Chitral Times

Apr 21, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

شبِ برأت اورآتش بازی …………….تحریر: نعیم رضا

Posted on
شیئر کریں:

اسلامی کیلنڈر میں چندایسے ماہ و ایام بھی ہیں جن کو عالم اسلام میں نہایت عقیدت واحترام کی نگاہ سے دیکھاجاتاہے۔انہی مہینوں میں سے خاص ترین مہینہ شعبان المعظم کامہینہ ہے کیونکہ حضور نبی اکرم ﷺ نے اس مہینے کی نسبت اپنی طرف فرمائی ہے جبکہ اس مہینے کی ایک رات یعنی پندرہ شعبان کی رات جسے ’’شب برأت‘‘ کہا جاتاہے بڑی فضیلت اور برکت کی حامل قراردیاہے۔ اس رات اللہ تعالیٰ آسمانِ دنیا پر جلوہ گرہوتاہے اوراپنی مخلوقات کی بخشش ومغفرت فرماتاہے ۔ایک روایت کے مطابق شب برأت کوقبیلہ بنو کلب( عربوں میں سب سے زیادہ بکریاں پالنے والاقبیلہ) کی بکریوں کے بالوں سے زیادہ تعداد میں لوگوں کی بخشش فرمائی جاتی ہے (بحوالہ:ترمذی ، ابن ماجہ ، بیہقی )۔ حضرت علی المرتضی کرم اللہ وجہہ الکریم سے مروی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا شعبان کی پندرہویں رات کو اللہ تعالیٰ نیچے والے آسمان پر نزول فرماکراعلان فرماتاہے کہ ہے کوئی بخشش مانگنے والا اسے بخش دوں ، ہے کوئی رزق مانگنے والا اسے رزق دوں ، ہے کوئی عافیت و سلامتی مانگنے والا کہ اسے عافیت و سلامتی دوں ،ہے کوئی ایسا ہے کوئی ایسا حتیٰ کہ صبح صادق طلوع ہو جاتی ہے ۔ (ابن ماجہ ، بیہقی )۔

شب برأت مسلمانوں کیلئے رحمتوں بخششوں اور مغفرتوں کی رات ہے لیکن کچھ ناعاقبت اندیش لوگ سماجی رسومات میں الجھ کر آتش بازی جیسے شیطانی کاموں میں اپناوقت ضائع کرتے ہیں۔ برصغیر پاک وہند کے مسلمانوں میں آتش بازی کی بری رسم را ئج ہو چکی ہے۔ آتش بازی صریح اسراف اورفضول خرچی ہے۔اللہ تعالیٰ نے بغیر کسی غرض پیسہ ضائع کرنے والے شیطان کا بھائی قراردیاہے(سورۃاسراء )جبکہ علماء ومحققین نے آتش بازی کو بدعت سۂ اورحرام تک قراردیاہے۔ علاوہ ازیں دھماکوں کی دہشت خیزآوازوں سے سینکڑوں لوگ ذہنی مریض بن جاتے ہیں اورکئی سماعت سے محروم بھی ہو جاتے ہیں۔اسلام میں لوگوں کو ایک دوسرے کے حقوق کا حترام کرنے کی سختی سے تاکیداور تلقین کی کئی ہے لیکن شب برأ ت کے موقع پر حقوق العباد کی دھجیاں بکھیری جاتی ہیں۔

ہرسال شب برأت کے موقع پر حکومت کی جانب سے آتش بازی کے سامان کی فروخت پر پابندی لگائی جاتی ہے لیکن پابندی کے باوجوددھڑلے سے گلی محلوں میں آتش بازی اورپٹاخوں کاسامان تیار، فروخت اوراستعمال کیا جاتاہے۔حالانکہ رہائشی علاقوں میں آتش بازی کاسامان تیارکرنا قانوناََ جرم ہے۔ ہر سال ماہ شعبان سے عیدالفطرتک ملک کے مختلف علاقوں میں آتش بازی کے گوداموں ، دکانوں اورسٹوروں میں آگ لگ جانے سے بڑے پیمانے پر مالی وجانی نقصان ہوتاہے ۔ماہِ شعبال المعظم بالخصوص شب برأ ت کے موقع پر ملک میں آگ سے جلنے کے واقعات میں اچانک گئی گنا اضافہ ہوجاتاہے جبکہ آگ سے جلنے والوں میں 30فی صد12سال سے کم عمربچے ہوتے ہیں۔حیرت انگیزبات یہ ہے کہ ماں باپ اپنے بچوں کو آگ سے جلنے والے پٹاخے اورپھلجھڑیاں یاتو خود لے کر دیتے ہیں یا پھر بچوں کو پیسے دے کر شریکِ جرم بنتے ہیں۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ متعلقہ ادارے پٹاخوں سمیت دیگر دھماکہ خیزاشیاء کے استعمال پرلگائی گئی پابندی کو یقینی بنائیں اورخلاف ورزی کرنے والوں کو قرارواقعی سزادی جائے تاکہ لوگوں کی جان ومال کو ممکنہ خطرات سے محفوظ رکھاجاسکے۔اس کے علاوہ الیکٹرانک وپرنٹ میڈیا کے ساتھ ساتھ محراب ومبر سے بھی ایک ایسی آگاہی مہم بھی چلائی جانی چاہیے جس سے عوام کو آتش بازی کے نقصان کے بارے میں معلوم ہوسکے۔


شیئر کریں:
Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
21288