Chitral Times

Jan 30, 2023

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

حکومت ترقی کا کوئی منصوبہ نہیں دے سکی، طفل تسلیوں سے بات نہیں‌بنتی..سراج الحق

شیئر کریں:

سینیٹر سراج الحق ، دروش میں ختم بخاری تقریب سے خطاب
دروش(چترال ٹائمز رپورٹ ) امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سرا ج الحق نے کہاہے کہ حکومت ابھی تک ترقی کا کوئی منصوبہ نہیں دے سکی ، محض طفل تسلیوں اور صبر کی تلقین سے بات نہیں بنے گی ۔ قومی اسمبلی اور سینیٹ کی موجودگی میں آر ڈی نینسوں سے کام چلانا خود اپنے اداروں پر عدم اعتماد کا اظہار ہے ۔ چترال کی پسماندگی کو دور کرنے اور ملک کے دیگر علاقوں کی طرح تعلیم ، علاج اور آمد و رفت کی سہولتیں دینے کی کسی حکومت نے بھی کوشش نہیں کی ۔ ایک ملت کے لیے یکساں نصاب ضروری ہے ۔ مختلف تعلیمی نصاب قومی یکجہتی کو نقصان پہنچا رہے ہیں ۔ چترال میں بچیوں کے لیے سکولوں ، کالجز اور ایک یونیورسٹی تعمیر کرنے کی فوری ضرورت ہے ۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے دروش میں مدرسہ جامعہ خدیجۃ الکبریٰ میں ختم بخاری کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ تقریب سے ڈاکٹر عطاء الرحمن نے بھی خطاب کیا ۔

سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ حکومت پارلیمنٹ کو کوئی اہمیت نہیں دے رہی ۔ قومی اسمبلی اور سینیٹ کی موجودگی کے باوجود آرڈی نینسوں کے ذریعے کام چلایا جارہاہے جس سے آئینی اداروں کا ناصرف وقار مجروح ہورہاہے بلکہ حکومتی رویہ ان پر عدم اعتماد ظاہر کر رہاہے ۔ انہوں نے کہاکہ حکومت کا اولین فرض آئینی اداروں کو فعال اور متحرک کر کے قانون سازی ہوتاہے مگر موجودہ حکومت ہر کام الٹا کر رہی ہے ۔ سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ حکومت کو فوری طور پر بجلی کے شارٹ فال کو پورا کرنے کی طرف دھیان دینا چاہیے ۔ اگر لوڈشیڈنگ کی یہی صورتحال رہی تو رمضان المبارک میں شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑے گا اور لوگوں کو سحری و افطاری کے اوقات میں بھی شدید مشکلات پیش آئیں گی ۔ انہوں نے کہاکہ حکومت جس طرح آئے دن بجلی تیل و گیس کی قیمتوں میں اضافہ کرتی ہے اسی طرح ان کی آسان اور مستقل فراہمی کے بارے میں بھی سوچنا ہوگا ۔ بجلی کے دھڑا دھڑ بل بھیجنے والوں کو عوام کی پریشانیوں کے حل کے لیے بھی کچھ کرنا ہوگا۔

سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ چترال قدرتی حسن اور معدنیات سے مالا مال ہے مگر اس کی ترقی کا کسی کو خیال نہیں آیا ۔ لوگ آج بھی پسماندہ زندگی گزارنے پر مجبور ہیں ، خاص طور پر تعلیم اور صحت کی سہولتیں ناپید ہیں ۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ چترال میں بچیوں کے لیے کالجز اور ایک یونیورسٹی فوری طور پر قائم کی جائے تاکہ خواتین کو تعلیم کے لیے ملک کے دوسرے شہروں میں نہ جانا پڑے ۔ انہوں نے کہاکہ چترال میں سڑکوں کی تعمیر اور بڑے ہسپتال کی تعمیر کی طرف بھی فوری توجہ دی جائے ۔

……………………………………………………………………………………………………………………..

جماعت اسلامی کی نو منتخب مجلس شورٰی کے ناموں کا اعلان کر دیا گیا.
چترال سے ممبر قومی اسمبلی مولانا عبد الاکبرچترالی بھی مجلس شورا کے رکن منتخب
لاہور(چترال ٹائمز رپورٹ ) جماعت اسلامی پاکستان کی مرکزی مجلس شورٰی کے انتخابات مکمل ہو گئے ہیں ۔ منتخب ہونے والے 70 مرد اور 10خواتین ارکان کے ناموں کا اعلا ن کر دیا گیاہے ۔ جماعت اسلامی کے نائب امیر اور چیف الیکشن کمشنر اسد اللہ بھٹو ایڈووکیٹ نے منصورہ میں ہونے والی پریس کانفرنس میں منتخب ارکان مرکزی مجلس شورٰی برائے سیشن (2019-2022) کے ناموں کا اعلان کرتے ہوئے کہاکہ جماعت اسلامی اپنے دستور پر مکمل طو ر پر عمل پیرا ہے ۔ جماعت اسلامی ایک جمہوری اور پروگریسو جماعت ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ ملک میں جمہوری نظام پھلے پھولے اور پروان چڑھے ۔ مگر وہ سیاسی جماعتیں جو جمہوریت کا ورد کرتے نہیں تھکتیں ، ان کے اپنے اندر جمہوریت نام کی کوئی چیز نہیں ۔ ملک میں آئین قانون کی بالادستی کے لیے جمہوری تقاضوں کو پورا کرنا ضروری ہے ۔ اس موقع پر سیکرٹری الیکشن کمیشن جماعت اسلامی پاکستان بلال قدرت بٹ ، مرکزی سیکرٹری اطلاعات قیصر شریف اور یوسف حیدر بھی موجود تھے ۔
اسد اللہ بھٹو نے کہاکہ ملک بھر کے چالیس ہزار مرد و خواتین ارکان نے خفیہ بیلٹ کے ذریعے مرکزی شورٰی کے ارکان کا انتخاب کیا ہے جس کے مطابق صوبہ خیبر پی کے سے 22 مرد اور ایک خاتون رکن شوریٰ منتخب ہوئیں ۔ مرد ارکان شوریٰ میں عتیق الرحمٰن ، مصباح اللہ ، صابر حسین اعوان ، آصف لقمان قاضی ، ڈاکٹر مولاناعطاء الرحمٰن،جمال الدین ، اعزازالملک افکاری ،مولانا اسدللہ ،ارشد زمان،عنایت اللہ خان ،حنیف اللہ خان ،مولاناعبدالاکبر چترالی ، محمد حلیم، محمد امین، فضل سبحان ،ساجد قریشی ، محبوب الٰہی، طارق شیرازی ، ڈاکٹر محمد قاسم ، مولانا تسلیم اقبال ، ہارون الرشید، محمد حسن اور خواتین کی ایک نشست پر حمیراطیبہ منتخب ہوئی ہیں۔ تنظیمی صوبہ شمالی پنجاب سے 13 مرد اور ایک خاتون رکن مجلس شوریٰ منتخب ہوئے ان میں نصراللہ رندھاوا،زبیر صفدر، محمد عارف شیرازی ، راجہ جواد، شمس الرحمن سواتی ،
جاویداقبال چیمہ ،پروفیسرعرفان احمد، ضیاء اللہ شاہ، ڈاکٹر خالد ثاقب ، ریاض فاروق ساہی ، محمد اقبال خان،مولانا عبدالستار ،فداء الرحمن کے نام شامل ہیں،خواتین کی ایک نشست پر ڈاکٹر رخسانہ جبین منتخب ہوئی ہیں۔تنظیمی صوبہ وسطی پنجاب سے سردار ظفر حسین خان ، عظیم رندھاوا ،مہر بہادر خان جکھڑ، مظہر اقبال رندھاوا،حافظ غلام مصطفےٰ ، بلال قدرت بٹ ، ڈاکٹر شکیل ٹھاکر، ڈاکٹر محمد اسلم ، ذکراللہ مجاہد ،حافظ سلمان بٹ ، محمد جاوید قصوری ، انجینئر اخلاق احمد، سرفراز خان ،ڈاکٹر لیاقت علی کوثر ، ڈاکٹر طاہر سراج شامل ہیں،خواتین کی 02 نشستوں پر بشریٰ صادقہ ، حمیراطارق منتخب ہوئی ہیں۔تنظیمی صوبہ جنوبی پنجاب سے مردانہ 06نشستوں پر صفدر اقبال ہاشمی ،چوہدری اصغر علی گجر ، شیخ عثمان فاروق، سید ذیشان اختر ، ڈاکٹر انوارالحق ، افتخار ندیم شامل ہیں خواتین کی ایک نشست پر رضیہ فاطمہ منتخب ہوئی ہیں۔صوبہ سندھ سے مردانہ 11نشستوں پر منتخب ہونے والوں میں حافظ نعیم الرحمن، ڈاکٹر معراج الہدیٰ صدیقی،سید شاہد ہاشمی، سید عبدالرشید، ڈاکٹر اسامہ رضی،جناب فاروق نعمت اللہ ، ڈاکٹر واسع شاکر، عبدالوحید قریشی، محمد افضال، مولانا حزب اللہ جکھرو، عبدالحفیظ بجارانی شامل ہیں، خواتین کی 04نشستوں پر عطیہ نثار ،افشاں نوید ، اسماء سفیر ، رعنا افضل منتخب ہوئی ہیں۔صوبہ بلوچستان سے مردانہ 03نشستوں پر منتخب ہونے والوں میں عبدالکبیر شاکر ، زاہد اختر، مولانا ہدایت الرحمن کے نام شامل ہیں، خواتین کی ایک نشست پر یاسمین اچکزئی منتخب ہوئی ہیں۔


شیئر کریں: