Chitral Times

Nov 29, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

اپنی شرائط پر قرضہ ………….محمد شریف شکیب

Posted on
شیئر کریں:

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نامی ادارہ نجانے کیوں ہاتھ دھو کر پاکستان کے پیچھے پڑا ہوا ہے۔ ہماری حکومت نے احتساب بیورو اور دیگر ایجنسیوں کو کرپشن کے خاتمے کے لئے فری ہینڈ دے رکھا ہے۔ ٹیکس نیٹ بڑھانے کے لئے ایڑھی چوٹی کا زور لگایا جارہا ہے۔ آئی ایم ایف نے اعتراف کیا ہے کہ حکومتی اقدامات سے ٹیکس ریونیو میں اضافہ تو ہوا ہے لیکن رشوت کی شرح بھی بڑھ گئی ہے۔کیونکہ لوگوں کو اب بھی حکومت اور سرکاری اداروں پر اعتماد نہیں کہ ان کے ٹیکسوں کا پیسہ چرایا نہیں جائے گا اور قومی تعمیر کے منصوبوں اور عوام کو سہولیات کی فراہمی پر خرچ ہوگا۔ اس وجہ سے لوگ ٹیکس وصول کرنے والوں کو چند لاکھ روپے تھما کر کروڑوں روپے کا ٹیکس بچاتے ہیں۔ممکن ہے کہ اس تحقیقی رپورٹ کو عین اس وقت منظر عام پر لانے کا مقصد پاکستان پر دباو ڈالنا ہو۔کیونکہ بیل آوٹ پیکج کے لئے پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات چل رہے ہیں اور رواں ماہ کے اواخر میں معاہدہ طے پانے کی توقع ہے۔ ہماری حکومت کا دعویٰ ہے کہ ہم نے اپنی اصلاح کردی ہے جس کی وجہ سے آئی ایم ایف اب اپنی شرائط کے بجائے ہماری شرائط پر قرضہ دینے پر راضی ہوا ہے۔ تاہم انہوں نے یہ وضاحت نہیں کی کہ قرضہ لینے کے لئے ہماری شرائط کیا تھیں۔بھلا قرضہ لینے والے کی کیا شرط ہوسکتی ہے۔یہی نا کہ ہم پانچ دس سالوں میں آپ کو ادائیگی نہیں کرسکیں گے پندرہ بیس سالوں کی مہلت دیدیں اور شرح سود بھی تھوڑا کم کریں تاکہ آسانی سے ادائیگی کرسکیں۔بات ہورہی تھی آئی ایم ایف کے مخاصمانہ رویے کی۔ عالمی بینک نے پاکستان کی شرح نمو کے بارے میں امید افزاء رپورٹ جاری کی ہے۔ اسی اثناء میں آئی ایم ایف کی بھی ایک جائزہ رپورٹ منظر عام پر آگئی۔ جس میں بتایاگیا ہے کہ فی الحال پاکستان میں شرح نمو دو اعشاریہ پانچ ہے۔ اگلے سال اس میں مزید کمی آسکتی ہے اگر اصلاحات کے حوالے سے آئی ایم ایف کی شرائط پر عمل نہ کیاگیا تو شرح نمو میں 2024تک اضافے کا کوئی امکان نہیں۔دنیا کی مالیاتی صورتحال کا جائزہ لینے والی دو بین الاقوامی اداروں کی جائزہ رپورٹ میں یہ تفاوت اس بات کا مظہر ہے کہ ہر ادارہ اپنے زاویہ نگاہ سے تحقیق کرتا ہے اور اپنی مرضی کی رپورٹ بناتا ہے۔ ہمارے گاوں میں ایک بزرگ کے پاس جاپانی ریڈیو سیٹ ہوتا تھا۔ پیسوں کی ضرورت پڑی تو اس نے اپنا یہ قیمتی سرمایہ یعنی ریڈیو فروخت کرنے کا اعلان کیا۔ ایک خریدار ان کے پاس آیا اور ریڈیو کی قیمت پوچھی تو انہوں نے پانچ سو روپے قیمت بتائی۔ خریدار نے کہا کہ اسی قسم کے ریڈیو سیٹ بازار میں بھی تین چار سو کے ملتے ہیں۔ تمہارے والے سیٹ میں کونسی ایسی خوبی ہے کہ اس کی قیمت پانچ سو سے ایک پائی کم نہیں ہوسکتی۔ بزرگ نے کہا کہ اس ریڈیو کی خصوصیت یہ ہے کہ ہر زبان کے بہترین گانے اس ریڈیو سیٹ پر سنے جاسکتے ہیں ۔یہی حال آئی ایم ایف کا ہے ۔ قرضہ دینے والے دنیا میں درجنوں ادارے ہیں ہر کوئی اپنی شرائط کو سب سے آسان بتا تا ہے۔ لیکن آئی ایم ایف والے اپنے پیسے کو سب سے قیمتی سمجھتے ہیں اور قرضہ نہ لینے کی صورت میں معیشت تباہ ہونے کی پیش گوئیاں کرتے ہیں۔بہرحال پاکستان کی حکومت نے نا نا کرتے کرتے بالاخر بین الاقوامی مالیاتی فنڈ سے قرضہ لینے کا فیصلہ کرہی لیا ہے۔ اور قوم کو باور کرایا جارہا ہے کہ آئی ایم ایف ہماری شرائط پر ہمیں قرضہ دینے پر رضامند ہوا ہے تو ہم نے ان سے تھوڑا بہت قرضہ اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ دنیا میں کوئی بات پوشیدہ نہیں رہ سکتی۔ ہمارے حکمران قرضے کی شرائط لاکھ چھپائیں۔ ایک نہ ایک دن نہ صرف پوری قوم بلکہ ساری دنیا کو پتہ چل جائے گا کہ کن شرائط پر کتنا قرضہ لیا گیا۔اور کس کی شرائط کو قبول کیا گیا۔ماضی میں بھی حکومتیں اپنی شرائط پر مالیاتی اداروں سے قرضے لینے کے دعوے کرتی رہی ہیں۔ یہ قوم پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ دور کے علاوہ مشرف دور کے قرضے بھی اپنا پیٹ کاٹ کر چکا رہی ہے۔ پی ٹی آئی والوں کی نرم شرائط پر لیاجانے والا قرضہ بھی یہی قوم ٹیکسوں کی شکل میں ادا کرتی رہے گی۔ جب ہر پاکستانی پر سوا لاکھ سے زائد کا قرضہ پہلے سے چڑھا ہوا ہے تو پندرہ بیس ہزار کا مزید قرضہ بھی سہی۔ لیکن شرائط کی بات کرکے قوم کے زخموں پر نمک پاشی کی کیا ضرورت ہے؟


شیئر کریں: