Chitral Times

Sep 25, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

لوکل گورنمنٹ بل کی منظوری دیدی گئی، ضلع کونسل اورضلع ناظم کا عہدہ ختم

شیئر کریں:

ضم شدہ اضلاع سمیت پورے صوبے میں یکساں بلدیاتی نظام نافذ کیا جا رہا ہے ۔ وزیر اعلیٰ محمود خان
پشاور(چترال ٹائمزرپورٹ ) خیبر پختونخوا کابینہ کا اجلاس وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان کی زیر صدارت جمعرات کے روز پشاور میں منعقد ہوا جس میں لوکل گورنمنٹ ترمیمی بل 2019 کی منظوری دی گئی۔ کابینہ اجلاس کے بعد صوبائی وزیر بلدیات، الیکشنز و دیہی ترقی شہرام خان ترکئی اور وزیر اطلاعات شوکت یوسفزئی نے مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے نئے بلدیاتی نظام کی چیدہ چیدہ خصوصیات میڈیا کے سامنے پیش کیں۔ صوبائی وزیر بلدیات شہرام خان ترکئی کا پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ نئے بلدیاتی نظام میں ضلع کونسل اور ضلع ناظم کا عہدہ ختم کرنے کی تجویز ہے جبکہ نیا مقامی حکومتوں کا نظام دیہی اور شہری علاقوں میں با لترتیب تحصیل اورسٹی لوکل گورنمنٹ اور ویلیج و نیبرہوڈ کونسل پر مشتمل دو درجاتی نظام ہوگا۔ نئے ترمیمی بل کے تحت ناظمین اب چیئرمین کہلائیں گے جبکہ تمام ڈویژنل ہیڈکوارٹرز میں سٹی لوکل گورنمنٹ بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس کا سربراہ میئر کہلائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ تحصیل کونسل چیئرمین اور میئر سٹی لوکل گورنمنٹ کے انتخابات جماعتی بنیاد پر جبکہ ویلیج اور نیبر ہوڈ کونسل کے انتخابات غیر جماعتی بنیادوں پر ہوں گے۔ اسی طرح تحصیل چیئرمین اور میئر سٹی لوکل گورنمنٹ براہ راست انتخابات کے ذریعے منتخب ہوں گے۔ شہرام خان ترکئی نے کہا کہ ویلیج و نیبر ہوڈ کونسلز میں 33 فیصد خواتین، 5 فیصد نوجوانوں اور اقلیت کا بھی کوٹہ بحال رکھا گیا ہے جبکہ ویلیج اور نیبرہڈ کونسل ممبران کی تعداد 6 سے 7 کر دی گئی ہے جو اس سے قبل 10 سے 15 تھی۔ صوبائی وزیر بلدیات نے محکموں کی نچلی سطح پر منتقلی کے حوالے سے کہا کہ پرائمری و سیکنڈری ایجوکیشن، سماجی بہبود، پبلک ہیلتھ انجینئرنگ، سپورٹس، کلچر، امور نوجوانان، لائیو سٹاک، سوشل ویلفیر، پاپولیشن، واٹر اینڈ سینیٹیشن اور دیہی ترقی کے محکمے تحصیل چیئرمین میئر سٹی لوکل گورنمنٹ کے ماتحت ہوں گے۔ اس موقع پر صوبائی وزیر اطلاعات شوکت یوسفزئی نے کہا کہ نئے بلدیاتی ترمیمی بل کے تحت لوکل گورنمنٹ فنانس کمیشن قائم کیا جائے گا جس میں تحصیل چیئرمینوں کی تعداد 2 سے بڑھا کر 5 کر دی گئی ہے جن کا انتخاب صوبے کے متعلقہ پانچ زونز سے ہوگا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بدعنوانی کے تدارک کے لئے نئے بلدیاتی نظام کے مالیاتی حسابات کمپیوٹرائزڈ ہوں گے۔ اسی طرح ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس آفیسرز کے علاوہ صوبائی حکومت خود اور تھرڈ پارٹی کے ذریعے مقامی حکومتوں کا آڈٹ کر سکے گی۔ صوبائی وزیر بلدیات شہرام خان ترکئی کا کہنا تھا کہ تحصیل کونسل سادہ اکثریت سے بجٹ کی منظوری دے سکے گی جبکہ بلدیاتی حکومتوں کو صوبائی ترقیاتی بجٹ کا 30 فیصد فراہم کیا جائے گا۔ تحصیل چیئرمین و میئر سٹی لوکل گورنمنٹ کے مواخذے کے حوالے سے شہرام خان ترکئی کا کہنا تھا کہ تحصیل کونسل چیئرمین اور میئر سٹی لوکل گورنمنٹ کو مواخذے کی تحریک پر ایوان کی دو تہائی اکثریت سے ہٹایا جا سکے گا تاہم مواخذے کے لئے لوکل گورنمنٹ کمیشن کو معقول وجوہات فراہم کرنا ہوں گی۔ صوبائی دارالحکومت میں بلدیاتی نظام کے حوالے سے صوبائی وزیر بلدیات کا کہنا تھا کہ پشاور 2 سٹی لوکل گورنمنٹس اور 3 تحصیل حکومتوں پر مشتمل ہوگا۔ مجوزہ ترمیمی بل آئندہ ہفتے منظوری کے لئے صوبائی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا ۔کابینہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ محمود خان نے صوبائی حکومت کے نئے مجوزہ بلدیاتی نظام کو ایک بہترین نظام قرار دیتے ہوئے کہا کہ پورے صوبے بشمول ضم شدہ اضلاع میں یکساں بلدیاتی نظام نافذ کیا جارہا ہے جس سے صوبے میں بلدیاتی حکومتیں مزید مستحکم ہو ں گی،اختیارات حقیقی معنوں میں عوام کو منتقل ہو ں گے اور اس طرح عوام بااختیاربھی ہو ں گے۔ وزیر اعلیٰ نے اس موقع پر گریڈ 7 اور اس سے اوپر کی خالی آسامیوں پر بھرتیاں NTS اور اچھی شہرت کی حامل دیگر ٹیسٹنگ ایجنسیوں سے کروانے اور ان بھرتیوں میں میرٹ کی بالا دستی کو یقینی بنانے کی ہدایت کی۔ انہوں نے وزراء اور انتظامی سیکرٹریوں کو یہ بھی ہدایت کی کہ وہ اپنے اپنے محکموں میں شفافیت ، میرٹ کی بالا دستی ، مالی معاملات کے بہتر نظم و نسق اور بہترطرز حکمرانی کو یقینی بنانے کے لئے موثر اقدامات اٹھائیں۔وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ کرپشن جس سطح پر بھی ہو پی ٹی آئی کے منشور کے مطابق اسے کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا اور تمام بھرتیاں میرٹ پر یقینی بنائی جائیں گی تاکہ کسی کی حق تلفی نہ ہو۔
…………………………………….

دریں اثنا خیبر پختونخوا کے وزیر اطلاعات شوکت علی یوسفزئی نے کہا ہے کہ نئے بلدیاتی نظام میں نچلی سطح کے نمائندوں کو زیادہ بااختیار بنانے کی کوشش کی گئی ہے نئے بلدیاتی نظام میں فنانس کمیشن کے ممبران کی تعداد 5 کر دی گئی ہے نئے بلدیاتی نظام میں ضلع ناظم کے عہدے کو ختم کرکے تین ٹئیر سے دو ٹئیر سسٹم کر دیا گیا ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے کابینہ اجلاس کے بعد نئے بلدیاتی نظام کے بارے میں میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کیا۔صوبائی وزیر نے کہا کہ نیا بلدیاتی نظام ایک بہترین بلدیاتی نظام ہے پچھلے بلدیاتی نظام میں جو خامیاں یا کمی رہ گئی تھی نئے نظام میں اس کو دور کرنے کی کوشش کی گئی ہے چاروں صوبوں کے بلدیاتی نظام کو اگر دیکھا جائے تو یہ ایک مکمل اور بہترین نظام ہے۔انہوں نے کہا کہ پشاور کے اربن ایریاز میں دو سٹی میئرز کا انتخاب براہ راست ہوگا جبکہ تین تحصیل چیئرمین بھی براہ راست منتخب ہوں گے نئے بلدیاتی نظام میں بڑے بڑے مسائل آسانی اور بہترین طریقے سے حل ہونگے شوکت یوسفزئی نے کہا کہ نئے نظام میں ویلج کونسل کے نمائندوں کی تعداد کو کم کرکے 6 سے 7 کر دی گئی ہے نظام میں شفافیت اور کرپشن کی روک تھام کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نمائندے نئے نظام میں فنڈ کی بجائے اپنے ترقیاتی منصوبے پیش کیا کریں گے انہوں نے مزید کہا کہ کوئی بھی نظام کسی شخص ادارے یا طبقے کے لیے نہیں ہوتا بلکہ پورے عوام کے لئے ہوتا ہے اور نیا بلدیاتی نظام بھی عوام کے فائدے کے لیے بنایا گیا ہے۔


شیئر کریں: