Chitral Times

Dec 1, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

چترال کے میگاپراجیکٹس کی مقررہ وقت پر تکمیل کیلئے سالانہ ایلوکیشن بڑھانا ناگزیر ہے..افتخارالدین

Posted on
شیئر کریں:

چترال (نمائندہ چترال ٹائمز) چترال کے سابق ایم این اے شہزادہ افتخارالدین نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت نے چترال کے میگاپراجیکٹ کیلئے مختص سالانہ ایلوکیشن میں انتہائی کمی کی ہے ۔اگر اسی طرح فنڈز ملتے رہے تو یہ منصوبے 2025 میں بھی مکمل نہیں ہونگے ۔ چترال ٹائمز ڈاٹ کام سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ چترال گرم چشمہ روڈ کیلئے گزشتہ حکومت میں 8آرب 64کروڑ روپے منظور ہوئے تھے اورسالانہ ایلوکیشن ایک آرب پچاس کروڑ روپے رکھا گیا تھا جبکہ موجودہ حکومت میں اس کو کم کرکے صرف پچاس کروڑ روپے سالانہ کردیا گیا ہے اسی طرح کالاش ویلیز روڈ کیلئے سابقہ حکومت میں سالانہ ایلوکیشن پچاس کروڑ روپے جبکہ موجودہ حکومت میں تیس کروڑ روپے کردیا گیاہے ۔ ان تبدیلیوں کی وجہ سے منصوبوں کی تکمیل کی ٹارگٹ ٹائم 2020کی بجائے اب یہ 2025تک بھی مکمل نہیں ہونگے۔
اسی طرح چترال بونی شندورروڈ کیلئے سالانہ ایلوکیشن ایک آرب پچاس کروڑروپے کو کم کرکے موجودہ حکومت نے صرف دس کروڑروپے کردیا ہے ۔ جوکہ انتہائی کم ہے ۔
سابق ایم این اے نے چترال سے ایم پی اے وزیر زادہ کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ وہ دن رات چترال کی ترقی کیلئے محنت کررہا ہے امید ہے کہ ان میگاپراجیکٹس کیلئے بھی سالانہ ایلوکیشن کو بڑھاکر ان منصوبوں کو جلداز جلد عملی جامہ پہنانے میں‌کردار ادا کریں‌گے ۔ انھوں نے مذید بتایا کہ انکی کوششوں‌سے گزشتہ حکومت میں چترال میں‌ بجلی کے بہت سے منصوبوں‌کیلئے خطیررقم منظور ہوئے تھے جن کو موجودہ حکومت نے ختم کردیا ہے ۔ امید ہے کہ وزیر زادہ ان منصوبوں کو دوبارہ بحال کرنے میں کردار ادا کریں‌گے۔ تاکہ سیلاب اور زلزلہ سے متاثرہ چترال کے عوام بھی ترقی کرسکیں.


شیئر کریں: