Chitral Times

Sep 16, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

کلاس فورکادھندہ ……………ایس این پیرزادہ

Posted on
شیئر کریں:

کسی بھی جمہوری حکومت میں اقتدارحاصل کرنےکےلیےسیاسی جماعتوں کےمنشورمیں بےروزگاری کاخاتمہ اولین ترجیح ہوتاہے،اسی نظریےکی بنیادپرحسب اقتدارجماعت اپنےووٹرزکوکسی نہ کسی سرکاری ادارےمیں ملازمت فراہم کرنےکی کوشش کرتی ہے،
پاکستان کی تاریخ میں۱۹۷۲ سےلیکر۲۰۰۲تک حکمران جماعتوں نےاپنےحمایتی افراد کوروزگارفراھم کرنےکی غرص سےبہت سارےایسےنااہل افرادکوذاتی پسندکی بنیادپرسرکاری اداروں میں ملازمت دلوایا..جس کانتیجہ اداروں کی تباہی کی صورت میں سامنےایا،اس سنگین صورتحال سےخوفزدہ ہوکرحکمراں طبقےنےملازمتوں کی فراہمی کےحوالےسےنئے قواعدوضوبط متعارف کیا اور میرٹ کی بنیادپرلوگوں کوبھرتی کرنےکا سلسلہ شروع ہوا،اور منتخب نمایندگان کےاختیارات کوصرف کلاس فورملازمین کی تقرری تک محدود کردیاگیا۔

اسی تناظرمیں اگرچترال کی پارلیمانی تاریخ کاجائزہ لیاجاےتوپہلادوریعنی ۱۹۷۲سےلیکر ۲۰۰۲تک برسراقتدارجماعتوں سےتعلق رکھنےوالےمنتخب نمایندوں نےباقی ماندہ ملک کی طرح ذاتی پسندکی بنیادپرمختلف سرکاری اداروں میں اپنےکارکناں اورقریبی رشتہ داروں کوکلاس فورسےلیکرگریڈ سولہ تک کےعہدوں پر فائزکیا،اس دوراں چندخوش نصیب افرادکومحص سیاسی وابستگی کی بنیادپران سےبھی بڑےعہدوں تک جانےکاموقع ملا،تاہم حیران کن امریہ ہےکہ علاقےمیں شدیدغربت کےباوجوداس سارےدورانیےمیں ملازمت دلوانےکےبدلےمیں رشوت لینےیاملازمتوں کی فروخت کا کوئی ایک بھی قیصہ سننےکو نہیں ملتا۔

چترال کی جمہوری تاریخ میں کلاس فورملازمتوں کی فروخت کا آغاز ۲۰۰۲سے شروغ ہوتا ہےجب منتخب نمایندوں کی طرف سےمقررکردہ سیکٹریزنےاپنے دوستوں کے زریعےامیدواروں سے شیرینی کا مطالبہ شروع کردیا،شیرینی سے شکرانہ تک کا سفرانتہای مختصرمدت میں اتنا مقبول ہوا کہ ایک عوامی نمایندےنے عوام کی سہولت کی خاطر اپنےہی ایک قریبی عزیز کو خاص اسی کام کے لیے مقرر کر دیا،نتیجہ کے طورپرغریب امیدواروں کو معلوم ہوگیاکہ اج کل کلاس فور بننے کے لیے سب سے مظبوط سفارش پیسہ اورسب سےبڑی اہلیت بھی پیسہ ہی ہے،اسی نظریے کی بنیاد پر بےروزگاری سے تنگ نوجوانوں نے شیرینی جیب میں رکھ کرنمایندوں اوران کے کارندوں کی تلاش میں نکل پڑے،

گزشتہ چند سالوں کے دوراں کلاس فورملازمتوں کا یہ دھندہ اتنا بڑچکاہےکہ ہرگاوں میں کسی نہ کسی نمایندےکا اصلی یا نقلی سیکڑیٹری موجود ہوتا ہے جوکہ بےروزگارافراد سےملازمت دینے کے بدلے لاکھوں روپے وصول کرچکا ہے،اوروہ بےچارےکئ سالوں سے سرکاری نوکری یا اپنے رقم کی واپسی کے منتظرہیں۔بغص اوقات اداروں کے سربراہاں بھی اس گھناونی دھندے میں ملوث ہوتے ہیں،کھبی کھبارتو اسی کارخیر کے لیے من پسندافراد کو اداروں کے لیے سربراہ مقررکیا جاتاہے۔

کچھ عرصہ پہلے اسی قسم کے حق تلفی کے خلاف بغص افراد نے عدالت کا رخ کیاتو یہ بات سامنے آئی کہ ابھی تک قانون میں کلاس فور کی تقرری کے لیے اہلیت کا کوئی مغیار متغین نہیں ہے،اور مغزز عدالت نے یہ حکم دیا کہ ایندہ یونین کونسل کی سطح پر قرغہ اندازی کے زریغے کلاس فور ملازم کا تقرر کیا جاے،تاہم حکومت اور عوامی نمایندے اس منصفانہ فیصلے کی راہ میں روکاوٹ بنے ہوے ہیں۔


شیئر کریں: