Chitral Times

Apr 12, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

ڈی پی او چترال کے نام کھلا خط …پولیس اورعوام….امیراللہ سابق امیدوارصوبائی اسمبلی

Posted on
شیئر کریں:

ہم نے سنا تھا اور دیکھا بھی ہے کہ پولیس اور عوام دوقلب اورایک جان کی مانندہیں۔ کیونکہ پولیس عوام کی ہر دکھ درد میں شامل اور حاضر ہے ۔ اور عوام بھی اپنی تکالیف و پریشانی اوردل کی رازبھی پولیس کے سامنے بیان کرتی ہے ۔ اور پولیس کو اپنے تحفظ ، جان کی ضمانت اور مدد کا ایک ذریعہ سمجھتی ہے ۔ اور پولیس بھی اپنے فرض منصبی کو برقرار رکھ کر ہمیشہ یہ سوچھتی ہے۔ کہ پولیس کی طرف سے ہمیشہ عوام کو سہولت اور اچھی خدمات میسر ہو۔ اور ہم نے ہمیشیہ یہ دیکھا ہے کہ پولیس ہمیشہ عوام کے نزدیک اور عوام کے درمیان رہنے ، تعلق پیداکرنے اور عوام کے دلوں میں جگہ بنانے کی تکہ و دو میں رہتی ہے ۔

مگر یہ حیرانگی والی بات ہے کہ چترال پولیس عوام سے دور رہنے کی کوشش کررہی ہے۔ معلوم نہیں چترالی عوام سے پولیس کو کیا تکلیف اور کیا پریشانی ہے ۔ آج چترال پولیس اپنے تمام دفاتر بلچ میں منتقل کرنے کی کوشش میں ہے ۔ اور کرچکی ہے ۔ اور معلوم نہیں کہ ڈی پی او صاحب کو عوام سے دُور رہنے کی مشورہ کون دے رہا ہے ۔ یا ڈی پی او خود کیا سوچ رکھتا ہے ۔ اگرعوام کو کسی کام کے بارے ڈی پی او کے پاس جانا ہو یا کسی غریب کو ایک معمولی کاغذ کی تصدیق کرنے کی ضرورت ہو۔ پہلے وہ دورگاوں‌سے چترال کا رُخ کریگا۔ چترال پہنچنے کے بعد چار سو روپے کا ٹیکسی کرکے ڈی پی او صاحب اور اس کے سٹاف کو ڈھونڈے گا۔ اور بلچ کاچکر کا ٹنا پڑے گا۔ اور پورادن اُن کو ڈھوڈنے میں صرف کریگا۔ اورشام کو اپنے گھر پہنچنے کے بجائے کسی ہوٹل میں رات گزارنے پر مجبور گا۔ اگر یہ عوام کی خدمت ہے ۔تو یہ خدمت بند کیا جائے۔ اگر خدمت کرنا ہے تو غریب عوام کا پیسہ اور ٹائم بھی بچایا جائے۔

 

میری چترال پولیس سے درخواست ہے کہ عوام سے دوری پیدا کرنے کے بجائے عوام کے درمیان رہنے کی کوشش کی جائے۔

 

میں ڈی پی او صاحب چترال ڈی آئی جی ملاکنڈ اور آئی جی کے پی پولیس سے درخواست کرتا ہوں۔ کہ وہ اپنے فیصلے پر نظرثانی کرکے بلچ کے بجائے چترال ٹاون میں اپنے تمام دفترات واپس منتقل کیا جائے۔ اس میں عوام کی بہتری اور پولیس کی عوام دوستی ہے ۔

 

اگر خواہ مخواہ بلچ میں‌تعمیر شدہ بلڈنگ کو استعمال میں‌لانا ہی ہے تو اُن میں‌پولیس جوانوں‌کی رہائش یا اُن دفترات کو منتقل کیا جائے جن سے عوام کا ڈائریکٹ کوئی تعلق نہ ہو. امید ہے کہ پولیس کے اعلیٰ‌حکام اس درخواست پر سنجیدہ غورکرتے ہوئے دفترات پرانی بلڈنگ دوبارہ منتقل کریں‌گے .

 

 

فقط ریٹائرڈ صوبیدار امیر اللہ
سابق آزاد امیدوار برائے صوبائی اسمبلی چترال ون
برائے عوام چترال


شیئر کریں: