Chitral Times

Sep 16, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

اگلے بجٹ میں صوبے کے تمام شہریوں کو صحت انصاف کارڈ مہیاکیا جائیگا..وزیراعلیٰ‌

Posted on
شیئر کریں:

پشاور(چترال ٹائمزرپورٹ )وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت نے صحت سہولت کارڈ کو پورے صوبے تک توسیع کا فیصلہ کیا ہے اور اگلے بجٹ میں صوبے کے تمام شہریوں کو صحت انصاف کارڈ مہیا کرنے کا اعلان کیا جائے گا ۔ اس منصوبے کے تحت سیکنڈری کئیر بیماریوں کیلئے 2 لاکھ 80 ہزار روپے پیکج فی فیملی دیا جائے گا جس میں ایک ہزار بیماریوں کا علاج ڈی ایچ کیو لیول ہسپتال میں کیا جائے گا جبکہ ٹرشری کیئر بیماریوں کیلئے 4 لاکھ فی خاندان پیکج دیا جائے گا جس میں امراض قلب، شوگر، ایمرجنسی اینڈ ٹراما جس میں تمام قسم کے فریکچر ، سر اورسپائنل انجری اور جوائنٹ کی تبدیلی وغیرہ شامل ہیں ۔وزیراعلیٰ کا صحت سہولت کارڈ کی صوبے میں توسیع کے حوالے سے فیصلہ وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور میں اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔اجلاس میں وزیر اعظم کے معاون خصوصی افتخار درانی ، وزیر خزانہ تیمور سلیم جھگڑا، وزیر صحت ڈاکٹر ہشام انعام اﷲ،وزیراعلیٰ کے مشیر برائے ضم شدہ اضلاع و صوبائی حکومت کے ترجمان اجمل وزیر اور متعلقہ محکموں کے انتظامی سیکرٹریوں نے شرکت کی ۔منصوبے کے تحت دیگر بیماریوں کے ساتھ صوبے میں پہلی بار ایچ آئی وی اینڈ ایڈز اور تمام قسم کے کینسر جیسی موذی بیماریوں کا فری علاج کیا جائے گا۔اس کے علاوہ بریسٹ کینسر سکریننگ ،کڈنی ٹرانسپلانٹ اور ناکارہ اعضاء کی بحالی ،جیسی بیماریوں کا علاج بھی صحت سہولت کارڈ سے کیا جائے گا۔ منصوبے کے تحت صوبے کے عوام کو علاج کی سہولت سرکاری اور نجی ہسپتالوں میں فراہم کی جائے گی ۔ صحت سہولت کارڈ پروگرام سٹیٹ لائف کارپوریشن کے ذریعے لاگو کیا جائے گا۔ مریض کو اُجرت کے طور پر ہسپتال میں داخلے کے دوسرے اور تیسرے دن 250 روپے فی دن دیا جائے گا۔میٹرنٹی ٹرانسپورٹیشن کیلئے فی مریض ایک ہزار روپے دیا جائے گا۔ ٹرشری کیئر ٹرانسپورٹیشن کیلئے دوہزار روپے فی مریض دیا جائے گا جبکہ مریض کی میت پر کفن دفن کیلئے فی مریض 10 ہزار روپے بھی دیئے جائیں گے ۔ صحت سہولت پروگرام کے منصوبے میں مزید طبی فوائد کو شامل کیا گیاہے جس کے تحت شہریوں کو اعلیٰ قسم کی طبی سہولیات میسر ہوں گی ۔ اس منصوبے کے تحت صوبے کے تمام شہریوں کو مفت طبی سہولیات فراہم کرنے سے 10188 ملین روپے لاگت آئے گی جبکہ صوبہ بھر کی 4,998,718 لاکھ خاندانوں کا علاج ہو سکے گا۔ اس ضمن میں مذکورہ منصوبے کی سمری منظوری کیلئے بھیجی گئی ہے ۔ صحت سہولت کار ڈ کے ذریعے صوبے میں موجود 86 ہسپتال شامل ہیں جس میں 27 پبلک ہسپتال اور 59 پرائیوٹ ہسپتال شامل ہیں۔ اجلاس کو صحت انصاف کارڈ کی پورے صوبے میں توسیع اور اس پر لاگت اور لائحہ عمل کے حوالے سے تفصیلی بریفینگ دی گئی ۔اجلاس کو صحت سہولت کارڈ پروگرام اور پانچ سالہ منصوبے پر بھی تفصیلی بریفینگ دی گئی ۔ پانچ سالہ منصوبے میں موجودہ سال ، شارٹ ٹرم ، میڈیم ٹرم اور لانگ ٹرم اہداف شامل ہیں ۔ اجلاس کو منصوبے کے حوالے سے مستقبل کے لائحہ عمل جس میں اگلے فیز کیلئے انشورنس فرم کی پروکیورمنٹ ، سرکاری اہلکاروں کی انشورنس ، قانون سازی ، CMIS کا قیام اور اس میں نادرا کے کردار، پی ایم یو ہیلتھ کی توسیع اور اس میں خالی آسامیوں پر بھرتیاں ، خود مختار مینجمنٹ سٹرکچر اور دفتر کیلئے موزوں جگہ کی فراہمی پر بھی تفصیلی بریفینگ دی گئی ۔
<><><><><><>
محمود خان نے خیبر پختونخوا کے سرکاری اسکولوں میں داخلہ مہم 2019 کا باقاعدہ افتتاح کر دیا۔
پشاور(چترال ٹائمزرپورٹ ) وزیراعلی خیبرپختونخوا محمود خان نے خیبر پختونخوا کے سرکاری اسکولوں میں داخلہ مہم 2019 کا باقاعدہ افتتاح کر دیا۔ داخلہ مہم کی تقریب ضم شدہ قبائلی ضلع خیبر کے شہید عبدالاعظم آفریدی ہائیر سیکنڈری سکول میں منعقد ہوئی جس میں وفاقی وزیر برائے مذہبی امور ڈاکٹر نور الحق قادری، وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود، مشیر تعلیم خیبر پختونخوا ضیاء اللہ بنگش اور مشیر برائے قبائلی اضلاع اجمل خان وزیر بھی موجود تھے۔ وزیراعلیٰ نے داخلہ مہم کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آئین پاکستان کے آرٹیکل 25(A) کے تحت 8سے لیکر16 سال تک کے بچوں کو مفت تعلیم کی فراہمی حکومت کی ذمہ داری ہے۔اس سال داخلہ مہم میں آٹھ لاکھ بچوں کے داخلے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔اس موقع پر وزیراعلیٰ محمود خان کا کہنا تھا کہ قوم کے بچوں کو بہترین اور معیاری تعلیم فراہم کریں گے اور داخلہ مہم کا جائزہ لینے کے لئے خیبر پختونخوا کے دیگر علاقوں کا خود دورہ کروں گا اوراس سلسلے میں ایجوکیشن آفسران سے باقاعدہ بریفنگ بھی لی جائے گی۔ وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ منتخب بلدیاتی نمائندگان، علاقہ مشران اپنے اپنے علاقے میں تمام بچوں کا داخلہ یقینی بنائے اور محکمہ تعلیم کے افسران اور اساتذہ کے ساتھ مل کر اس قومی مہم کو کامیاب بنائیں۔ وزیر اعلی نے کہا کہ جن بچوں کے والدین ان کوسکول میں داخل نہیں کرواتے میں خود ان کو اسکول میں داخل کراؤں گا۔ انہوں نے محکمہ تعلیم کے حکام کوہدایات جاری کیں کہ دور دراز علاقوں میں ڈیوٹی انجام دینے والے اساتذہ کے لیے الاؤنس اور دیگر مراعات کے لیے جامع حکمت عملی تیار کی جائے تاکہ اساتذہ اپنی ڈیوٹی احسن انداز میں سرانجام دے سکیں اور ڈیوٹی سے غفلت اور کوتاہی برتنے والوں کو قانون کے تحت قرار واقعی سزا دی جائے گی۔ وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ نئے ضم شدہ اضلاع کی تعمیر و ترقی کے لئے علاقے کے عوام کے ساتھ مل کر اقدامات اٹھائے جائیں گے اور قبائلی عوام کی رائے کو اہمیت دی جائے گی۔ اس موقع پر مشیر تعلیم خیبر پختونخوا ضیاء اللہ بنگش نے کہا کہ اب تک قبائلی اضلاع کے لیے 2400 پوسٹوں کی تشہیر کی جا چکی ہے جس پر جلد ہی بھرتیاں کی جائیں گی اور وزیر اعلی محمود خان نے مزید 4000 پوسٹوں کی منظوری بھی دے دی ہے۔ دریں اثناء وزیر اعلی محمود خان نے7.7 کلومیٹر طویل جمرودبائی پاس روڈ کا افتتاح بھی کیا جس پر 966 ملین روپے لاگت آئے گی۔جلسے سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے تعلیم شفقت محمود نے کہا کہ وفاقی حکومت ملک سے ناخواندگی کے خاتمے کیلئے برسر پیکار ہے ۔ قبائلی ضلع خیبرسے داخلہ مہم کا آغاز اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت نئے ضم شدہ قبائلی اضلاع کی ترقی اور خوشحالی ہر قیمت پر ممکن بنائے گی ۔ وفاقی وزیر برائے مذہبی اُمور نورالحق قادری نے بھی جلسے سے خطاب کیا۔ انہوں نے بھی تعلیم کی اہمیت اور افادیت پر زور دیا ۔ انہوں نے کہاکہ قبائلی عوام تیز تر ترقی کیلئے اپنے بچوں اور نوجوانوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کریں اور صوبائی حکومت کی قبائلی اضلاع میں داخلہ مہم کا میاب بنائیں ۔ وزیراعلیٰ کے مشیر برائے ضم شدہ اضلاع و صوبائی حکومت کے ترجمان اجمل وزیر نے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قبائلی اضلاع کے لوگوں کی محرومیاں دور کرنے کا وقت آگیا ہے ۔ اُنہوں نے کہاکہ قبائلی اضلاع کے نوجوانوں کو ہر حال میں تعلیم جیسے زیور سے آراستہ کیا جائے گا۔قبائلی اضلاع کے عوام کی ماضی کے حکمرانوں نے استحصال کیا ہے جس سے ان کی محرومیاں بڑھی تھیں ۔ اب قبائلی اضلاع کے عوام تعلیم کے حصول سے ترقی کی راہ پر گامزن ہو ں گے ۔ تعلیم کے حصول سے کوئی بھی اب ان کا حق نہیں مار سکے گا کیونکہ ایک تعلیم یافتہ معاشرہ اپنا استحصال نہیں ہونے دیتا ۔ بغیر تعلیم کے ہمارے بچوں کا مستقبل روشن نہیں ہو سکتا ۔ اسلئے قبائلی اضلاع کے عوام نے صوبائی حکومت کے اس داخلہ مہم میں بھر پور حصہ لینا ہے اور اس کو ہر حال میں کامیاب کرانا ہے۔


شیئر کریں: