Chitral Times

Oct 19, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

صوبائی سرکاری ملازمین کے ایچ آر ڈیٹا سسٹم کے حوالے سے تفصیلات جاری

Posted on
شیئر کریں:

پشاور(چترال ٹائمزرپورٹ ) پرفارمنس مینجمنٹ اینڈ ریفارمزیونٹ چیف سیکرٹری آفس نے صوبائی سرکاری ملازمین کے ایچ آر ڈیٹا سسٹم کے حوالے سے تفصیلات جاری کردی .۔تفصیلات کے مطابق اب تک کل 3لاکھ7ہزار415ملازمین کا اندراج ہوا ہے جن میں 2لاکھ20ہزار213ملازمین کی سروس ہسٹری کا اندراج مکمل کرلیا گیا ہے جبکہ مزید سرکاری ملازمین کا ڈیٹا اکھٹا کیا جا رہا ہے اور اسی طرح ڈیٹا کو ایچ آر سسٹم پر اپلوڈ کیا جائے گا۔اسی طرح پی ایم آر یو نے ریونیو کیس ڈسپوزل سسٹم کے اعداد وشمار بھی جاری کئے ہیں جن کے مطابق ریونیو کیس ڈسپوزل سسٹم پر کل 11ہزار 96کیسز موصول ہوئے ہیں جن میں 7ہزار503کیسز کو حل کیا گیا ہے۔ ریونیو کیس ڈسپوزل سسٹم کا مقصد شہریوں کے کورٹ کیسز کو جلد سے جلد حل کرنے کی کوشش ہے۔اس سسٹم میں ایس ایم بی آر، کمشنرز،ڈپٹی کمشنرز سمیت اسسٹنٹ کمشنرز کیلئے ڈیش بورڈ بنائے گئے ہیں۔ڈیش بورڈ پر حل شدہ کیسز اور زیر التواء کیسز موجود ہوں گے جن سے متلعقہ افسر کو اس بات کا اندازہ ہوگا کہ کون کون سے کیسزحل کرنے ہیں اور کونسے کیسز حل ہوئے ہیں۔ واضح رہے کہ گزشتہ ماہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے پرفارمنس مینجمنٹ اینڈ ریفارمز یونٹ کا دورہ کیا تھا جہاں کوآرڈینیٹر پی ایم آر یو شاہد محمود نے ان کو ایچ آر ڈیٹا سسٹم،فائل ٹریکنگ سسٹم ریونیو کیس ڈسپوزل سسٹم پر بریفنگ دی تھی جس پر وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے ایچ آر سسٹم میں اپنی دلچسپی ظاہر کی تھی اور اس ضمن میں ہدایات جاری کی تھی کہ ایچ آر سسٹم کا قیام احسن اقدام میں ہے اور اس سسٹم پر تمام سرکاری ملازمین کا اندراج اور سروس ہسٹری کا اندراج کیا جائے۔اس ضمن میں چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا محمد سلیم خان نے بھی پی ایم آر یو کے دورے کے موقع پر ہدایات جاری کی تھیں کہ ایچ آر سسٹم کو کامیاب بنانے کیلئے تمام سرکاری ملازمین کی سروس ہسٹری کے اندراج کو یقینی بنائے اس سسٹم سے سرکاری ملازمین سمیت محکموں کیلئے آسانیاں پیدا ہوگی اور اس سسٹم کے ذریعے ٹرانسفر پوسٹنگ میں بھی آسانی ہوگی۔

……………………………………………………………………………………………………………..

شہرام خان ترکئی سے لوکل گورنمنٹ آفیسرز ایسوسی ایشن کے وفد کی ملاقات۔
پشاور(چترال ٹائمزرپورٹ ) خیبر پختونخوا کے وزیر بلدیات، الیکشنز و دیہی ترقی شہرام خان ترکئی نے کہا ہے کہ بلدیات خصوصاً ٹی ایم ایز کے نظام کو بہتر اور کارآمد بنائیں گے تاکہ لوگوں کو بہتر میونسپل سروسز میسر آ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ کارکردگی کو سختی سے مانیٹر کیا جائے گا اور غلطی کی کوئی گنجائش نہیں ہوگی تاہم اس کے ساتھ ساتھ آفیسرز کو سہولیات مہیا کرنے اور ان کی ترقی اور دیگر ملازمت سے متعلق مسائل بھی حل کریں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے لوکل گورنمنٹ آفیسر ایسوسی ایشن کے نمائندہ وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر سیکرٹری لوکل کونسل بورڈ خضر حیات خان بھی موجود تھے۔ ٹی ایم او احسان اللہ کی سربراہی میں آنے والے لوکل گورنمنٹ آفیسرز ایسوسی ایشن کے وفد میں نائب صدر، جوائنٹ سیکرٹری اور تنظیم کے دیگر عہدیدار شامل تھے۔ وزیر بلدیات سے ملاقات میں وفد نے اپنے مطالبات بیان کیے اور ان کے جلد سے جلد حل کے لئے درخواست کی۔ لوکل گورنمنٹ آفیسر ایسوسی ایشن کے وفد نے صوبائی وزیر بلدیات سے سینئر حکام کی تعیناتی، نئی پوسٹوں کی تخلیق، آر ایم اوز کو اختیارات سونپنے، ٹیکنیکل الاؤنس کے اجرا اور لوکل گورنمنٹ ایکٹ میں ترامیم کے حوالے سے بات چیت کے ساتھ ساتھ سنیارٹی اور دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا۔ شہرام خان ترکئی نے آفیسر کے مسائل کو غور سے سنا اور ان کے حل کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ وہ ان مسائل سے کسی حد تک پہلے سے آگاہ ہیں اور وہ پورے محکمے میں اس طرح کے مسائل کو ختم کرنے جا رہے ہیں۔ انہوں نے وفد کو یقین دلایا کہ ان کے مسائل ترجیح بنیادوں پر حل ہوں گے اور سرکاری حکام کو ان کا جائز حق ملے گا۔ شہرام خان ترکئی کا کہنا تھا کہ آفیسرز اپنی کارکردگی کو بھی بہتر بنائیں اور زیادہ سے زیادہ ریونیو اکٹھا کرنے کے علاوہ ٹیکس کولیکشن کے نظام کو بھی بہتر اور مؤثر بنائیں۔ صوبائی وزیر کا بھرتیوں کے حوالے سے کہنا تھا کہ ٹی ایم ایز میں خالی سیٹوں پر مرحلہ وار بھرتیاں کی جائیگی جب کہ ریکروٹمنٹ کا یہ عمل سنٹرلائز اور شفاف ہوگا جس میں میرٹ کو اولین ترجیح دی جائے گی۔ وزیر بلدیات کا بلدیاتی نظام میں ترامیم کے حوالے سے کہنا تھا کہ تحریک انصاف فرد واحد کے لئے پالیسی سازی یا قانون میں ردوبدل نہیں کرتی بلکہ وزیراعظم عمران خان لوکل باڈیز سسٹم میں تبدیلی لاکر بڑے پیمانے پر لوگوں کی زندگیوں کو بدلنے کا عزم رکھتے ہیں اور اس سلسلے میں ان سے اب تک درجن سے زائد میٹنگز ہو چکی ہیں جس میں وہ مجوزہ نظام کی ایک ایک شق پر تبادلہ خیال کرتے ہیں۔ شہرام خان ترکئی نے سیکرٹری ایل سی بی کو ہدایت کی کہ وہ تمام ٹی ایم ایز میں بائیو میٹرک حاضری کا نظام یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ آفیسرز کی ٹرانسفر اور پوسٹنگ کے لیے ایک جامع پالیسی بھی مرتب کریں۔


شیئر کریں: