیا جوانہوں نے اپنے مرحوم باپ کو دنیا سے لکھا تھا۔خط میں اپنے پانچ بہنوں اور بھائیوں کی تعلیم کی تفصیلات لکھی تھی جس کو کیمرے کی آنکھ نے محفوظ کیا۔یہ کہانی سن کر ہرآنکھ اشکبار ہوئی۔آئیں اس حوالے سے کچھ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ یتیموں کے حوالے سے سماج کی کیا ذمہ داریاں بنتی ہیں۔

    بے شک! یتیم بچے بھی معاشرے کے افراد میں شامل ہیں۔ہمارے جیسے معاشروں میں یتیموں کو ترچھی نگاہوں سے دیکھا جاتا ہے۔ حوادثاتِ زمانے کے تھپیڑوں کے شکار یہ لوگ سب سے زیادہ محبت و مروت اور دیکھ بھال کے مستحق ہیں ۔سماجی مسائل میں ایک بڑا مسئلہ یتیموں کی کفالت کا ہے۔یتیموں کی کفالت سے مراد صرف ان کو روٹی کپڑے دینا نہیں بلکہ ان کی مکمل نگہداشت ہے۔ایک بڑے عرصے تک ان کوتعلیم و تربیت اور دیگر لوازمات کی ضرورت ہوتی ہے۔اسلام ایک آفاقی مذہب ہے۔اس نظام حیات میں ہر فرد کے حقوق کا خیال رکھا گیا ہے۔اللہ تعالیٰ نے سماج کے کسی بھی فرد کو بے یار و مدد گار نہیں چھوڑا ہے۔قرآن کریم اور احادیث مبارکہ کے مطالعہ سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ یتیم اور نادار بچے بچیوں کی دو صورتیں ہوسکتی ہیں۔ پہلی صورت یہ ہے کہ ان کے پاس مال ودولت ہو یعنی وہ صاحب جائیداد ہوں،دوسری صورت وہ مفلس ہوں ان کے پاس کوئی مال و دولت نہ ہو۔اگر یتیم بچے صاحب ثروت ہیں توان کے متعلق اللہ کا ارشاد ہے ’’اور یتیموں کا مال(جو تمہاری تحویل میں ہو)ان کو دے دو،اور ان کے پاکیزہ مال کو اپنے(ناقص و غیر معیاری)برے مال سے نہ بدلو،اور نہ ہی ان کا مال اپنے مال کیساتھ ملا کر کھاو، یہ بہت بڑا گناہ ہے۔(النساء ۲)۔ یتیموں کے اموال و جائیداد کے نگران ان کے سرپرست اور عصبات ہوتے ہیں۔ان کے لیے بھی سخت احکامات ہیں۔جو لوگ یتیموں کے مال پر ہاتھ صاف کرتے ہیں اللہ ان کے لیے دوزخ کی وعید سنادیتے ہیں۔ارشادباری ہے۔’’جو لوگ یتیموں کا مال ناجائز طریقے پر کھاتے ہیں وہ اپنے پیٹ میں آگ بھرتے ہیں اور عنقریب وہ دوزخ میں جائیں گے‘‘(النساء 10)۔جب یتیم بالغ ہوجائے تو ان کا مال ان کو واپس کرنے کا حکم ہے۔’’اور اگر پھر ان (یتیموں) میں تم ہوشیاری اور حُسن تدبیر پاؤ تو انہیں ان کے مال سونپ دو‘‘(النساء )۔اس طرح کے ملے جھلے احکام سے قرآن حدیث بھرا پڑا ہے۔مال دار یتیموں کی تربیت اور پرداخت ان کے مال سے ہی ان کے سرپرست کریں گے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ یتیموں کے پاس کچھ بھی نہیں تو بھی ان کی نگہداشت ان کے عصبات یعنی قریبی رشتہ دار اور ذوی الارحام پر لازم ہے۔یتیموں کے قریبی رشتہ دار نہ ہوں تو حاکم وقت پر ان کی تمام ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔حاکم وقت ان یتیموں کو کسی مسلمان فرد یا آج کے دور میں کسی ادارے یعنی سکول یا فاؤنڈیشن کے حوالے کریں اور اس یتیم کی کفالت کا خرچہ مسلمانوں کے بیت المال سے ادا کیا جائے گا۔اگر کوئی ریاست اسلامی نہ ہو اور نہ ہی حاکم مسلمان ہو اور نہ بیت المال کا قیام ہو تو ایسی صورت میں یتیموں کی کفالت کے لیے آرگنائزیشن بنائی جائیں گی۔اور باقاعدہ ادارے قائم کیے جائیں گے۔ اگر پہلے سے ادارے، آرگنائزیشن اور تنظیمیں موجود ہیں تو یتیموں کی کفالت ان پر لازم ہوجاتی ہے۔ان کے لیے ہاسٹل اور قیام گاہیں بنائے اور امت مسلمہ کی طرف سے عنایت کی گئی رقوم سے ان کی مکمل نگہداشت یعنی تعلیم و تربیت اور کھانے پینے اور پہننے کا انتظام کیا جائے گا۔ایسے اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ یتیموں کی کفالت کے لیے فنڈ قائم کرے اور فنڈرائزنگ کی محفلیں منعقد کرے۔آخری صورت یہ ہوسکتی ہے کہ اگر کسی جگہ یتیم کے عصبات اور ذوی الارحام یعنی قریبی رشتہ دار بھی نہیں، اسلامی ریاست بھی نہیں اور اور یتیموں کی کفالت و نگہداشت کرنے والے آرگنائزیشن بھی نہیں تو اس علاقے میں رہنے والے جملہ مسلمان گھرانوں پر لازم ہوتا ہے کہ وہ یتیم بچوں کی کفالت کا بندوبست کریں۔ اور اجتماعی طور پر کفالت کی ذمہ داری اُٹھائے۔

    یتیموں کی کفالت کرنے والوں کے لیے اللہ اور اس کے رسول نے بڑے فضائل بیان کیے ہیں۔ارشاد باری ہے’’ اور باوجود یہ کہ خود ان کو طعام(اشیاء خورد و نوش) کی خواہش و ضرورت ہے ، فقیروں اور یتیموں کو کھلاتے ہیں‘‘۔یتیموں کی کفالت کرنے والوں کے متعلق اللہ کے رسول کا ارشاد ہے۔’’میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا جنت میں اسطر ح ہونگے یہ کہتے ہوئے آپ ﷺ نے شہادت والی اور درمیانی انگلی سے اشارہ کیا اور دونوں کے درمیان معمولی فاصلہ رکھا‘‘(بخاری)۔یعنی جنت میں اتنے قریب ہونگے۔غرض یتیموں سے حسن سلوک،محبت وشفقت،مالی معاونت،معاشی تحفظ،تعلیم و تربیت،اور نگہداشت کے حوالے سے کتابیں فضائل سے بھری پڑی ہیں۔اجرعظیم کا مژدہ سنایاگیا ہے۔
    پاکستان بھر میں غریب اور نادار بچوں کی تعلیم میں معاونت کے حوالے سے کئی فاونڈیشن اور ادارے کام کرتے ہیں ۔جن میں کاروان علم فاونڈیشن، سندس فاونڈیشن اور الفلاح اسکالر شپ وغیرہ پیش پیش ہیں۔ تاہم یتیم بچے بچیوں کی کفالت کے حوالے سے بہترین نظام خبیب فاونڈیشن اور ریڈ فاونڈیش کے پاس ہے۔گزشتہ روز ریڈفاونڈیشن پاکستان کے کفالت ایتام پروگرام کی طرف سے گلگت میں ایک شاندار ’’فنڈرائزنگ‘‘ تقریب کا انعقاد کیا گیا۔جس میں گلگت کے اہل علم و ثروت لوگوں کو مدعو کیا گیا تھا۔ریڈفاونڈیشن کا آغاز 1994ء میں آزاد کشمیر کے ضلع باغ کے گاوں ریالہ سے 25طلبہ و طالبات اور ایک استاد سے کیا گیا۔ریڈفاؤنڈیشن کے بانی محمود احمد صاحب ہیں۔تب سے اب تک ریڈفاؤنڈیشن نے 386تعلیمی ادارے قائم کیے، جہاں 5676میل اور فی میل ٹیچرز کی نگرانی میں 107756طلبہ و طالبات نرسری سے گریجویشن تک علم کی نور سے منور ہورہے ہیں۔۔ریڈفاؤنڈیشن کی سب سے خوبصورت اور نرالی بات یہ ہے کہ اہل خیر حضرات کے تعاون سے ان تمام اداروں میں اس وقت 10116یتیم طلبہ وطالبات مفت میں تعلیم حاصل کررہی ہیںیتیم طلبہ کی تعداد5229 اور طالبات کی تعداد 4887ہے۔ان طلبہ و طالبات کو کتابیں، کاپیاں،اسٹیشنری ، یونی فارم اور اسکول بیگ کیساتھ سالانہ کچھ نقد رقم بھی عطا کی جاتی ہے ۔یتیموں بچوں کی کفالت ، اداروں میں یتیم بچوں کی تربیت کی نگرانی اور معائنے کے لیے کفالت ایتام پروگرام کے تحت 8علاقائی دفاتر قائم کیے گئے ہیں۔کفالت ایتام پروگرام پاکستان کے جنرل منیجرشفیق صاحب کی نگرانی میں 8 ریجنل آفسز میں میں پراجیکٹ آفیسرز مستعدی سے کام کرتے ہیں۔گلگت میں منعقد فنڈرائزنگ تقریب میں ریڈفاؤنڈیشن کالج کے پرنسپل حبیب الرحمان اور دیگرذمہ داروں نے مخیر خواتین و حضرات کو مدعو کیاہوا تھا اور انتہائی خوش دلی سے ان کا استقبال کررہے تھے۔
    فنڈرائزنگ تقریب میں پریزنٹیشن کے دوران شفیق صاحب نے کہا کہ کفالت ایتام پروگرام کے تحت اب تک 14000 یتیم طلبہ و طالبات مستفید ہوچکے ہیں جن کی اکثریت بڑے عہدوں تک پہنچی ہے۔دس ہزار سے زائد بچے اس وقت ریڈفاؤنڈیشن کے اداروں میں پڑھتے ہیں۔ ہر سال 1200کے قریب یتیم بچے کفالت ایتام پروگرام کے تحت ریڈفاؤنڈیشن کے اداروں میں نئے داخل ہوتے ہیں اورمعیاری تعلیم حاصل کررہے ہیں۔فاؤنڈیشن کفالت ایتام پروگرام کے تحت 30 کروڈ روپے یتیم بچوں پر خرچ کرتی ہے۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ 10116یتیم بچوں میں358کی تعداد گلگت بلتستان سے تعلق رکھتی ہے۔کفالت ایتام پروگرام کے اسسٹنٹ منیجر ایجوکیشن گلگت بلتستان برادرم منہاج نے تقریب سے اپنی مرحبائی گفتگو میں کہا کہ ریڈفاؤنڈیشن گلگت بلتستان میں کفالت ایتام پروگرام کے گلگت بلتستان کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے 358طلبہ وطالبات مستفید ہورہے ۔مزید طلبہ وطالبات کو داخلہ دیا جائے گا۔تمام مکاتب فکرکے طلبہ و طالبات بلاتفریق اپناتعلیمی سلسلہ مکمل کرتے گلگت بلتستان میں ریڈفاونڈیشن کے 17اسکول ہیں جن میں 3790طلبہ وطالبات اور 312 میل اور فی میل ٹیچرز ہیں‘‘۔ریڈفاؤنڈیشن کے کفالت ایتام پروگرام کے تحت ایک یتیم بچے کا داخلہ کنوداس گلگت کے اسکول میں ، میں نے بھی کروایا ہے۔آپ بھی گلگت بلتستان کے کسی بھی اسکول میں یتیم بچوں کا داخلہ کرواسکتے ہیں اس کے لیے ریجنل منیجر میرزمان، اسسٹنٹ منیجر ایجوکیشن منہاج اور وقاص سے کسی بھی وقت رابطہ کیا جاسکتا ہے۔میں بھی یتیم بچوں کے داخلے کے سلسلے میں ان کے سرپرستوں کی معاونت کرسکتا ہوں۔ریڈ فاؤنڈیشن کا نعرہ ہے کہ تعلیم کے ذریعے تعمیر بھی تعبیر بھی۔یہ ایک ایسا نعرہ ہے جس کی بہرصورت حوصلہ افزائی ہر سطح پر کی جانی چاہیے۔
    فنڈرائزنگ تقریب میں قراقرام انٹرنیشنل یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر عطاء اللہ نے ایک شاندار خطبہ دیا۔ اپنے والد مکرم کی کہانی بھی سنائی جو سات سال کی عمر میں یتیم ہوئے تھے اور انہوں نے کیسے زندگی کے مشکل ترین دن گزارے۔ اور پھر یتیموں کے لیے اپنی کاؤشوں کو بھی بیان کیا۔کفالت ایتام پروگرام میں تین یتیم بچوں کی کفالت کی ذمہ داری بھی اٹھائی اور اس کا ثواب اپنے والد مکرم کے نام کردیا۔
    تقریب میں گلگت بلتستان کے لوگوں نے بڑی تعداد میں یتیموں کی وعدہ کفالت کا فارم بھر لیا۔یومیہ 55روپے یعنی سالانہ 20ہزار روپیوں سے ایک یتیم کی سال بھر کی کفالت کی جاسکتی ہے۔کفالت ایتام پروگرام کی ایک شاندار خصوصیت یہ بھی ہے کہ یتیم بچے کا پورا بائیوڈیٹا محفوظ رکھا جاتا ہے۔ڈونر کو اس کے زیرکفیل بچے کی مکمل معلومات مع تصاویر اور ویڈیوز فراہم کی جاتی ہے۔اس کے علاوہ اگر ڈونر بچے کے متعلق کسی بھی طرح کی رپورٹ یا معلومات لینا چاہیے تو فاؤنڈیشن فوری طور پر مہیا کرتی ہے۔تعلیم سے فراغت کے بعد بھی ڈونر اور اس کے زیر کفیل بچے کی ملاقات اور رابطہ تک کروایا جاتا ہے۔ملک اور بیرون ملک سے ہزاروں لوگ کفالت ایتام پروگرام کے تحت یتیموں کی مکمل کفالت کررہے ہیں۔نامور قلم کار اور ادیب مختار مسعود صاحب نے اپنی پوری پنشن اور جمع پونچی سے 7کروڑمیں ایک اسکول کی بلڈنگ تعمیرکروائی۔کفالت ایتام پروگرام جب شروع ہوا اور انتہائی مشکلات پیش آئی تو معروف کالم نگار ارشاد احمد حقانی نے 29رمضان المبارک کو ایک کالم لکھا، اگلے روز زیرتعلیم تمام طلبہ و طالبات کی کفالت کا انتظام ہوگیا تھا۔ایسے ہی ہم بھی کسی بھی طرح یتیموں کی مدد کرسکتے ہیں۔کفالت ایتام پروگرام کے تحت کسی بھی طرح کا تعاون کیا جاسکتا ہے۔ایک بچے کی کفالت بھی کی جاسکتی اور سو بچوں کی کفالت کی ذمہ داری بھی لی جاسکتی ہے۔میزان بینک کا اکاؤنٹ نمبر 03030100235788،اکاؤنٹ ٹائٹل ریڈ فاؤنڈیشن جناح سپر مارکیٹ اسلام آباد برانچ کے توسط سے تعاون کیا جاسکتا ہے۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔

  • error: Content is protected !!