Chitral Times

Dec 2, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

بلین ٹری سونامی کی تحقیقات کے لیے بنائی گئی 20 رکنی پارلیمانی کمیٹی کا پہلا اجلاس

Posted on
شیئر کریں:

پشاور(چترال ٹائمز رپورٹ )‌ بلین ٹری سونامی کی تحقیقات کے لیے اپوزیشن کے مطالبے پر بنائی گئی 20 رکنی پارلیمانی کمیٹی کا پہلا اجلاس چیئرمین شوکت یوسف زئی کی زیرصدارت صوبائی اسمبلی کے شہید طاہرہ قاضی ہال میں منعقد ہوا۔اہم نوعیت کے منصوبے کے لیے بنائی گئی کمیٹی ایک ماہ کے لیے تھی لیکن بلین ٹری سونامی منصوبے میں مزید معلومات اوربحث کے لئے اس کے دورانیے میں اضافہ تجویز کیا گیاخصوصی پارلیمانی کمیٹی بلین ٹری سونامی کے کامیابی کے اہداف دیکھنے کے لئے 25 اپریل کو منصوبے کی سائٹس کا دورہ کرے گی۔ اجلاس میں وزیر ماحولیات اشتیاق ارمڑ، اکرم خان درانی،خوشدل خان، شگفتہ ملک ،سردار یوسف، لطف الرحمن، عنایت اللہ کے علاوہ دیگر ممبران نے بھی شرکت کی۔ اجلاس میں کمیٹی کے لیے اپوزیشن سے لیے گئے ارکان اکرم خان دورانی، خوشدل خان، لطف الرحمن، شگفتہ ملک اور عنایت الرحمن نے بلین ٹری منصوبے کے مقاصد کو سراہا لیکن منصوبے کے لیے استعمال کیے گئے طریقہ کار پر اعتراضات اٹھائے منصوبے میں جاری کئے گئے پیسوں کی تقسیم اور پلانٹیشن کے لیے زمین کے چناؤ پر بھی اعتراض کیا گیا۔ ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے سیکرٹری جنگلات نے اعتراضات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ منصوبے میں جہاں بھی کوئی کوتاہی یا غلطی ہوئی تو ذمہ داروں کے خلاف فوری کارروائی کی گئی جس میں کنزرویٹر اور ڈی ایف او سمیت اب تک 350 اہلکاروں کے خلاف محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جا چکی ہے اور مزید کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے اجلاس کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کمیٹی کے چیئرمین شوکت علی یوسفزئی نے کہا کہ وہ اپوزیشن کے مشکور ہیں کہ اتنے اہم منصوبے پر اسمبلی میں بات کی جس پر پارلیمانی کمیٹی بنائی گئی بلین ٹری سونامی منصوبہ ایک کامیاب منصوبہ ہے جس کی تعریف غیر ملکی اداروں اور میڈیا نے بھی کی ہے بھارت اور چین نے دس سال میں دوبلین پودے اگائے جبکہ صرف صوبہ خیبر پختونخوا میں تین سال کے کم وقت میں اپنے ٹارگٹ سے زیادہ 1.2 بلین پودے اگائے اور اپناٹارگٹ پورا کیا ۔شوکت یوسفزئی نے منصوبے کی کامیابی کیلئے اپنی جانیں شہادت کے لیے پیش کرنے والے 12اور زخمی ہونے والے6 افراد کو بھی خراج تحسین پیش کیا۔ڈیپارٹمنٹ کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کی کامیابی کے لیے دن رات کام کیا گیا۔ اپوزیشن اس حوالے سے جو بھی سوال کرے گی ڈیپارٹمنٹ اس کا جواب دلیل اور ثبوت کے ساتھ پیش کرے گی کیونکہ صوبائی حکومت شفافیت پر یقین رکھتی ہے اس منصوبے میں عوام کا پیسہ عوام کی فلاح اور ماحول کی بہتری کے لیے لگایا گیا جو بنیادی ضرورت ہے منصوبے میں جہاں کمزور ی خامی ہوگی اس کو دور کیا جائے گا۔ سردار حسین بابک نے منصوبے کے لیے بنائی گئی کمیٹی کو سراہتے ہوئے کہا کہ منصوبے کے مقاصد سے کسی کواختلاف نہیں ہو سکتا۔ جنگلات کا ہونا انسانی بقا اور ملک کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ لیکن منصوبے کے لیے اپنائے گئے طریقہ کار پر اعتراض اٹھایا گیا جس میں مزید بہتری مشاورت کے ساتھ لائی جا سکتی ہے اکرم خان درانی نے منصوبے پر اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ کمیٹی کو پودوں اور کامیابی کا تناسب اور پیسوں کی تقسیم کے حوالے سے مزید تفصیلات دی جائیں۔ کمیٹی میں شامل عنایت اللہ نے منصوبے کو سپورٹ کرتے ہوئے کہا کہ ماحول کو بچانے اور انسانوں کوماحولیاتی نقصان سے محفوظ رکھنے کے لئے ایسے منصوبے قابل ستائش ہیں۔ سردار یوسف نے تجویزدی کہ ہزارہ اور مالاکنڈ ڈویژن میں لوگ لکڑی کو ایندھن کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ جنگلات کو محفوظ بنانے کے لیے ان جگہوں پر لکڑی کے متبادل ایندھن مہیا کرنے کے لئے کوشش کرنی چاہیے۔ وزیر ماحولیات اشتیاق ار مڑنے کمیٹی کو منصوبے کے بارے میں بتایا کہ بلین ٹری منصوبے کی حفاظت اورنشوونما کے لیے بنایا گیا مانیٹرنگ سسٹم بہت مضبوط ہے اور جہاں پر بھی کوئی معمولی خامی ہوتی ہے اس کے خلاف ایکشن لیا جاتا ہے اب تک اس منصوبے میں کام کرنے والے کئی لوگ معطل کئے گئے ہیں اور انکوائری جاری ہے منصوبے کی شفافیت کے بارے میں بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پورا پراجیکٹ بہت شفاف ہے اور کوئی منظم کرپشن منصوبے میں نہیں ہوئی ۔


شیئر کریں: