Chitral Times

Nov 29, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

کمانڈنٹ چترال سکاوٹس سے گزارش………..عمادالدین

شیئر کریں:

صبح کی تروتازہ ہوا میں چھاونی کے گرد وپیش کی فضا بڑی دلکش معلوم ہوتی ہے،جس میں جگہ جگہ اسکاوٹس کے چاق وچوبند جوان اپنے فرائض عمدہ طریقے سے ادا کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں ۔نظم وضبط کے اس ماحول میں ایسا منظر بھی دیکھنے کو ملا کہ سکول کی طرف جانے والے آگے کو جھکے ہوئے بچے شائد کوئی چیز ڈھونڈتے ہوئے جا رہے تھے،غور کیا تو ایسا کچھ نہیں تھا۔ ان میں سے ایک بچہ دوسرے سے ٹکرایا تو وہ عدم توازن کا شکار ہو کر منہ کے بل گر گیا کیونکہ اس کے جسم کا دوگنا اس کی کمر پہ لدا ہوا تھا، آگے گیا تو لڑکھڑاتے جسموں اور ڈگمگاتے قدموں کے ساتھ بھاری بستے اٹھائے ہوئے بچوں کی فوج کو دیکھ کر بڑا دکھ ہوا جو بارگراں کے بوجھ تلے دبے ہوئے سکول کی طرف جا رہے تھے، ہر معصوم کی کمر جھکی ہوئی اور اس کی پوزیشن ایسی نظر آرہی تھی جیسی حروف تہجی میں ” و” کی ہوتی ہے۔صبح کے وقت تو بچے ناشتہ کر کے توانا ہوتے ہیں ،لیکن چھٹی کے وقت سب کی آنکھوں سے وحشت ٹپکتی ہے، چہرہ پیلا بال گرد آلود اور اسی منحوس بستے کا بوجھ جس نے ان کی معصومیت کا سارا رس نچوڑا ہوتا ہے۔ پہلے آٹھ مضامین کی آٹھ کاپیاں اور کتابیں ہوتی تھیں اور اب ہر مضمون کی کتاب کے ساتھ ایک کاپی دو دو ورک بک، ورک شیٹ اور کیا کیا بلا جو کم ہونے کا نام نہیں لیتی، حیرت اس بات پہ ہوتی ہے کہ صرف کتاب اور کاپی سے ہی سارا کام بحسن وخوبی ہو رہا تھا تو باقی چیزوں کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ اوپر سے کتابیں اتنی مہنگی کہ غریب آدمی کی کمر کے ساتھ اس کا حوصلہ بھی توڑ دیں ۔ ہر طرف سے تعلیم عام کرنے کی باتیں سنائی تو دیتی ہیں لیکن کوئی نہیں کہتا کہ اتنی مہنگی کتابیں کوئی کیسے خریدے ؟اگر کتابیں میسر ہی نہ ہوں تو تعلیم عام ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔کوئی خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتا اور جو خرید لے تو اتنا بھاری بوجھ والدین کی جیب کے ساتھ بچے پر لادا جاتا ہے کہ الامان۔۔ بیچارے والدین کا بچوں کو اچھے سکول میں داخل کرنے کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہونے پاتا۔سکول میں ایسا کوئی انتظام موجود نہیں کہ کلاس ورک شیٹ ورک بک زائد کتابیں یا کاپیاں وہی رکھی جائیں ۔یا ٹائم ٹیبل کو منظم طریقے سے بنایا جائے کہ ہفتے کے تین دن کچھ مضامین پڑھائے جائیں اور باقی دنوں میں کچھ اور، تو اسی طرح ساری کتابیں اور کاپیاں لے جانا نہیں پڑیں گی جبکہ وہاں پورا ہفتہ تمام مضامین پڑھائے جاتے ہین اور بچوں کو پہاڑ کے وزن جتنا بستہ اٹھائے پھرنا پڑتا ہے،جس سے وہ جسمانی طور پر مسائل کا شکار ہو رہے ہیں ہر دو میں سے ایک بچے کے سینے میں درد رہتا ہے یا کمر کندھے گردن میں ، سمجھ میں نہیں آ رہا کہ اتنا غیر ضروری بوجھ ان پر کیوں ڈالا جا رہا ہے؟ یہ انہیں افلاطون بنائے گا یا اس کے نہ ہونے سے ان کی تخلیقی صلاحیت متاثر ہو گی یا آگے بڑھنا ناممکن ہو جائے گا۔ کتابوں کی کثرت کامیابی کی دلیل نہیں ہوتی،اصل چیز علم ہے جو کتابوں سے ذیادہ استاد کے ذہن اس کی شخصیت اور کردار میں ہوتا ہے،بچوں کو عملی نمونہ دکھانے کی ضرورت ہوتی ہے رٹو طوطے بنانے کی نہیں۔ اس حقیقت سے چشم پوشی نہیں کرنی چاہیے کہ آج تک ہمیں تعلیم کے صحیح معنی نہیں آئے،ہر چیز کے لیے مغرب کی طرف دیکھنے والے تعلیم کے میدان میں ان سے استفادہ کرنے کا حوصلہ نہیں رکھتے۔ دنیا کس طرف جا رہی ہے ہم بے خبر ہیں ۔یہ ایسا گھمبیر مسلہ ہے کہ اگر اس پر غور نہ کیا گیا تو بچوں کی صحت بری طرح متاثر ہو سکتی ہے، ایسے بیمار بچے ملک کا نام روشن کرنا تو درکنار،امتحان دینے کے قابل بھی نہیں رہ سکتے۔ چیئرمین فرنٹئر کور پبلک سکول اینڈ کالج جناب کرنل معین الدین صاحب سے استدعا ہے کہ بچوں کے ناتواں کندھوں سے غیر ضروری بوجھ ہلکا کرنے کے لیے عملی اقدام کریں اور یہ بھی گزارش ہے کہ مہینے میں ایک دن والدین سے ملاقات کے لیے مختص کریں تاکہ سکول کے حوالے سے وہ اپنی تجاویز اور آرا سے آپ کو آگاہ کر سکیں، یہ اقدام بچوں کے روشن مستقبل کے لیےناگزیر ہیں۔


شیئر کریں: